پیر , 24 جنوری 2022

نیوم شہر جو خطے کو بدل دے گا!

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

نیوم (Neom) ایک تجارتی اور صنعتی شہر، جو سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے عالمی سطح پر منفرد ہے۔ یہ شہر تین ملکوں کو متصل کرے گا اور اس کی سرحدیں مصر اور اردن تک پھیلی ہوئی ہوں گی!

صہیونی ریاست کے سابق سربراہ شمعون پیریز کی کتاب "جدید مشرق وسطی” (The New Middle East) سنہ 1996ع‍ میں شائع ہوئی۔ ایک سادہ سی کتاب جو افکار اور تجاویز کا ایک مجموعہ نہیں سمجھی جاتی، اور اس کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ یہ صہیونی ریاست کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک عملی اور مرحلہ وار منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ کتاب یہودی ریاست کے لئے پیریز کے خیالات اور اقدامات کی پیروی کرتی ہے اور اس کے مستقبل کے اقدامات کی پیشین گوئی کے لیے مفید ہے۔
یہودی ریاست کی جانب سے پیریز پروجیکٹ کے نفاذ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ منصوبہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر، خیالات اور تجزیے پر مشتمل ہے۔ یہ منصوبوں کی طرح تین عناصر یعنی "وقت، خلا اور مقدار” (time, vacuum and quantity) پر مبنی نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عناصر ٹیکنالوجی کی ترقی اور بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کے ساتھ نہیں ہیں اور اپنی تاثیر کھو چکے ہیں۔
میزائلوں کی تیز رفتاری اور بہت کم وقت میں طویل فاصلے طے کرنے کی وجہ سے ٹائم فیکٹر نے اپنی غیر عدم کفایت (Inefficiency) ثابت کرکے دکھائی ہے۔ اور خلاء سازی (Vacuum making factor) کے عنصر کی افادیت بھی اس وقت ختم ہوئی جب میزائلوں نے قدرتی رکاوٹوں کی افادیت کا خاتمہ کیا۔

میزائل اور کمیت کے لحاظ سے بھی، مذکورہ میزائل بھاری مقدار میں ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان سے سبقت لے چکے ہیں۔ اور یوں یہودی ریاست کی تزویراتی گہرائی سے متعلق نظریات باطل ہوچکے ہیں۔
صہیونی ریاست کی استعماری پالیسیوں میں اصلاح کی ضرورت نے شمعون پیریز کے منصوبے کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ اسی منصوبے نے اس خیال کو ہمارے نزدیک دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ صہیونی ریاست عرب عظیم تر مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبے کے نفاذ کے کی خواہاں ہے۔

اقتصادیات، صہیونی ریاست کا متبادل طریقہ کار
جو لوگ شمعون پیریز کی کتاب اور اس کے افکار کا بغور مطالعہ کرتے ہیں، اس کے نقطہ ہائے کار اور افکار کی سمت بندی کا ادراک کرسکتے ہیں، جو کہ اس کے قومی، مذہبی اور حتی کہ قوم پرستانہ نقطہ ہائے نظر کا ایک مجموعہ ہے۔ البتہ یہ اعتقادات و نظریات اقتصادی مفادات اور خوشحالی اور غربت کی بیخ کنی کی فضا میں ہضم ہوکر رہ جاتے ہیں، اور اقتصادی عنصر صرف عرب-اسرائیل مصالحت کی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے۔
عرب ممالک کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے چلنے والی موجودہ تشہیری اور سرکاری توجیہات کی پیروی اسی وجہ سے کی جارہی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ صہیونی ریاست وسیع کوششیں کر رہی ہے کہ معاشرے میں مصلحت پسندانہ نظریات کو مذہبی نقطہ نظر کے متبادل کے طور پر متعارف کرا دے۔
شمعون پیریز غاصب صہیونی ریاست کے بانیوں کے حلقے کا آخری فرد تھا جو 67 تک اس ریاست کی سیاست میں سرگرم عمل رہا اور بہت سے صہیونی جرائم کا باعث و بانی رہا۔

 

شمعون پیریز کے منصوبے اور ان کے نفاذ کے مراحل
یہاں عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے شمعون پیریز کے تجویز کردہ متعدد منصوبوں اور خطے میں موجودہ تبدیلیوں کے ساتھ اس نقطہ نظر کے تعلق کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا منصوبہ
پیریز ایسے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے بین الاقوامی کنسورشیمز کی تشکیل کی بات کررہا ہے جن کے لئے خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ ان سرمایہ کاریوں کو خطے میں متعلقہ ممالک کی موجودگی میں انجام پانا چاہئے اور بعض فریق اور بعض متعلقہ دھارے بھی ان منصوبوں کے شراکت دار ہوں گے۔ ان منصوبوں میں متذکرہ بعض نمونوں میں سے "بحیرہ احمر – بحر المیت” کے درمیان نہر کے منصوبے کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جو اس نہر کے اطراف میں آزاد تجارت اور سیاحت کی ترقی پر مشتمل ہے۔ صہیونی-اردن-سعودی مشترکہ بندرگاہ کی تعمیر، برقابی توانائی (Hydroelectric Energy) اور پانی صاف کرنے کے منصوبے، شمعون پیریز کے دیگر منصوبوں میں شامل ہیں۔ یہاں پیریز کی تحریر کے اس حصے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے: "ہم اس پروگرام کو بحیرہ احمر سے شروع کر سکتے ہیں، بحیرہ احمر کے دونوں طرف کے حالات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی ہے اور مصر، سوڈان اور اریٹیریا ان ساحلوں کے ایک حصے پر واقع ہیں اور دوسری طرف اسرائیل، اردن اور سعودی عرب ہیں۔ ان تمام ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ اب ان کے درمیان تصادم کی کوئی وجہ باقی نہیں ہے۔ ایتھوپیا اور اریٹیریا اسرائیل سمیت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے درپے ہیں اور مصر نے اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے۔ اردن، سعودی عرب اور یمن بھی خطے میں جہاز رانی اور ماہی گیری اور حقوق پرواز (Flight rights) کے خواہاں ہیں”۔

ظاہرا صہیونی ریاست کے لئے خود اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ اسے ایک ٹھیکیدار کی ضرورت تھی!

پیریز کے منصوبوں پر عملدرآمد کا ٹھیکیدار محمد بن سلمان سعودی
سعودی عرب نے حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر 500 ارب ڈالر کی لاگت سے نیوم (Neom) نامی جدید شہر تعمیر کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے اور اسے اپنے اقتصادی وسائل کو بڑھانے کے لئے ایک بہت بڑا، قوم پرستانہ منصوبہ قرار دیا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ یہ شہر 26,500 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہوگا اور اسے نیوم سٹی کے نام سے جانا جائے گا، اور اس میں مختلف صنعتیں شامل ہوں گی جیسے توانائی، پانی سے متعلق صنعتیں اور اور اہم ٹیکنالوجیاں اور خوراک اور جدید صنعتیں اور فلاحی سہولیات۔

سعودی "بن سلمان” یہودیوں کا ٹھیکیدار بن گیا
سعودی ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق، یہ تجارتی اور صنعتی شہر سعودی عرب کے شمال مغرب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہوا ہے اور یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دنیا کا پہلا اور منفرد علاقہ ہوگا؛ جو تین ممالک کو ایک دوسرے سے متصل کرتا ہے اور اس کی حدود سعودی عرب سے اردن اور مصر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ صنعتی شہر بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ کے ساتھ سمندری بحری تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے جو نہر سوئیز سے جڑے ہوئے ہیں۔
محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اس خطے کی توانائی، ہوا اور شمسی توانائی کو بروئے کار لا کر فراہم کی جائے گی۔
[کسی عرب اخبار نے نہیں بلکہ ایک] صہیونی اخبار "یروشلم پوسٹ” نے حال ہی میں اس منصوبے میں ایک یہودی ریاست کے کردار کو بر ملا کیا ہے اور لکھا ہے کہ "سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صہیونی علاقے ایلات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر 500 ارب ڈالر کے اپنے ہوشیار شہر (Smart City) منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقتصادی منطقہ (ٍEconomic Zone) اردن اور مصر کے درمیان مشترکہ علاقہ ہے تاہم اس نے تیسری ریاست "یعنی اسرائیل” کا نام نہیں لیا۔”
اس صہیونی اخبار نے مذکورہ یہودی-سعودی منصوبے کو یہودی ریاست کے خلاف کئی عشروں سے جاری عرب لیگ کی پابندیوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا اور لکھا کہ "یہ اسمارٹ سٹی شمسی توانائی، پانی اور ماحولیاتی اور روبوٹ ٹیکنالوجی اور غذائی صنعت سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کی حامل کمپنیوں کا میزبان ہوگا اور یہ تمام شعبے وہی ہیں جن میں کردار ادا کرنے کے لئے اسرائیلی کمپنیوں کی صلاحیت اور طاقت عربی کمپنیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

صہیونی کمپنیاں، مذکورہ منصوبے کی حساسیت کی بنا پر 230 ارب ڈالر کے سعودی فنڈ سے اپنے تعلق کی تفصیلات کو صیغۂ راز میں رکھنے پر مجبور ہیں۔

سعودی سرکاری سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کی طرف رغبت نہیں رکھتے اور اگر یہ مسئلہ صہیونی ریاست کی طرف سے نجی سرمایہ کاری کمپنیوں کے سرمائے کے حوالے سے سرکاری سطح پر اٹھایا جائے تو پانی، توانائی، زرعی ٹیکنالوجی اور غذائی صنعت کے شعبوں میں ہر قسم کا تعاون بہت آسان ہو جائے گا۔

نیوم سٹی منصوبے کے لئے 500 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط
صہیونی اخبار مزید لکھتا ہے: ہم عرب سفارتکاروں اور اسرائیلی کمپنیوں کے درمیان خط و کتابت کے عینی گواہ ہیں؛ معاشی تعاون کے سلسلے میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور بعض اسرائیلی کمپنیوں نے سائبر سیکورٹی میں کام آنے والی بعض مصنوعات سعودیوں کو فروخت کی ہیں۔
نیز سعودی اسمارٹ سٹی کی مکمل اور صحیح تفصیلات ایک صہیونی تاجر کے پاس ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کمپنیاں اعلانیہ طور پر اس منصوبے میں مصروف بہ کار ہوسکتی ہیں؛ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات میں سفارتی دراڑ کی صورت میں اسرائیلی ریاست اس منصوبے کے سلسلے میں اعلانیہ طور پر سعودی عرب، اردن اور مصر کے ساتھ تعاون کا آغاز کرسکتا ہے۔

مسقبل کے اقدامات

صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں شمعون پیریز پروجیکٹ اور محمد بن سلمان اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے درمیان واضح مماثلت واضح ہوجانے کے بعد، عرب ممالک کی رائے عامہ زمانہ حال اور مستقبل قریب میں صہیونی ریاست کے ساتھ "تعلقات معمول لانے کے عمل” کے مرکزی نقاط (Pivots) کے آثار و تفصیلات کو دیکھ سکتی ہے۔
پیریز نے اپنے منصوبے میں کہا کہ "عرب حکومتوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کیسے کیا جائے۔ "پیریز نے اپنے منصوبے میں عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے آغاز کی کیفیت کے بارے میں لکھتا ہے: معمول کے پہلے مرحلے کے لئے، ہم اپنی توجہ انسانی مسائل پر مرکوز کر سکتے ہیں؛ جیسے کہ سمندری اور فضائی امدادی کارروائیوں میں تعاون اور بحری اور بری مشقوں سے خبردار رہنے کے لئے مواصلاتی نیٹ ورک کا قیام۔ نیز اس نقطۂ نظر کو – مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں اور غذائی و سمندری وسائل کی ترقی کے واسطے سے علاقائی نظامات کو تحفظ دے کر نیز سیاحت – کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسی صورت میں عربوں اور اسرائیل کے تزویراتی اتحاد کے قیام پر پیشرفتہ مراحل میں، غور کیا جاسکتا ہے”۔

سعودی عرب اور مقبوضہ علاقوں کے حوالے سے بحیرہ احمر کی پوزیشن
مقبوضہ بیت المقدس میں "غزہ پراجیکٹ” پر عمل درآمد!
شمعون پیریز نے اپنی کتاب میں ایک مرحلہ وار منصوبے کا انکشاف کیا ہے اسرائیلیوں کے مذاکرات کی کیفیت کو فاش کرتے ہوئے لکھا ہے: "غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک تمہیدی مرحلہ ہے اور انتہائی مرحلہ نہیں ہے اور اسرائیل چاہتا ہے کہ جو چاہے کر گذرے؛ اور آخر کار کچھ اس طرح سے اداکاری کرے کہ گویا عرب کامیاب رہے ہیں”۔ (1)
جو منصوبہ شمعون پیریز نے غزہ کے بارے میں پیش کیا ہے جو ہمیں ابو دیس (2) کی یاد دلاتا ہے جس کا نام قدس کے متبادل کے طور پر [فلسطینی دارالحکومت کے طور پر] پیش کیا گیا۔
شمعون پیریز نے جو مذاکراتی حکمت عملی اور نظریات پیش کئے ہیں ان سے ضمنی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ القدس کے معاملے میں صہیونی ریاست کے ساتھ مفاہمت کے لئے فلسطینیوں پر دباؤ برقرار رہے گا اور کوشش کی جائے گی کہ القدس کے معاملے میں مذاکرات کے اگلے مراحل کو ملتوی کیا جائے اور مسجد الاقصیٰ کو فلسطینیوں کی عبادت کے لئے کھلا رکھا جائے۔
دریں اثناء شائع شدہ خبروں اور سرکاری رپورٹوں کے مطابق، ابودیس کو فلسطینی دارالحکومت "قدس” کے متبادل کے طور متعین کرنے کی ذلیلانہ تجویز سعودی ریاست نے دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سنہ 2006 میں حزب اللہ کے ہاتھوں اور اس کے بعد کم از کم 4 مرتبہ غزہ کے مجاہدین کے ہاتھوں صہیونی ریاست کی عبرتناک شکست، در حقیقت شمعون پیریز اور اس جیسے دوسرے خونخوار قاتلوں کے بیمار ذہنوں سے ترسیم شدہ منصوبے کا ثمرہ نہ تھی بلکہ لبنانی اور فلسطینیوں نے درحقیقت ان کے شیطانی منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے چنانچہ یہودی ریاست نے ان چند سالوں میں شکست کی اداکاری نہیں کی ہے بلکہ وہ تو فتح کی اداکاری کرنا چاہتے تھے مگر بات نہ بن سکی اور انھوں نے عرب حکمرانوں کا سہارا لیا جو اس سے پہلے بھی کبھی اسرائیل کے خلاف نہ تھے بلکہ مخالفت کی اداکاری کررہے تھے اور اب وہ ایسی اداکاری بھی نہیں کررہے ہیں لیکن اسرائیل کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے؛ اور بزدل عرب حکمرانوں کی دوستی بھی انہیں شکست سے بچانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
2۔ ابو دیس (Abu Dis) مقبوضہ فلسطین کے صوبۂ قدس کے ایک شہر کا نام ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …