پیر , 24 جنوری 2022

جنرل سلیمانی کے قتل کی انتقامی کاروائی سے امریکی خیمے میں خوف و ہراس

واشنگٹن: امریکا کی ایک نیوز ویب سائٹ نے وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے مشیر کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکا کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کی جوابی کاروائی پر تشویش ہے۔

فارن نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نیوز ویب سائٹ واشنگٹن اگزمینر نے ایران کی جانب سے دسیوں امریکی عہدیداروں کو بلیک لسٹ کئے جانے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے عہدیداروں کے خلاف ایران کی دھمکی کے بارے میں ایک امریکی عہدیدار کے بیان کے بارے میں رپورٹ شائع کی اور لکھا کہ بائیڈن کی حکومت اس بارے میں کافی تشویش میں مبتلا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے مشیر نے شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے قتل کے بارے میں ایران کی انتقامی کاروائی کی دھمکی کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن کی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گی۔

اس سے پہلے امریکا کے سابق وزیر خارجہ مائک پومپئو نے جو جنرل سلیمانی کے قتل کا اہم عنصر ہے، بائیدن کی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کی اور دوسرے امریکیوں کی حفاظت کی جائے۔

امریکا کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپئو کا یہ خوف، فتح کے شہیدوں کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے بیان کے بعد سامنے آیا۔

انہوں نے شہادت کی دوسری برسی پر منعقد پروگرام میں کہا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی عراقی وزیر ا‏عظم کے سرکاری مہمان تھے، تم نے عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی بھی کی اور ایک قوم کو قتل بھی کر دیا، نہ ایک شخص کو، اس وحشیانہ جرم پر کیا کیا جائے، جو تمام امت اسلامیہ کے لئے بہت سخت تھا؟ اصلی قاتل، مجرم اور جارح امریکا کے اس وقت کے صدر کو قانون کے حوالے کیا جائے، اس کو قصاص دینا ہوگا، اس پر اللہ کا حکم جاری کیا جائے۔

واشنگٹن اگزامینر نے اس پروگرام میں سپاہ قدس کے موجودہ کمانڈر جنرل قاآنی کے بیان کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ضروری ہوگا، جس وقت بھی ضروری ہوگا، امریکیوں کے گھر کے اندر اور باہر جہاں بھی موقع ملے گا ہم جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام ضرور لیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …