پیر , 24 جنوری 2022

مسلمان پسماند ہ کیوں؟

تحریر: جمیل مرغز

جس طرح ہمارے دائیں بازو کے دانشور اور علمائے کرام، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ’’تہذیبوں کی لڑائی‘‘ قرار دے رہے ہیں‘اسی طر ح سامراجی دانشور بھی اس طبقاتی اور لوٹ مارکی جنگ کو تہذیبوں یا ’’ اسلام اور عیسائیت ‘‘کی جنگ ثابت کر رہے ہیں ‘اور اس کی آڑ میں مسلمان ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر بہانے بناکر وسائل لوٹ رہے ہیں۔

امریکی سامراج اور خاص کر اس کے مذہبی انتہا پسندنیو کانز(neo-conservative) حصے اور عالمی سطح پر ان کے غیر محسوس اتحادیوں’’ القاعدہ‘داعش اور دیگر عیسائی اور مسلمان انتہا پسند تنظیموں کی مسلسل یہ کو شش ہے کہ 1995میں لکھی گئی امریکی تاریخ دان سیموئیل پی ہنٹگٹن کی کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ (Clash of Civilization) کے مندرجات کو صحیح ثابت کیا جائے۔

اس کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ سوشلسٹ کیمپ کے خاتمے کے بعدسرمایہ دار اور غریب کے درمیان جنگ ختم ہوگئی ہے،اب د نیا ایک نئی جنگ کے دور میں داخل ہورہی ہے ‘یہ ’’ جنگ اب تہذیبوں کے درمیان ہوگی‘ ‘اب مغربی تہذیب جو ایک ترقی یافتہ اور سیکولر تہذیب ہے, کا مقابلہ پسماندہ تہذیبوں کے ساتھ ہوگا ‘پسماندہ تہذیبوں میں سب سے طاقتور تہذیب مسلمانوں کی ہے۔
اس لیے اب مقابلہ مغربی تہذیب اور مسلم تہذیب کے درمیان ہوگا‘اس کے بعد امریکی سیاست میں نیو کانز نے ریپبلیکن پارٹی کی حمایت میں سرگرمیاں تیز کیں اور بش سینئر اور بش جونیئر کی زمانہ صدارت میں ان کا عروج رہا ‘ٹرمپ بھی اسی پالیسی پر کاربند  ر ہے۔

القاعدہ ‘داعش ‘ طالبان اور ان کے اتحادی دوسرے انتہا پسند تنظیموں کو سوشلزم کے خلاف استعمال کرنے کے بعد اب انھیں ہی مغربی تہذیب کا دشمن ثابت کیا جا رہا ہے ‘سوشلسٹ کیمپ کے خلاف ان تنظیموں نے سرمایہ دار ملکوں کا پورا ساتھ دیا اور بد قسمتی سے اب دین اسلام کو مسخ کرنے میں بھی یہ تنظیمیں کارگر ثابت ہورہی ہیں اور امریکا اور مغربی ممالک ان کی حرکتوں کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر اپنے سادہ لوح عوام کو مسلمانوں سے بدظن کررہا ہے ۔

ان سب حربوں اورپروپیگنڈوں کے باوجود سامراج اب تک یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ واقعی عالمی سطح پر تہذیبوں کا تصادم شروع ہوچکا ہے۔ ‘ہر زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا میں آج بھی طبقاتی جنگ جاری ہے ‘عالمی سطح پر سرمایہ دار اور ترقیاتی یافتہ ممالک آج بھی غریب ممالک کے استحصال کے ذریعے اپنی دولت بڑھا رہے ہیں‘ لاکھوں سال کی تاریخ یہ بات ثابت کر رہی ہے کہ اصل میں جنگ وسائل پر قابض طبقوں اور وسائل سے محروم طبقات کے درمیان ہے ‘آج بھی عالمی سامراجی پالیسیوں کے ذریعے امیر ممالک امیر تر اور غریب ممالک غریب تر اور اسی طرح مالدار طبقے مالدار تر اور غریب طبقے غریب تر ہو رہے ہیں۔اب تو پوپ نے بھی سرمایہ داری نظام کو رد کردیا ہے ‘اس نظام سرمایہ پرستی کو ختم کیے بغیر نہ کرپشن ختم ہوگی اور نہ غربت اور جرائم‘سپریم کورٹ اور نیب بھی کچھ نہیں کرسکتے۔میرا یقین ہے کہ ظلم کا نظام جلد ختم ہوگا کیونکہ انسانوں کے مسائل کا حل اس نظام کے پاس نہیں ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان پسماندہ اور غریب کیوں ہیں؟۔ ہمیں بار بار بتایاجاتا ہے کہ ہم اس لیے پسماندہ اور غریب ہیں کہ ہم نے اسلامی راستہ چھوڑ کر مغربی تہذیب اختیارکرلی ہے ‘اب حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک جن کے قرض کے سہارے ہمارے ملک کی معیشت چلتی ہے‘جن کی ایجادات کی وجہ سے ہم دعوے کرتے ہیں کہ ہم مہذب اور ماڈرن لوگ ہیں اور یہ ایجادات ساری دنیا استعمال کر تی ہے‘جن کے جہاز‘ ہواؤں ورسمندروں پر راج کرتے ہیں‘وہ تو بے راہ روی‘ فحاشی‘ بے حیائی ‘بے شرمی وغیرہ کے گڑھ ہیں‘جہاں شراب‘شباب ‘بے حجاب ‘ہم جنس پرستی وغیرہ کے بدبودار گٹر ہیں‘ہماری حالت یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی اور روزی کے لیے بھی ہر کوئی ادھر ہی لپک رہا ہے ‘آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کون سچ بول رہا ہے۔ ایجادات ‘ دریافتیں اور علوم جیسی انسان دوست چیزیں بھی ان کی اور گناہ کے ادارے شراب خانے ‘جوئے خانے اور شباب خانے بھی ان کے‘ ہم پاک صاف بہترین مسلمان 74سال بعد بھی صرف لنگر خانے کھول رہے ہیں۔کیا ہم لاجواب نہیں ہیں؟

ہمارے لیے لا ینحل مسئلہ یہ ہے کہ سارے شمس العلماء یعنی علم کے سورج‘بڑے بڑے بزرگ‘ پیر فقیر ‘ توہمارے پاس ہیں‘سارے حکمت کے چاند بھی ہمارے‘ یعنی دنیا بھر کے ’’علم و حکمت ‘‘کے اجارہ دارتوہم ‘اپنے ماضی پر فخر بھی ہم کریں ‘لیکن ہر اچھی شے کی پیداوار کے مراکز سرزمین کفر پر‘ حیرت ہوتی ہے کہ جن معاشروں میں عریانی‘اور فحاشی عروج پر ‘وہی زندگی کے ہر میدان میں عروج پر ہیں‘وہی ورلڈ لیڈر اور سپر پاورز میں مدتوں سے شامل ہیں‘اب توامریکا آیندہ کسی آسمانی تباہی سے زمین کو بچانے کے لیے مشن (DART MISSION) بھی بھیج رہا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟۔

دنیا کی وہ کون سی خباثت ہے جو وہاں موجود نہیں لیکن کیسا عجیب اتفاق ہے کہ قیادت ‘عزت‘ دولت‘ انصاف‘میرٹ‘طاقت‘تعمیر ‘ایجاد‘اختراع وغیرہ بھی وہیں موجود ہیں‘ہم تو شاعری میں ہی ستاروں پر کمند یں ڈال کر خوش ہوتے ہیں‘جب کہ امریکا نے خلائی جہازوں کے بعد خلائی فورس بنائی اور اب خلاء میں (DART MISSION) کے نام سے سیارہ بھیجا ہے ‘اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی سیارہ زمین کی طرف آئے تو ٹکرانے سے قبل اس کا رخ تبدیل کیا جا سکے جب کہ شراب خانوں ‘جوا خانوں ‘قحبہ خانوں سے پاک پاکستان میں آئے دن ‘اک نئی پالیسی‘نئی حکمت عملی ‘نہ سر نہ پیر‘۔ایک اور مسئلہ بھی ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے ‘ہمارے علماء کرام ہروقت امریکا کے زوال کے انتظار میں رہتے ہیں اگر ہم فرض کرلیں کہ ایسا ہو گیا ‘کوئی روس‘کوئی چین سپر پاور بن گیا تو ہمارے پلے کیا ہوگا؟کوئی آئے کوئی جائے۔ ہماری مثال میراثی کے اس بیٹے جیسی ہے جس کو باپ نے کہا تھا کہ ’’بیٹا سارا پنڈ بھی مر جائے تو پھر بھی تجھے چودھراہٹ نہیں ملے گی‘خواہ مخواہ ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کے مصداق ناچ رہے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ خراٹوں اورخوابوں سے جان چھڑا کر دماغ پر زور ڈالیں اور اس ملک کے شہہ دماغ فکری دیانتداری سے یہ سوچیں کہ کہیں ایساتونہیں کہ عہدحاضر میں عروج و زوال کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ہمارا اصل مسئلہ اپنے زوال کے حقیقی اسباب ڈھونڈ کر ان کا سد باب کرنا ہے۔ ’’علم حاصل کرو چاہے چین بھی جانا پڑے‘‘۔اب توجانے کی بات ختم خود چین چل کر ہمارے پاس آیا ہے ‘اسے آسامی سمجھنے کے بجائے اس سے علم حاصل کرو۔ ہمارے صاحب علم اس قوم پر رحم کھاکر اس کی بہتر رہنمائی کریں گے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …