پیر , 24 جنوری 2022

“نارملائزیشن” عرب منڈی میں اماراتی تجارت کے لیے اسرائیلی پھل

عربوں اور صیہونی حکومت کے درمیان مفاہمت کے عمل کی بے تابی سے پیروی کرنے والے کسی شخص نے بھی نہیں سوچا تھا کہ متحدہ عرب امارات سمجھوتے کے اس مرحلے تک پہنچ جائے گا۔ کچھ لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ ابوظہبی نے اس حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے عمل میں ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جو مصر نے چالیس سالوں میں اختیار نہیں کیا۔
ہمیں متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کے درمیان سمجھوتے کے طول و عرض اور تمام حکومتی رگوں میں اس کے اثر و رسوخ اور اس ملک کے چھوٹے سے چھوٹے سرکاری مسائل میں بھی مداخلت کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم صرف اتنا کہیں گے کہ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سمجھوتہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اماراتی حکمران محمد بن زید کے ساتھ رابطے سے برسوں پہلے کیا جا چکا تھا اور سمجھوتہ کا مسئلہ ٹرمپ نے اٹھایا تھا اور اس کا اعلان ابھی ہونا چاہیے تھا۔
کچھ لوگ متحدہ عرب امارات کے اقدامات اور تدابیر جو اس سازش کے عام ہونے کا نتیجہ بنی کو ایک زیرکانہ اور چالاکی پر مبنی اقدام سمجھتے ہیں۔ لیکن بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا ماسٹر مائنڈ اور مغز متفکر “اسرائیل” تھا اور صرف متحدہ عرب امارات نے ان پر عمل درآمد کیا۔
یہاں سے ہم یمن، سوڈان، لیبیا، تیونس، حتیٰ کہ ایتھوپیا سے لے کر شام اور لبنان میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی ایک مکمل اور جامع تصویر حاصل کر سکتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردن نے متحدہ عرب امارات کی نگرانی اور سرمایہ کاری میں صیہونی حکومت کے ساتھ پانی اور بجلی کے تبادلے کا معاہدہ کیا۔
یہ بات شروع سے ہی واضح تھی کہ سمجھوتہ کرنے والے ممالک کے رہنماؤں کے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ اور اقتدار میں ان کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے سمجھوتہ کیا جائے گا۔ یہ حکمت عملی اردن کے معاملے میں نافذ کی گئی تھی، جس نے برسوں پہلے سمجھوتہ کیا تھا۔ اس ملک میں پانی کے بحران کو بہانہ بنا کر عمان کو ایک گہرے سمجھوتے تک پہنچانے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
یہ حکمت عملی مراکش کے معاملے میں بھی عمل میں لائی گئی اور یہ ملک الجزائر کا مقابلہ کرنے کے لیے صیہونی حکومت کے تیر کی نوک بن گیا جبکہ مراکش ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا تھا۔
لیکن توانائی اور دفاعی تعاون کا تبادلہ اس معاملے کی ظاہری شکل ہے۔ درحقیقت، عمان اور رباط مسجد اقصیٰ کی گورنری کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ اس وقت اردن کے بادشاہ کے کنٹرول میں ہے کیونکہ وہ ہاشمی ہے۔ جبکہ مراکش کا بادشاہ بھی اپنے آپ کو ہاشمی تصور کرتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ پردے کے پیچھے سعودی عرب کی حمایت سے اردن کے بادشاہ سے مقابلہ کر رہا ہے۔
اس سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا مقصد صیہونی حکومت کے مفادات کی بنیاد پر عرب دنیا میں مصالحتی عمل کی قیادت کرنا ہے۔خطے کے موجودہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر عرب اداکار وہ لوگ ہیں جو صیہونی حکومت کو مختلف طریقوں سے پیسے اور سیاست سے مضبوط کرتے ہیں اور متحدہ عرب امارات بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ لہذا یہ سمجھوتہ ایک زہریلا پھل ہے جو صیہونی حکومت نے خطے میں برآمد کیا ہے اور عرب امارات اس کے ساتھ عرب دنیا کی منڈی میں تجارت کر رہا ہے۔

بشکریہ ابنا نیوز ایجنسی

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …