ہفتہ , 20 اپریل 2024

روس کے امریکا سے اگلے ماہ سیکیورٹی مذاکرات

ماسکو: روس کے سفارت کار اور فوجی عہدیدار اگلے ماہ امریکا کے ساتھ یوکرین سمیت سیکیورٹی کے دیگر مسائل پر مذاکرات کریں گے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے سرکاری ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک کے نئے سال کی تقریبات کے فوری بعد مذاکرات ہوں گے۔

روس نے یوکرین کی سرحد پر اضافی فوج تعینات کردی ہے جس پر امریکا اور مغربی طاقتوں کا دباؤ کا سامنا ہے اور اس اقدام کو یوکرین میں مداخلت کے عزائم سے تعیبر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب روس ان بیانات کی تردید کررہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی سربراہی میں نیٹو کے سیکیورٹی اتحادی خطے کی صورت حال کو خراب کر رہے ہیں اور یوکرین کے ان کے ساتھ بڑھتے تعلقات روس کے لیے خطرہ ہیں۔

سرگئی لاروف سے قبل ہی روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نیٹو کی تجویز پر 12 جنوری کو مذاکرات شروع کرنے پر سوچ بچار کیا جارہا ہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پاسکوف کا کہنا تھا کہ اس سے روس کو سیکیورٹی کی ضمانت پر مذاکرات کا جواز ملے گا اور ہم نیٹو کے ساتھ امریکا سے دوطرفہ مذاکرات کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ مذاکرات کے لیے انتظامی معاملات سفارتی چینلز کے ذریعے طے کیے جارہے ہیں۔

روسی خبرایجنسی کے مطابق روسی فوجی نے دشمن کی فضائی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے مشقیں کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روس کے مغربی علاقے میں اس مشق میں ایک ہزار سے زائد فوجیوں نے حصہ لیا، اس سے قبل گزشتہ ہفتے کئی فوجیوں نے مستقل بیسز کی جانب واپسی شروع کردی تھی، جن کو یوکرین کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا گیا تھا۔

قبل ازیں برطانیہ اور یورپی یونین سمیت یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے روس کو خبردار کیا تھا کہ یوکرین پر کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں معاشی پابندیوں سمیت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ روس نے 2014 میں یوکرین کے علاقے کریمیا کو اپنی حدود میں شامل کیا تھا اور اس کے بعد ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسندوں کی کھلم کھلا حمایت شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ ماسکو کے تعلقات میں تلخی بڑھ گئی تھی۔

یوکرین کے مطابق ڈونباس کے نام سے مشہور یوکرین کے صنعتی مرکز میں لڑائی کے دوران 14 ہزار سے زائد افراد اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ ان کی جانب سے 2015 کے معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر متعصب قوم پرست فورس کے زیر اثر ہیں۔

یوکرین کے صدر ویلادومیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ کسی صورت مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

روس اس طرح کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اپنا رہا ہے کہ جب تک ایجنڈا واضح نہیں ہوگا اس وقت تک کسی اجلاس کا امکان نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …