ہفتہ , 28 مئی 2022

عراق، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد حکومت سازی کی کوششیں تیز

بغداد: عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے محمد الحلبوسی کو ایک بار پھر پارلیمنٹ کا سربراہ منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ اسپیکر کے تعین کے بعد اب قومی حکومت کی تشکیل کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ، آج ملکی تاریخ کا ایک اہم دن اور قومی طاقت اور وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے اسپیکر محمد الحلبوسی اور ان کے معاونین کے دوبارہ انتخاب پر انہیں مبارک باد بھی پیش کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چوتھی مرتبہ پارلیمنٹ کا اسپیکر منتخب ہونے کے بعد محمد الحلبوسی نے اپنے دفتر میں وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے ملاقات کی ہے۔ اتوار کی شام ہونے والے عراقی پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں، محمد الحلبوسی کو دو سو ارکان کے ووٹوں سے مسلسل چوتھی بار پارلیمنٹ کا اسپیکر منتخب کر لیا گیا جبکہ الصدر تحریک سے تعلق رکھنے والے حاکم الزاملی عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب الصدر کے گروپ کے سربراہ مقتدا الصدر نے جن کی جماعت کو پارلمینٹ میں سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں، حکومت سازی کو دشوار مرحلہ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے افتتاح کے بعد اپنے پہلے ٹوئیٹ میں مقتدا الصدر کا کہنا تھا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکروں کے انتخاب کا اہم ترین مرحلہ کامیابی کے ساتھ طے کرلیا گیا ہے جس پر میں قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں ایک آزاد اور خود مختار عراق کے قیام کے لیے فرقہ واریت اور دھڑے بندیوں سے پاک حکومت کے قیام کا کٹھن مرحلہ طے کرنا ہے۔

درایں اثنا عراق کے الفتح الائنس کے ایک رکن عدی الشعلان نے کہا ہے کہ اس ملک کے عوام امریکی فوجیوں کو باہر نکالنے کے لیے ہرممکن طریقہ استعمال کریں گے۔ انہوں نے امریکہ کو عراق کے اقتصادی اور سیاسی بحران کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ، ہمارے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی اور پارلیمنٹ کی قرار داد کے سراسر منافی ہے۔

عراقی پارلیمنٹ نے جنوری دوہزار بیس کو ایک قرار داد پاس کی تھی جن میں عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدی الشعلان نے کہا کہ، امریکی فوجی دوہزار تین سے عراق میں موجود ہیں اور انہوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی غرض نے اپنے اڈے بھی یہاں قائم کر رکھے ہیں۔

الفتح الائنس کے رکن نے مزید کہا کہ عراق کے عوام کو اس وقت ، امریکی فوجیوں کی غیر قانونی موجودگی جیسے نئے بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی عوام اپنے ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے حصول کے ہرممکن طریقہ کار سے کام لیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …