پیر , 24 جنوری 2022

2021ء میں فلسطین میں ہونے والے اہم واقعات (1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

فلسطین میں 2021ء میں کئی اہم واقعات کا مشاہدہ کیا گیا، جن میں انتخابات کا التوا، سیاسی اختلاف کا تسلسل، نیتن یاہو کی اقتدار سے بے دخلی، 12 روزہ جنگ اور غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کا تسلسل شامل ہیں۔ 15 سال بعد فلسطینی قانون ساز اسمبلی (پارلیمنٹ) کے انتخابات 22 مئی 2021ء کو جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی صدارت کے لیے 31 جولائی 2021ء کو اور فلسطینی قومی مشاورتی کونسل کے لیے انتخابات 31 اگست 2021ء کو ہونے تھے، تاہم فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے 30 اپریل کی صبح فلسطینی علاقوں میں انتخابات ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں کی شرکت سے مشروط ہیں۔ یاد رہے کہ آخری فلسطینی انتخابات 2006ء میں ہوئے تھے، جس میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے پارلیمانی انتخابات میں 132 میں سے 76 نشستیں حاصل کیں، لیکن یہ حکومت خانہ جنگی کے دوران گر گئی اور تحریک فتح دوبارہ اقتدار میں آگئی۔

بہرحال فلسطینی انتخابات کے ملتوی ہونے کی مختلف وجوہات تھیں۔ محمود عباس نے اسرائیل پر مقبوضہ بیت المقدس میں انتخابات کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو مقبوضہ علاقوں کا حصہ سمجھتا ہے اور کہہ چکا ہے کہ وہ اس میں انتخابات نہیں ہونے دے گا۔ اگرچہ محمود عباس نے اسرائیلی اپوزیشن کو انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا، تاہم حماس سمیت فلسطینی گروپوں کا کہنا تھا کہ انتخابات میں فتح تنظیم کا خوف محمود عباس کے فلسطینی انتخابات کو ملتوی کرنے کے فیصلے کی بڑی وجہ ہے۔ فلسطینی علاقوں میں انتخابات کے اعلان کے بعد محمود عباس کی قیادت میں تحریک فتح باہمی انتشار کا شکار ہوگئی۔ تحریک فتح کے ناقدین نے اپنے امیدواروں کی فہرست پیش کرکے پارٹی کے سرکاری امیدواروں کو مؤثر طریقے سے کمزور کیا۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے ایک بیان میں تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینی انتخابات اور اس کے نتیجے میں ملتوی کرنے کے فیصلے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے "شرکت اور قومی معاہدے کے عمل کے خلاف بغاوت” قرار دیا۔

بعض مبصرین کا یہ بھی خیال تھا کہ انتخابات کے التوا کا مقصد صیہونی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات کو دوبارہ استوار کرنا ہے۔ تاہم انتخابات کے التوا کے دو ٹھوس نتائج برآمد ہوئے۔ نمبر ایک، فلسطینی سیاسی گروپوں کے درمیان اختلاف اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ دسمبر 2021ء میں حماس اور الفتح فورسز کے درمیان لبنان کے ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں جھڑپیں ہوئیں، جس میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ دوسرا، صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے درمیان اختلاف کو ان کے خلاف تشدد میں اضافے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے 12 روزہ جنگ شروع ہوئی۔

2021ء میں فلسطین کے اہم ترین واقعات میں سے ایک 12 روزہ جنگ تھی۔ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے درمیان جنگ 10 مئی کو شروع ہوئی اور 21 مئی کو دونوں فریقین نے کچھ غیر ملکی طاقتوں کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ غاصب صیہونی حکومت مقبوضہ بیت المقدس میں مقیم فلسطینیوں کی جگہوں اور مکانات کو ضبط کرکے اسرائیلی فوج فلسطینی نوجوانوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ان کے عزم کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے سب سے پہلے اسرائیل کو خبردار کیا، ایک ڈیڈ لائن مقرر کی اور مقررہ الٹی میٹم کے بعد اپنے انتباہ پر عمل کیا۔ صیہونی حکومت نے ان انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک جنگ شروع کر دی، جو 12 دن تک جاری رہی۔ صیہونی نامہ نگار بن کسبیت نے جنگ سیف یا سیف القدس کے واقعات کے حوالے لکھا ہے کہ ”اسرائیل کے قیام کے بعد پہلی بار کسی فلسطینی تنظیم نے یروشلم کے بارے میں ایک مخصوص وقت پر اسرائیل کو خبردار کیا اور ایکشن پلان کے مطابق اپنی وارننگ پر عمل کیا۔”

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سفیر اور نائب مستقل مندوب زہرہ ارشادی نے کہا ہے کہ صرف مئی 2021ء میں غزہ میں 12 روزہ جنگ میں اسرائیلی فوج نے 256 فلسطینیوں کو شہید کیا، جن میں 66 بچے اور 40 خواتین شامل ہیں، جن میں ایک خاندان کے 13 افراد بھی شامل ہیں، ان میں ایک چھے ماہ کا بچہ تھا، جو اپنے گھر کے ملبے تلے دب گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے کہا کہ غزہ میں حملوں میں 600 سے زائد بچے اور 400 خواتین سمیت تقریباً 2000 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں سے بعض مستقل معذوری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ غزہ کے مقامی حکام نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حکومت نے جان بوجھ کر غزہ کے بنیادی ڈھانچے، خدماتی سہولیات اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے پانی کی فراہمی کے نیٹ ورکس اور سڑکوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ غزہ کی وزارت اقتصادیات میں صنعتی امور کے ڈائریکٹر جنرل رائد الجرار نے بتایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 50 سے زائد کارخانے تباہ ہوگئے ہیں۔ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے انفارمیشن آفس نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں سے 322 ملین ڈالر کے نقصان کی اطلاع دی ان نتائج کے باوجود 12 روزہ سیف القدس جنگ فلسطینی مزاحمت کی ایک عظیم فتح تھی۔

مئی 2021ء کی جنگ میں صیہونی حکومت پر حملہ کرکے فلسطینی مزاحمت نے نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ وہ صیہونی حملے سے خوفزدہ نہیں ہے بلکہ اب تو صیہونیوں میں یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ اب اسے کسی فلسطینی کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہوئے سوچنا پڑے گا۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے مختصر عرصے کے دوران متعدد بار مقبوضہ علاقوں پر درجنوں راکٹ اور میزائل داغے۔ اس جنگ میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے مقبوضہ علاقوں پر 4000 سے زائد طویل فاصلے، درمیانے فاصلے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ فائر کیے۔ اس خصوصیت نے اسرائیل کے آئرن ڈوم کو ان راکٹوں اور میزائلوں کی بڑی تعداد کو روکنے سے محروم کر دیا۔ اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی گروہ نہ صرف انتفاضہ سے میزائل تک پہنچے بلکہ ان کے پاس چند منٹوں میں درجنوں میزائل داغنے کی صلاحیت موجود ہے۔

12 روزہ جنگ کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ مزاحمت نے ایک نئے اقدام کے تحت پورے فلسطین میں فوجی اور فیلڈ سپورٹ کا دائرہ بڑھا دیا اور اعلان کیا کہ اب فلسطین کے کسی بھی حصے اور فلسطین میں کہیں بھی کوئی بھی فلسطینیوں کے خلاف اقدام کرے گا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں 12 روزہ جنگ میں یروشلم اور مغربی کنارے کے لوگوں نے غزہ کی پٹی کے لوگوں کا ساتھ دیا۔ اس 12 روزہ جنگ میں مزاحمتی میزائلوں کی مسلسل فائرنگ کی وجہ سے مقبوضہ علاقوں میں عام شہری زندگی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زخمی اسرائیلیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی شہریوں کے لیے نفسیاتی مسائل کا باعث بنی۔ مقبوضہ علاقوں کے غرب اردن میں 20 لاکھ سے زائد آباد کاروں کے لئے یہ جنگ کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ ان بارہ دنوں مین یہ صیہونی شہری موت کی خوف سے انڈر گراؤنڈ پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔

یہ جنگ جو کہ بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک کامیابی اور اقتدار میں رہنے کے لئے استعمال ہونی تھی، برعکس ثابت ہوئی، اس کے اقتدار سے محروم ہونے کا باعث بنی۔ یہ جنگ نیتن یاہو کو 12 سال بعد وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کرنے کا باعث بنی اور نفتالی بینیٹ اور یائر لاپیڈ کی مخلوط کابینہ کافی اندرونی کشمکش کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ گذشتہ سال فلسطین میں ایک اور اہم واقعہ یہ ہوا کہ اسرائیل میں نئی کابینہ کے قیام کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کے جرائم مزید بڑھ گئے۔ بچوں کے حقوق کے عالمی ادارے نے کہا کہ 2014ء کے بعد سے فلسطینی بچوں کے لیے 2021ء سب سے مہلک سال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 دسمبر 1986ء تک بیت المقدس اور غزہ کی پٹی کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 86 فلسطینی بچے مارے گئے۔

دریں اثناء عالمی تحریک برائے دفاع کی فلسطینی شاخ نے کہا کہ 2021ء میں صیہونی حکومت نے 77 فلسطینی بچوں کو شہید کیا، جن میں سے 61 کا تعلق غزہ کی پٹی سے اور 16 کا تعلق مغربی کنارے اور بیت المقدس سے تھا۔ الاسیر کلب، جو فلسطینی جنگی قیدیوں سے متعلق ہے، نے یہ بھی اعلان کیا کہ صیہونی حکومت نے 2021ء میں 1,149 فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا، جن میں سے 160 اب بھی حراست میں ہیں۔ پچھلے سال بھی فلسطینی قیدیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم جاری رہے اور ان میں اضافہ بھی ہوا۔ رواں سال اسرائیلی جیلوں میں 227 فلسطینی قیدی شہید ہوئے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم میں اضافے کے باوجود 2021ء میں بدقسمتی یہ رہی کہ بعض عرب ممالک نے بیت المقدس میں قابض حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سلسلہ جاری رکھا اور یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات نے دسمبر میں اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی میزبانی کی۔ بلاشبہ تعلقات کو معمول پر لانا اسرائیل کے لیے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم میں اضافے کا ایک موقع تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …