پیر , 24 جنوری 2022

امریکہ کی سیاسی تنہائی

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے علیحدگی کی وجہ سے امریکہ عالمی برادری میں الگ تھلگ اور تنہا ہوگیا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ایرانی جوہری مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکلنے کے بعد واشنگٹن کی تنہائی کا اعتراف درحقیقت اس حقیقت کا اعتراف ہے، جس کی سابق امریکی انتظامیہ(ٹرمپ انتظامیہ) نے ہمیشہ تردید کی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ عالمی جوہری معاہدے کو واشنگٹن کے لیے بدترین ممکنہ معاہدہ سمجھا اور بالآخر 8 مئی 2018ء کو اس معاہدے سے امریکی دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ ایران سے غیر قانونی مطالبات تسلیم کروانے کے لیے، ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم شروع کی اور غیر معمولی پابندیاں عائد کیں۔ ٹرمپ کا ہدف ایران کو امریکہ کی جانب سے مقرر کردہ 12 شرائط کے تابع کرنا تھا، جن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو معطل کرنا اور ایران کی میزائل صلاحیت اور علاقائی پالیسیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔

گذشتہ تین سالوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کے تسلسل کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں امریکہ کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ وسیع پیمانے پر پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ملکی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مزاحمت کی پالیسی اپناتے ہوئے، ایران نے ان پابندیوں کو روکنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ دریں اثناء عالمی معاہدے سے امریکی انخلاء کو P5+1 گروپ کے دیگر اراکین نے تنقید کا نشانہ بنایا، جو معاہدے سے امریکی انخلاء کے بعد پی 4 پلس ون گروپ بن گیا۔ یہاں تک کہ واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں نے بھی عالمی معاہدے اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا، لیکن ایران کے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے بالآخر واشنگٹن کو ایران کے ساتھ معاملات میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

واشنگٹن کے دعووں اور مبالغہ آرائیوں کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اختتام پر ان کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے اپنے کوئی بھی اہداف حاصل نہیں کرسکی اور یہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار تھامس فریڈمین نے اخبار کے ایک آرٹیکل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018ء میں جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیا، جو ان کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور اس وقت کے صدر کے زور پر کیا گیا تھا۔ سابق صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اس معاہدے کے بارے کہنا تھا کہ یہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں امریکی قومی سلامتی کے سب سے احمقانہ، لاپرواہ اور نقصان دہ فیصلوں میں سے ایک تھا۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے حکام نے بارہا ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی ناکامی پر زور دینے کے باوجود اس ناکام پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے، تاکہ تہران کو جوہری معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن کے مطالبات اور شرائط کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ بائیڈن انتظامیہ نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی واپسی کو تہران کی کارروائی سے مشروط کر دیا ہے۔ امریکی حکام، بشمول سیکرٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن، ایران اور P5+1 کے درمیان ویانا مذاکرات کے ساتویں دور کے دوران بے چین نظر آرہے ہیں اور مسلسل اس جوہری معاہدے کے متبادل کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تاہم ایران کا جائز اور منطقی مطالبہ امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ، پابندیوں کے خاتمہ کی تصدیق اور بالآخر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی ذمہ داریوں کو دوبارہ پورا کرنا ہے. اسی تناظر میں ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلیٰ مذاکرات کار علی باقری کنی نے کہا ہے کہ تہران پرامن ایٹمی سرگرمیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلیٰ مذاکرات کار علی باقری کنی کا کہنا تھا کہ پچھلے چھے دور کے ویانا مذاکرات کے دوران امریکہ نے دو اصولوں، ضمانتوں کی فراہمی اور پابندیوں کے خاتمے کی جانچ پڑتال کو تسلیم کر لیا تھا۔ علی باقری کنی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایٹمی معاہدے کے تحت ہٹائی گئی وہ تمام پابندیاں جو دوبارہ عائد کی گئیں ہیں اور اسی طرح امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت ایران کے خلاف عائد کی جانے والی ساری پابندیاں فوری طور پر ہٹائی جائیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلیٰ مذاکرات کار نے بتایا کہ تہران نے ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں۔ علی باقری کنی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران نے تجاویز پیش کرکے اچھے معاہدے کے حصول کے بارے میں اپنے عزم کا اظہار کر دیا ہے، اب دیگر فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ ہماری تجاویز کا جواب دیں۔ البتہ ان کا جواب شواہد اور دلائل پر مبنی ہونا چاہیئے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے واضح کیا کہ ہم نے جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ سن دو ہزار پندرہ میں ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے یا جے سی پی او اے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔ علی باقری کنی نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ایٹمی معاہدے سے نکل جانے والا ملک آج اس میں واپسی کا خواہاں ہے اور دراصل ایٹمی معاہدے میں باقی رکن ممالک بھی اس معاہدے کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلی مذاکرات کار نے آئی اے ای اے کی تازہ رپورٹ اور یورینیم کی نوے فی صد افزودگی سے متعلق کیے جانے والے بعض دعووں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نوے فیصد افروزدگی کی خبریں صیہونی ذرائع ابلاغ نے پھیلائی ہیں، جن کی آئی اے ای اے کے اعلیٰ ترین عہدیدار یعنی خود ڈائریکٹر جنرل نے فوراً ہی تردید کر دی تھی۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے اس سوال کے جواب میں کہ اگر اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر لیا تو کیا ہوگا، علی باقری کنی نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ صیہونیوں کو ایران پر حملے کا خواب ضرور دیکھنا چاہیے، البتہ اگر وہ اس خواب میں ڈوب گئے تو ہمیشہ کے لیے سو جائیں گے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …