پیر , 24 جنوری 2022

سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات، تلخیوں میں کمی کا امکان

تحریر: رجنیش کمار

سلطنت عثمانیہ کی افواج نے پہلی سعودی ریاست کے دارالحکومت الدرعیہ اور ریاض کے مضافاتی علاقوں پر حملہ کر انھیں تباہ کر دیا تھا۔ اسی دوران 1818 میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن آل سعود کا استنبول میں سر قلم کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کی سلطنت کو سلطنت عثمانیہ نے پہلی بار 1818 میں اور دوسری بار 1871 میں تباہ کیا تھا۔ سعودی عرب کی تیسری کوشش کامیاب ہوئی جب اس نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کا ساتھ دیا اور سلطنت عثمانیہ کو شکست دی۔ سنہ 1924 تک سلطنت عثمانیہ آج کے ترکی تک محدود ہو گئی اور کہا جاتا ہے کہ موجودہ صدر رجب طیب اردوغان اس تحریک سے متاثر ہیں۔

لیکن اب وہ دور عثمانی نہیں رہا۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ترکی اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے آئندہ ماہ سعودی عرب کے دورے کا اعلان کیا ہے۔ ترکی اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات حالیہ برسوں میں تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

ترک صدر اردوغان آئندہ ماہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اردوغان اب خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تلخی ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔

ترک صدر اردوغان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اب سعودی عرب کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کی حامی الشرق نیوز اور دیگر عرب میڈیا اداروں نے اردوغان کی سعودی عرب روانگی کے اعلان کی ویڈیو کو نمایاں طور پر شیئر کیا۔

اردوغان نے یہ اعلان تین جنوری کو استنبول میں کیا تھا۔

ویڈیو میں صحافی اردوغان سے حالیہ برسوں میں ترکی سے سعودی عرب میں ہونے والی برآمدات میں کمی سے متعلق سوال کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جواب میں ترک صدر اردوغان نے کہا کہ ’سعودی حکام میرا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ امید کر رہے ہیں کہ میں سعودی عرب جاؤں۔ میں اگلے ماہ فروری میں سعودی عرب جاؤں گا۔‘

جو بائیڈن کے امریکی صدر بننے کے بعد سے مغربی ایشیائی خطے میں کافی ہنگامہ برپا ہے۔ اس خطے کے ممالک اپنی دشمنی ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سعودیہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ نومبر میں ابوظہبی کے ولی عہد استنبول گئے اور ترک صدر اردوغان نے سعودی عرب کے دورے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام کس طرف اشارہ کر رہے ہیں؟

مغربی ایشیا میں افراتفری
خلیجی ممالک میں انڈیا کے سابق سفیر تلمیز احمد کہتے ہیں کہ ’امریکہ پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی ایشیا اب امریکہ کی حکمت عملی سے باہر ہو چکا ہے۔ بائیڈن کی پوری توجہ انڈو پیسیفک خطے میں چین پر ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے جس طرح افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا اور وہاں سے انخلا کیا، اس سے یہ پیغام بھی گیا کہ امریکہ کسی کام کو منطقی انجام تک نہیں پہنچاتا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔‘

تلمیز احمد کہتے ہیں کہ ’مغربی ایشیا میں عجیب طرح سے سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ بائیڈن کی آمد نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ جب ٹرمپ وہاں تھے تو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ بائیڈن کی آمد سے مشرق وسطیٰ میں بھی ہلچل ہے۔ بائیڈن کہہ رہے ہیں کہ انھیں مغربی ایشیا میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’افغانستان کے مسئلے نے مزید الجھن پیدا کر دی ہے اور اس سے مغربی ایشیا میں امریکہ پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ خلیجی ممالک محسوس کر رہے ہیں کہ انھیں اس علاقے میں اپنی سفارت کاری خود کرنا پڑے گی۔ سعودی عرب خود ایران سے بات کر رہا ہے۔ یو اے ای خود ترکی جا رہا ہے۔ نئے سفارتی ماحول کا آغاز ہوا ہے۔‘

تلمیز احمد کہتے ہیں کہ ’(روسی صدر) پوتن اور (چینی صدر) شی جن پنگ کے سامنے بائیڈن کی سمجھداری ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل کو تسلیم کرانے کی جو مہم شروع کی تھی وہ تھم چکی ہے۔ بائیڈن نے کوشش کی لیکن انڈونیشیا نے انکار کر دیا۔ یمن کے حوالے سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ترکی کا نقطہ نظر حمکت عملی کی خود مختاری ہے۔ وہ کسی کے ساتھ مستقل اتحاد نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا اصول یہ ہے کہ ترکی کا ایک کردار ہونا چاہیے۔ اردوغان سلطنت عثمانی کی روایت سے متاثر ہیں۔ اب جو رشتے بن رہے ہیں وہ مخصوص مسائل پر مبنی ہیں۔ کوئی اتحاد نہیں، کوئی جبر نہیں بلکہ مقابلہ اور تعاون ہے۔ اب وہ نیٹو کو جوابدہ نہیں ہیں۔ ترکی نے امریکا سے پیٹریٹ میزائل مانگا، انھوں نے نہیں دیا تو اردوغان نے روس سے ایس 400 لے لیا۔‘

ترک صدر کے اعلان پر سعودی عرب سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
سعودی عرب نے اس دورے کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا لیکن سعودی عرب کے میڈیا میں اردوغان کے اعلان کو نمایاں کوریج ملی۔

عکاظ اور المرصد نے اردوغان کے اعلان پر کافی توجہ دی۔ بعض قوم پرستوں نے یہ بھی کہا کہ اردوغان کی سعودی قیادت سے ملاقات خطے میں سعودی تسلط کو ظاہر کرتی ہے۔

سعودی عرب کے سیاسی مبصر ترکی الفیصل الرشید نے کہا کہ ’ہماری قیادت کی دانشمندی کی وجہ سے بہت سی چیزیں ہمارے حق میں ہو رہی ہیں۔ یہ اس خطے کے لیے بھی اچھا ہے۔‘

سعودی عرب کے ایک قوم پرست ٹوئٹر صارف نے اردوغان کے سعودی عرب کے دورے کے اعلان پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے سعودی عرب سے ملاقات کے لیے درخواست دی تھی اور انھوں نے فروری میں آنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

اس کے علاوہ سعودی عرب کے کئی سیاسی کارکنوں نے اردوغان کے آئندہ دورے کی مخالفت کی ہے۔

’ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ‘ کے ڈائریکٹر عبداللہ العودہ نے ٹوئیٹ کیا کہ ’سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صرف اردوغان سے درخواست کی تھی کہ سنہ 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں سعودی عرب کا ذکر ترک میڈیا میں نہ ہونے دیں۔ یہ درخواست سعودی عرب کی سلامتی اور معیشت سے منسلک تھی۔‘

سعودی عرب کے سرگرم سماجی کارکن لجين الهذلول کو حال ہی میں رہا کیا گیا تھا۔ ان کی بہن لینا الهذلول نے اردوغان کے سعودی عرب کے آئندہ دورے پر ایک ویڈیو ٹویٹ کیا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کا ایک شخص ترکی میں بنائے گئے موسیقی کے آلات کو نذر آتش کر رہا ہے۔

سنہ 2020 سے سعودی عرب ترکی میں بنی بہت سی اشیاء کا بائیکاٹ کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اردوغان اور ان کی ’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘ پر اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس بنا پر اردوغان سے نفرت کرتے رہے ہیں۔

ترکی کی قطر کے ساتھ کئی سطحوں پر شراکت داری رہی ہے۔ یہ شراکت داری سنہ 2017 اور 2021 کے درمیان سعودی، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے لیے بھی پرشان کن تھی۔

سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ اس وقت اردوغان نے اس معاملے پر سعودی ولی عہد کو نشانہ بنایا تھا۔

سعودی عرب کی اہمیت
اسی عرصے کے دوران سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو ترکی جانے اور وہاں کی بنی اشیا کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی تھی تاہم گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوسولو نے گزشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اردوغان نے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز السعود سے فون پر بات کی۔

ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کے درمیان سعودی عرب نے اردوغان حکومت کے ساتھ بات چیت میں اضافہ کیا۔ ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے اصل حکمران کے طور پر دیکھے جانے والے محمد بن زید النہیان نے گزشتہ سال نومبر میں ترکی کا دورہ کیا تھا۔

یہ دورہ حیران کن تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں مستقبل میں امریکی موجودگی سے خوفزدہ ہیں اور اس لیے علاقائی شراکت داری میں اضافے میں مصروف ہیں۔

حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خارجہ پالیسی کی سطح ہر مقابلے بازی میں بھی اضافہ ہوا۔ ترکی میں متحدہ عرب امارات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے درمیان سعودی عرب بھی انقرہ کے ساتھ تعلقات بہتر کر کے اپنی موجودگی کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ترکی کے ساتھ سرمایہ کاری کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ترکی کی معیشت کئی محاذوں پر مشکل دور سے گزر رہی ہے۔

اردوغان کی مجبوری
ترکی کی کرنسی لیرا تاریخی سطح پر کمزور ہوئی ہے۔ تجارتی خسارے یعنی ملکی درآمدات اور برآمدات کے فرق میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ ترکی میں مہنگائی کی شرح 36.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ سنہ 2021 میں لیرا کی قیمت میں 44 فیصد کی کمی آئی۔ سعودی عرب سے برآمدات میں کمی کا براہ راست اثر ترکی کی معیشت پر ہوا۔

خبر رساں اجینسی بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ترک تاجروں نے شکایت کی تھی کہ انھیں سعودی عرب میں غیر سرکاری طور پر بائیکاٹ کا سامنا ہے۔

دسمبر 2019 میں ترکی کی سعودی عرب کو برآمدات 1.02 بلین ریال سے کم ہو کر 506 ملین ریال ہو گئی یعنی 95 فیصد کی کمی آئی۔ ترکی کے ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 2020 میں ترکی کی سعودی عرب کو برآمدات میں 78 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سعودی عرب چین، جاپان اور انڈیا سے سب سے زیادہ درآمدات کرتا ہے۔ ترکی میں اگلے سال انتخابات ہیں اور اس کی معیشت میں مسلسل گراوٹ اردوغان کے لیے پریشان کن بات ہے۔ اردوغان چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ہو۔

اگر ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اسے سکیورٹی میں شراکت بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ترکی سعودی عرب کو فوجی ساز و سامان مثلاً ڈرون فراہم کر سکتا ہے لیکن مغربی ایشیا میں فی الحال جو کچھ بھی غیر معمولی ہو رہا ہے اس کا براہ راست تعلق مشرق وسطیٰ میں آئی سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …