پیر , 24 جنوری 2022

کیا قزاقستان میں مظاہرے نذربائیف کے دور کے خاتمے کا اشارہ ہیں؟

جنوری کے پہلے ہفتے میں قزاقستان کو حکومت مخالف مظاہروں کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صدر قاسم جومارت توکایف نے ان مظاہروں کو ’دہشتگرد فسادات‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔

قطع نظر اس کے کہ یہ مظاہرے کب اور کیسے ختم ہوتے ہیں، ایک چیز واضح ہے کہ ان کے نتیجے میں قزاقستان کے ’قائد ملت‘ اور سابق صدر نورسلطان نذربائیف کے حکومت میں اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ 2019 میں اقتدار سے الگ ہو گئے تھے مگر حکومت میں ان کا اہم کردار برقرار تھا۔

ان مظاہروں کا پس منظر
یہ احتجاجی مظاہرے دو جنوری کو ملک کے تیل سے مالا مال مغربی خطے مینگیتاؤ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے جو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئے اور بالآخر پانچ جنوری کو صدر قاسم جومارت توکایف اور ’قائد ملت‘ نذربائیف کی حکومت کے خلاف احتجاج کی صورت اختیار کر گئے۔

میڈیا میں بڑے پیمانے پر تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات کی خبروں کے بعد صدر توکایف نے مظاہرین کے خلاف زبردست کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا اور مظاہرین کو غیر ملکی تربیت یافتہ ’حقیقی دہشت گرد‘ قرار دے دیا۔

انھوں نے روس کی قیادت میں قائم سابق سوویت ریاستوں کی تنظیم، کلیکٹیو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) سے بھی پانچ جنوری کو درخواست کر دی کہ وہ ملک میں پھیلی بے چینی اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے ان کی مدد کرے۔ سی ایس ٹی او نے بغیر کسی تاخیر کے اگلے ہی روز قیام امن فوج روانہ کر دی جس میں دیگر ملکوں کے علاوہ روسی فوجی بھی شامل ہیں۔

پانچ جنوری ہی کو صدر توکایف نے حکومتی کابینہ کا استعفٰی بھی قبول کر لیا۔ اسی روز جب مظاہرے اپنے عروج پر تھے تو انھوں نے قومی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور سابق صدر نذربائیف کو تبدیل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔

عہدہ صدارت سے سبکدوشی کے بعد نذربائیف سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے موجودہ صدر پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے تھے۔

نذر بائیف پر کیا اثر پڑے گا؟
سیکیورٹی کونسل ملک کا ایک آئینی ادارہ ہے اور نذربائیف نے 2019 میں صدارت چھوڑنے سے پہلے اسے بہت بااختیار بنا دیا تھا تاکہ سبکدوشی کے بعد بھی وہ اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھ سکیں۔ انھوں نے خود کو اس اہم ادارے کا تاحیات چیئرمین بھی مقرر کر دیا تھا۔

وہ قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق پالیسیوں کی نگرانی کرتے تھے اور صدر توکایف پر لازم تھا کہ وہ تمام اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے نذربائیف کو ’رابطے‘ میں رکھیں۔ اس سے 81 سالہ سابق صدر کو اپنے قریبی ساتھیوں کو اہم عہدوں پر لگانے کا موقع مل گیا جس سے انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ اور فوج پر ان کی گرفت مضبوط رہی۔

نذربائیف کی برطرفی کے بعد اب توکایف کے ہاتھ کھل گئے ہیں اور وہ اپنے پیشرو کی ٹیم کی جگہ اپنی ٹیم کی تقرری کر سکتے ہیں۔ یہ کام احتجاجی مظاہروں سے پہلے کرنا ناممکن تھا۔ انھوں نے پانچ جنوری کو ہی نذربائیف کے دیرینہ ساتھی اور وزیراعظم عسکرمامِن کو بھی برطرف کر دیا تھا۔ اس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کریم مسیموف سمیت نذربائیف کے کئی دوسرے قریبی ساتھیوں کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

اقتدار کے ایوانوں سے نذربائیف اور ان کے رفقا کی بے دخلی ہی ان کے عہد کے خاتمے کی واحد علامت نہیں ہے۔ مظاہروں کے دوران ایک نعرہ جو سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا وہ تھا ’شال کٹ‘ یعنی ’بوڑھے جاؤ‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ملکی سیاست میں بھی ان کے لیے جگہ نہیں رہی۔

ان کے آبائی علاقے الماتے میں ان کا مجسمہ گرائے جانے کی تصویر اس تبدیلی کی ایک اہم علامت ہے۔

پانچ جنوری کو قزاقستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ نذربائیف ملک چھوڑ گئے ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کو اس بات سے بھی تقویت ملی کہ وہ مظاہروں کے بعد سے نظر نہیں آئے جبکہ صدر توکایف دو دن میں قومی ٹی وی پر تین مرتبہ خطاب کر چکے ہیں جن میں انھوں نے پرامن رہنے کی اپیل کے علاوہ ‘عوام کے ساتھ رہنے’ کا وعدہ کیا۔

سابق صدر نذربائیف کا مستقبل
صدر توکایف مستقبل قریب میں سابق صدر نذربائیف کے حامیوں کی جگہ حکومت میں اپنے حامیوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے بشرطیکہ وہ احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس کی زد میں سابق صدر کے وہ قریبی رشتہ دار بھی آئیں گے جو حکومت کا حصہ رہے ہیں۔

ان میں ان کے داماد تیمور کلیبائیف بھی شامل ہیں جو تاجروں کی قومی تنظیم کے سربراہ ہیں۔

البتہ صدر توکایف کے لیے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے میں نذربائیف خاندان کی ہائیڈرو کاربن کے ذخائر پر اجارہ داری بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ اپنے عہدے سے معزولی کے باوجود نذربائیف اہم ملکی اثاثوں کا انتظام کرنے والے خود مختار فنڈ، سامرُک-کزینا کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہ فنڈ ویسے تو سرکاری ملکیت ہے مگر قزاق تجزیہ نگار اسے بعض اوقات ایک ریاست بھی کہہ دیتے ہیں۔ 2020 میں نذربائیف نے کہا تھا کہ سامرُک-کزینا کے اثاثوں کی مالیت 70 بلین ڈالر ہے جو قزاقستان کی مجموعی قومی پیداوار کا 40 فیصد ہے۔

نورسلطان نذربائیف کون ہیں
نورسلطان نذربائیف 1990 سے 19 مارچ 2019 تک قزاقستان کے صدر رہے اور 19 مارچ 2019 کو انھوں نے اپنے عہدے سے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

وہ 1990 میں سوویت سوشیالِسٹ رپبلک آف قزاقستان کے صدر منتخب ہوئے تھے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے دوران اپنے ملک کو آزادی دلوائی۔

دسمبر 1991 کے صدارتی انتخابات میں وہ بلا مقابلہ آزاد قزاقستان کے صدر منتخب ہوئے۔ سنہ 2007 میں کی گئی ایک آئینی ترمیم کے تحت انھیں اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ یکے بعد دیگرے جب تک چاہیں صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔ سنہ 2010 میں انھیں ‘قائد ملت’ کا خطاب دیا گیا۔

2015 میں وہ پانچویں مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ نورسلطان نذربائیف نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز فولاد کے ایک کارخانے میں مزدور کی حیثیت سے کیا تھا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے عہدیدار بھی رہے۔ ان کے والد، ابیش نذربائیف، ایک کسان اور چرواہے تھے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …