پیر , 24 جنوری 2022

اسرائیلی فوج غزہ میں مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات کی تحقیقات میں ناکام

غزہ: انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

غزہ اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق عملی طور پر کسی اسرائیلی فوجی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ ملٹری پراسیکیوٹرز کو منتقل کیے گئے 143 میں سے 95 کیسز بغیر کارروائی کے ہی بند کردیے گئے۔

ذرائع کے مطابق صرف ایک کیس میں اسرائیلی فوجی کو اختیارات کے غلط استعمال کا مجرم قرار دیا گیا جبکہ 18 ماہ کے مظاہروں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں 215 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔

غزہ انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق شہید ہونے والے افراد میں 18 سال سے کم عمر 47 افراد اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے 13 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے اور 18ہزار براہ راست فائرنگ کی زد میں آئے۔ واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت غزہ میں 2014 کے بعد سے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کررہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …