پیر , 24 جنوری 2022

حزب اللہ لبنان کی طاقت نیٹو کے کچھ رکن ممالک سے زیادہ ہے: صیہونی تجزیہ نگار

تل ابیب: صیہونی حکومت کے ایک فوجی تجزیہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کی طاقت آج نیٹو کے کچھ رکن ممالک سے زیادہ ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ پٹی کے غاصبانہ قبضے کا موضوع، صیہونی حکومت میں بحث کا سبب بنا ہوا ہے کیونکہ بہت سے فوجی تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ اسرائیلی فوج، زمینی آپریشن کے ذریعے، حماس اور فلسطین کے دوسرے گروہوں کے ساتھ جنگ کو اپنے مفاد میں موڑ سکتی ہے۔

رای الیوم نے اسرائیل کے اس فوجی امور کے تجزیہ نگار کے حوالے سے لکھا ہے کہ زمینی آپریشن میں اسرائیل کے بڑی تعداد میں فوجی ہلاک اور زخمی ہوں گے اور یہی چیز حزب اللہ کے ساتھ ہونے والی ہر ممکنہ جنگ میں بھی ہوگی اور ہر حال میں صیہونی حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

در ایں اثنا صیہونی حکومت کی قومی سیکورٹی کے تحقیقاتی مرکز نے رون تیرا (Ron Tira) کے قلم کی تحقیق شائع کی جس میں تیرا نے واضح الفاظ میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی طرح کے زمینی آپریشن کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیلی محقق لکھتا ہے کہ فوجی آپریشن شروع کرنے پر مبنی فیصلہ، ایک طولانی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔

اسرائیل کے اس تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگوں کے درمیان جنگ میں صیہونی حکومت نے حزب اللہ لبنان کے خلاف جو حکمت عملی اختیار کی وہ بری طرح ناکام ہوگئی اور تحریک حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافے میں رکاوٹ نہیں بن سکی بلکہ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہيں کہ حزب للہ کی فوجی طاقت روز بروز بڑھ رہی ہے۔

صیہونی حکومت کے فوجی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تمام کوششوں کے باوجود حزب اللہ آج ایک خطرناک فوجی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ طاقت نیٹو کے بہت سے رکن ممالک کی طاقت سے بہت زیادہ ہے، حزب اللہ کی فوجی طاقت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس میں سٹیک میزائليں، خودکش ڈرون طیارے اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …