پیر , 24 جنوری 2022

کیا چین غریب ممالک کو ’قرض کے جال‘ میں پھنسا رہا ہے؟

تحریر: کائی وانگ

گزشتہ عرصے میں چین پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ غریب ممالک کو جن شرائط پر قرضہ دیتا ہے ان کی وجہ سے ان ممالک کو چین کا قرض لوٹانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چین اسے ان ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

لیکن چین ان الزامات سے انکار کرتا ہے اور اس کا مؤقف یہ ہے کہ کچھ مغربی طاقتیں اس بیانیے کے ذریعے چین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

چین کہتا ہے کہ دنیا میں ’ایسا ایک ملک بھی نہیں جو چین سے قرضہ لینے کے بعد ’ڈیبٹ ٹریپ‘ یا قرضے کے جال میں پھنس گیا ہو۔

ہم چین کے قرضوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
اگر انفرادی ملک کی حیثیت سے دیکھا جائے تو چین کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ قرض دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

گزشتہ عشرے کے دوران کم اور اوسط آمدنی والے ممالک کو دیے گئے چینی قرضوں میں تین گنا اضافہ ہوا اور سنہ 2020 کے آخر تک ان قرضوں کی کل مالیت 170 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی تاہم چین نے کئی ممالک کے ساتھ قرض دینے کے جو معاہدے کر رکھے ہیں ان کی کل مالیت اس سے شاید بہت زیادہ ہے۔

امریکہ کی ولیم اینڈ میری یونیورسٹی سے منسلک بین الاقوامی ترقی کی ایک تنظیم ’ایڈ ڈیٹا‘ کی تحقیق کے مطابق چین نے ترقی پذیر ممالک کو جو قرضے دیے ہیں ان میں سے نصف ایسے ہیں جو سرکاری اعداد و شمار میں دکھائی نہیں دیتے۔

اکثر یہ قرضے حکومتی سطح پر نہیں دیے جاتے بلکہ چین یہ قرضے ان ممالک کی سرکاری تحویل میں چلنے والی کمپنیوں، بینکوں، مشترکہ منصوبوں اور غیر سرکاری اداروں کو دیتا ہے اور یوں ان حکومتوں کی معاشی دستاویزات (بیلنس شیٹ) میں ان قرضوں کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔

ایڈ ڈیٹا کے مطابق ان ’خفیہ قرضوں‘ کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 40 سے زیادہ کم اور اوسط آمدنی والے ایسے ممالک ہیں جنھوں نے چین سے اپنی مجموعی قومی پیداوار کے دس فیصد سے زیادہ قرضے لے رکھے ہیں۔

چین نے جبوتی، زیمبیا اور کرغستان کو جو قرضے دے رکھے ہیں ان کی مالیت ان ممالک کی مجموعی قومی پیداوار کے کم از 20 فیصد کے برابر ہے۔

چین نے دنیا کے مختلف ممالک کو جو قرضے دیے ہیں، ان میں سے زیادہ تر بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے ہیں، جن میں سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی تعمیر شامل ہے۔ ان میں کان کنی اور بجلی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

’قرضے کے جال‘ اور ان کے ثبوت کیا ہیں؟
برطانیہ کے بیرون ملک کام کرنے والے خفیہ ادارے، ایم آئی سکس کے سربراہ، رچرڈ مور نے چینی قرضوں کو ’قرضوں کا جال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کا مقصد ان ممالک کو اپنے قابو میں رکھنا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ممالک جب چین کو قرض لوٹا نہیں پاتے تو وہ اپنے اہم قومی اثاثوں کا کنٹرول چین کے ہاتھ میں دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بیجنگ ایک عرصے سے اس الزام سے انکار کرتا آیا ہے۔

اس حوالے سے چین کے ناقدین اکثر سری لنکا کی مثال دیتے ہیں جس نے برسوں پہلے چینی سرمایہ کاری سے بندرگاہ بنانے کا ایک بہت بڑا منصوبہ شروع کیا تھا۔

لیکن کچھ ہی عرصے بعد اربوں ڈالر کا یہ منصوبہ تنازعات کا شکار ہو گیا اور سری لنکا کی معاشی ترقی کا ذریعہ بننے کی بجائے اس نے سری لنکا پر بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ لاد دیا۔

اور آخر کار سری لنکا چین کی جانب سے مزید سرمایہ کاری کے عوض بندرگاہ کے 70 فیصد مالکانہ حقوق نوے کی دہائی میں چین کی سرکاری کپمنی ’چائنا مرچنٹ‘ کو دینے پر مجبور ہو گیا۔

سری لنکا کی بندرگاہ کے اس منصوبے کے حوالے سے برطانیہ کے ایک تھِنک ٹینک ’چیٹم ہاؤس‘ نے اپنے ایک تجزیے میں سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس معاملے کو ’قرضوں کے جال‘ میں پھنسانے کا معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں کیونکہ اس منصوبے میں سری لنکا کی اپنی سیاسی ترجیحات پیش پیش تھیں اور چین نے کبھی بھی بندرگاہ کا کنٹرول باقاعدہ طور پر اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔

اس منصوبے پر اٹھنے والے سوالات کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ عشرے کے دوران سری لنکا میں چین کے معاشی عمل دخل میں اضافہ ہوا اور یہ خدشات بھی اپنی جگہ قائم ہیں کہ اس منصوبے کے ذریعے چین خطے میں اپنے سیاسی عزائم کو وسعت دے سکتا ہے۔

اس کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی چینی قرضے تنازعات کا شکار رہے ہیں کیونکہ ان منصوبوں میں بھی ایسی شرائط موجود ہیں جن کی بدولت چین کئی ممالک کے اثاثوں پر اپنے کنٹرول میں اضافہ کر سکتا ہے۔

لیکن ایڈ ڈیٹا اور دیگر تحقیقی اداروں کے تجزیوں میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین کی کسی سرکاری کمپنی نے قرضہ واپس نہ کرنے پر کسی ملک کے بڑے قومی اثاثے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہو۔

چینی قرضوں کا دیگر قرضوں سے موازنہ کیسے ہو سکتا ہے؟
چین مختلف ممالک کو دیے جانے والے قرضوں کی تفصیل شائع نہیں کرتا اور دیگر ممالک کے ساتھ کیے جانے والے اکثر معاہدوں میں ’نان ڈسکلوژر‘ کی ایسی شرائط شامل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے قرض لینے والے ممالک کو پوری طرح معلوم نہیں ہو سکتا کہ معاہدے میں کیا کچھ شامل ہے۔

تاہم چین کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ قرضوں کے بین الاقوامی معاہدوں میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔

اس حوالے سے لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر لی جونز کہتے ہیں کہ ’بین الاقوامی قرضوں کے معاہدوں میں خفیہ شرائط کا ہونا معمول کی بات ہے اور جہاں تک چین کے ترقیاتی قرضوں کا تعلق ہے تو بنیادی طور پر یہ قرضے بھی تجارتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔‘

بڑے بڑے صنعتی ممالک جو قرض دیتے ہیں ان میں سے اکثر کی معلومات ایک گروپ کی جانب سے شائع کی جاتی ہیں، جسیے پیرس کلب کہا جاتا ہے۔

چین اس کلب میں شامل نہیں تاہم عالمی بینک کی طرف سے فراہم کیے جانے والے اعداد وشمار کے ذریعے ہم واضح طور پر چین اور دیگر بڑے ممالک کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں کا تقابلی جائزہ لے سکتے ہیں۔

کیا چینی قرضے لوٹانا زیادہ مشکل ہے؟
دیگر مغربی حکومتوں کے مقابلے میں چینی قرضوں پر شرح سود عموماً زیادہ ہوتی ہے۔

چینی قرضوں کی شرح سود عموماً 4 فیصد کے قریب ہوتی ہے جو بینکوں کی شرح سود کے برابر ہے تاہم عالمی بینک یا فرانس اور جرمنی جیسے ممالک کے قرضوں سے چار گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح عالمی سطح پر دیکھا جائے تو چینی قرضہ لوٹانے کی مدت بھی عموماً کم ہوتی ہے یعنی اکثر دس برس سے کم۔ اس کے مقابلے میں دیگر ادارے یا ممالک ترقی پزیر ممالک کو جو ریاعتی قرضے دیتے ہیں وہ 28 برس کے لیے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ چین کے سرکاری بینک وغیرہ جو قرض دیتے ہیں اس میں یہ شرط شامل ہوتی ہے کہ قرض لینے والا ملک کسی آف شور اکاؤنٹ میں کم از کم اتنی رقم ضرور رکھے گا، جو چین قرض نہ لوٹانے کی صورت میں نکلوا سکتا ہو۔

ایڈ ڈیٹا کے ڈائریکٹر بریڈ پارکس کے مطابق ’اگر کوئی قرض دھندہ ملک اپنا قرض لوٹانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو چین کسی قانونی جھمیلے میں پڑے بغیر اس اکاؤنٹ سے رقم نکلوا سکتا ہے۔‘

دیگر اداروں اور مغربی ممالک کے معاملے میں اس قسم کی چیز شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔

حالیہ عرصے میں دنیا کے امیر ترین ممالک کے گروپ ’جی 20‘ نے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے یا ان میں نرمی کرنے کا ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ان ممالک کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد کی جائے۔

چین بھی اس منصوبے میں شامل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اس منصوبے میں حصہ لینے والے تمام ممالک سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اس سکیم کے تحت مئی 2020 سے اب تک جی 20 ممالک 10 اعشاریہ تین ارب ڈالر دے چکے ہیں لیکن جب عالمی بینک سے پوچھا گیا کہ اس میں کس ملک نے کتنا پیسہ ڈالا تو بینک کا کہنا تھا کہ وہ یہ تفصیل فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …