جمعہ , 1 جولائی 2022

قم کے عوام کے قیام کی برسی، رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا متن

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سیدنا محمد و آلہ الطاھرین و لعنۃ اللہ علی اعدائھم اجمعین.

السلام علیک یا سیدتی یا فاطمۃ المعصومۃ یا بنت موسی بن جعفر و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

قم کے عوام کا پرجوش اجتماع میرے لیے ہمیشہ ایک اچھا تجربہ ثابت ہوا ہے۔ دو سال سے ہم اس سے محروم تھے، آج اس مجمعے سے ایک بار پھر ملاقات ہو رہی ہے۔ ہم قم کے تمام عزیز عوام کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں اور ان سے اپنے لگاؤ کا اظہار کرتے ہیں۔

آج کی گفتگو انیس دی سنہ تیرہ سو چھپین (ہجری شمسی بمطابق نو جنوری سنہ انیس سو اٹھہتر) کے اہم اور تاریخی واقعے کے بارے میں ہے۔ بعض تاریخی واقعات کو، جو گہرے مفاہیم کے حامل اور آئندہ نسل کے لوگوں کے لیے اہم پیغام کا سرچشمہ ہیں، زندہ رہنا چاہیے۔ ان کے بارے میں بات ہوتی رہنی چاہیے، گفتگو ہونی چاہیے۔ ان عظیم واقعات پر فراموشی کی دھول جمنے نہیں دینا چاہیے۔ 9 جنوری کا واقعہ، ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ البتہ جب ہم 9 جنوری کے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ اس واقعے کے بارے میں اور اس کے سبب وجود میں آنے والے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ، تسلسل کے ساتھ وجود میں آنے والے کچھ اقدامات کا سرچشمہ بنا اور وہی اقدامات، اسلامی انقلاب کی کامیابی پر منتج ہوئے۔ بنابریں ایک دو روز میں محدود واقعے کے بارے میں بات نہیں ہو رہی ہے۔ اس واقعے کو ایک عظیم تبدیلی کے سرچشمے کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔

یہ واقعہ اور اس کے نتائج، عوام کے مذہبی عقائد کی گہرائي کی نشانی ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر ہم زور دیتے ہیں، تاکید کرتے ہیں۔ یہ اسلامی انقلاب کے واضح اور بنیادی اصولوں میں سے ہے لیکن جن لوگوں کے دل میں انقلاب کے سلسلے میں کینہ پایا جاتا ہے ان کا پروپیگنڈہ تدریجی طور پر اس بات کا موجب بنتا ہے کہ انقلاب کے بنیادی اور واضح اصولوں کے بارے میں بھی شبہہ کیا جائے۔ میں زور دے کر کہتا ہوں کہ قم میں انیس دی کا واقعہ اور اس واقعے کے نتیجے میں سامنے آنے والی باتیں، عوام کے مذہبی عقیدے کی گہرائي کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس واقعے کا ایک مرجع تقلید سے تعلق ہے، ایک مرجع تقلید نے اس واقعے کو وجود عطا کیا یعنی اگر اس واقعے کے مرکز میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت ایک مرجع تقلید، ایک مذہبی رہنما اور ایک مجاہد عالم دین کی موجود نہ ہوتے تو اس طرح کے واقعے کا کوئي خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ کوئي بھی دوسرا شخص، کوئي دوسرا دھڑا ایسا کام نہیں کر سکتا تھا اور ایسی پوزیشن میں نہیں آ سکتا تھا کہ ایک قوم کو، ایک شہر کو، پھر ایک دوسرے شہر کو اور اسی طرح دوسرے متعدد شہروں کو اور آخر میں پوری ایک قوم کو اس طرح اٹھا کر کھڑا کر دے۔ آپ جانتے ہیں کہ ظالم شاہی حکومت کے دور میں مختلف سیاسی دھڑوں کے سیکڑوں اہم افراد اور شخصیات میں، جو جدوجہد بھی کر رہی تھیں، بعض کو یا اکثر کو، چاہے وہ دائیں بازو کی ہوں، بائیں بازو کی ہوں، مارکسسٹ ہوں یا کسی اور نظریے کی حامل ہوں، دھمکیاں دی گئيں، جیلوں میں ڈالا گيا، ایذائيں دی گئيں، موت کی سزا دی گئي، اہانت کی گئي، لیکن کچھ نہیں ہوا۔ یعنی عوام کے سماجی ماحول پر کوئي فرق نہیں پڑا، کوئي اثر نہیں پڑا۔ لیکن امام خمینی کے لیے اخبار میں چار سطریں لکھ دی گئيں تو قم میں یہ عظیم واقعہ رونما ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعے کا مرجع تقلید سے، عالم دین سے، دین سے اور دینی مسائل سے گہرا تعلق ہے اور میں آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ ہمارے ملک میں پچھلے ڈیڑھ سو سال میں زیادہ تر جو اہم واقعات رونما ہوئے ہیں، وہ اسی طرح کے ہیں۔ تاریخی واقعات، سماجی واقعات اور ایسے واقعات جن میں عوام، میدان میں آ گئے اور انھوں نے کسی بڑے کام کو سرانجام دیا اور اس کے منطقی نتیجے تک پہنچایا، ایسے سبھی واقعات میں، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ایک مرجع تقلید، ایک عالم دین اور ایک شجاع، مجاہد اور سیاست کی سوجھ بوجھ رکھنے والے عالم دین کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تمباکو کے مسئلے میں میرزا شیرازی ہیں، آئینی انقلاب کے معاملے میں نجف کے مراجع ہیں، تہران، تبریز، اصفہان اور دیگر مقامات کے اہم علماء ہیں۔ مسجد گوہر شاد کے اہم واقعے میں مرحوم آقا حسین قمی رضوان اللہ علیہ اور مشہد کے علماء ہیں۔ تیس تیر (21 جولائي) کے وا قعے میں مرحوم آیۃ اللہ کاشانی ہیں۔ پندرہ خرداد سن بیالیس (ہجری شمسی بمطابق 5 جون سن 1963) کے واقعے میں امام خمینی اور بعض دیگر علماء ہیں۔ ایک شجاع، مجاہد اور سیاست کی شناخت رکھنے والا عالم دین ان تمام واقعات میں موجود ہے اور یہ اس کی موجودگي ہی ہے جو عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کا سبب بنتی ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ کوئي شخص، کوئي اثر و رسوخ رکھنے والا انسان، کسی جگہ کچھ لوگوں کو ایک ردعمل دکھانے پر تیار کر لے لیکن عوام کی عظیم تحریک، انھیں متحرک کر دینا، اس عظیم سمندر کو متلاطم کر دینا، صرف ایک عالم دین کا کام ہے، صرف ایک مرجع تقلید کا کام ہے اور یہیں سے علمائے دین، سیاسی علماء، سیاسی دین، سیاسی فقہ اور سیاسی عالم سے دنیا کی سامراجی طاقتوں کی دشمنی کے راز کو سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کیوں دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کا کردار، سامراج مخالف کردار ہے، سامراج کے خلاف ہے، اس نے ان بڑے بڑے واقعات کو جنم دیا ہے۔ وہ جانتے ہیں اور اسی لیے سیاسی علماء کے مخالف ہیں، سیاسی مرجع تقلید کے مخالف ہیں، سیاسی فقہ کے مخالف ہیں، سیاسی دین اور سیاسی اسلام کے مخالف ہیں۔ وہ کھل کر کہتے ہیں کہ مخالف ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس پر توجہ ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ایران کے اسلامی جمہوری نظام سے امریکا کی دشمنی اور گہرے کینے کو بھی اسی بات سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوری نظام، عوام کے مذہبی عقیدے کا مظہر ہے اور دنیا اور ملک میں جاری مسائل کے سلسلے میں دین سے برآمد ہونے والے انقلابی نظریے سے معرض وجود میں آيا ہے۔ اس وجہ سے سامراج کا سرغنہ کہ جو امریکا ہے، اسلامی جمہوریہ کا مخالف ہے۔ کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ آپ امریکا کی مخالفت کیوں کرتے ہیں اور امریکا مردہ باد کیوں کہتے ہیں تو یہ صرف معاملے کا ظاہری رخ ہے، یہ صرف بات کی اوپری سطح کو دیکھنا ہے، اصل معاملہ یہ ہے کہ سامراج کی فطرت، اسلامی جمہوریہ جیسی چیز کو برداشت ہی نہیں کر سکتی جس کا سب کچھ دین سے ماخوذ ہے، یہ علمائے دین کی تفسیر سے متعلق ہے اور ایک دینی تحریک ہے، اس لیے سامراج فطری طور پر اس کا مخالف ہے۔ یہ 9 جنوری کے واقعے کے بارے میں ایک اور بات تھی۔

ایک دوسری بات یہ ہے کہ اس واقعے میں عوام کی دینی حمیت کے کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس پر بھی میں جو تاکید کرتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس بات کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور وسیع پیمانے پر ثقافتی کوششیں کی جاتی ہیں کہ غیرت دینی پر، غیر معقولیت اور غیر منطقی تشدد کا الزام لگایا جائے۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہیں، معاملہ ایسا نہیں ہے۔ غیرت دینی جہاں سامنے آتی ہے اور بااثر ہوتی ہے، وہاں عقل و منطق کے ساتھ ہوتی ہے، غیرت دینی کا سرچشمہ بنیادی طور پر بصیرت ہے اور بصیرت، تعقل کا ایک پہلو ہے جو دینداری کی گہرائي کو نمایاں کرتا ہے۔ اکثر معاملوں میں اگر آپ دیکھیں گے تو پائيں گے کہ غیرت دینی، عقل و منطق کے ہمراہ ہے۔ جن شخصیتوں کے پاس سب سے زیادہ غیرت دینی ہوتی ہے، ان میں سے اکثر کے پاس عقل و شعور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ وہ غیرت دینی کے اوج پر تھے، حقیقت میں ہم نے ایسے کسی بھی شخص کو نہیں دیکھا اور نہیں جانا جو دین، دینی ثقافت، دینی زندگي، دینی طرز زندگي اور دینی احکام کے سلسلے میں امام خمینی کی طرح ہو، اسی کے ساتھ وہ عقل و منطق کے بھی عروج پر تھے۔ عاقل، منطقی اور دانشمند۔ اس مناسبت سے ہمارے ہم عصر فقیہ اور فلسفی مرحوم آیۃ اللہ مصباح یزدی کا ذکر کرنا بھی بہتر ہوگا کہ وہ بھی اسی طرح کے تھے۔ وہ بھی امام خمینی کے بڑے اچھے شاگرد تھے، مرحوم غیرت دینی کے معاملے میں بھی اوج پر تھے اور تعقل کے اعتبار سے بھی صحیح معنی میں ایک فلسفی تھے۔ 9 جنوری کا قیام، غیرت اور عقل و منطق کا ایک درخشاں امتزاج ہے۔ میں اس سلسلے میں ایک مختصر تشریح پیش کروں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ عقلانیت کے میدان میں اس قیام نے کتنی کامیابی حاصل کی تھی۔

طاغوت اور شاہی حکومت کا ہدف یہ تھا یعنی روزنامہ اطلاعات(2) میں وہ مقالہ لکھا جانا ایک اتفاقی واقعہ نہیں تھا کہ انھوں نے اس کے بارے میں فوری طور پر فیصلہ کر لیا ہو۔ اس کا ایک بڑا ہدف تھا اور وہ امام خمینی کے تقدس کو ختم کرنا تھا۔ عوام کی نظروں میں امام خمینی کی جو عظمت تھی اور جس کے سبب وہ ان کے حکم پر چلتے تھے اسے توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ وہ رائے عامہ میں اور لوگوں کے ذہنوں میں امام خمینی کے روز افزوں اثر و رسوخ کو دیکھ رہے تھے، اس کا مشاہدہ کر رہے تھے؛ وہ چاہتے تھے کہ عوام کے درمیان امام خمینی کی ساکھ کو گرا دیں۔ اس لیے انھوں نے یہ کام شروع کیا تھا۔ اگر 9 جنوری کے دن قم کے عوام نے شاہی حکومت کو زوردار تھپڑ رسید نہ کیا ہوتا تو یہ کام جاری رہتا۔ صرف وہی ایک مقالہ نہیں تھا، کئي مقالے، کتابیں اور کہانیاں لکھی جاتیں، فلمیں تیار کی جاتیں تاکہ امام خمینی اور ان کی پوزیشن کو عوام کی نظروں میں گرا دیں اور درحقیقت تحریک کی مرکزیت کو ختم کر دیں۔ کیونکہ امام خمینی عوام کی اس عظیم تحریک کا مرکز و محور تھے جو روز بروز پھیلتی جا رہی تھی اور شاہی حکومت کے سیکورٹی ادارے اس حقیقت کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ تحریک کے اس محور کو اور اس تحریک کو توانائی عطا کرنے والے مرکز کو اپنے اس کام کے ذریعے ختم کر دینا چاہتے تھے۔

طاغوتی حکومت کو امریکا کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ یعنی اسے اطمینان تھا کہ وہ اس سلسلے میں جو بھی اقدام کرے گي اور اس کے ایجنٹ، امام خمینی پر مثال کے طور پر ایک شدت پسندانہ کام یا تشدد پھیلانے کا الزام لگائیں گے اور یہ طے کر دیں گے کہ جو بھی امام خمینی کی حمایت کرے گا، اس پر دباؤ ڈالیں گے تو امریکا شاہی حکومت کی پشت پر رہے گا اور کوئي عالمی ردعمل وغیرہ سامنے نہیں آئے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ انھیں دنوں، یعنی 10 دی سن 1356 (ہجری شمسی بمطابق 31 دسمبر 1977) کو (جمی) کارٹر، تہران میں تھا اور اس نے نئے سال کا جشن تہران میں شاہ کے ساتھ منایا تھا۔ اس نے وہاں پر ایک تقریر کی اور کہا کہ ایران -پہلوی کا ایران- ثبات و استحکام کا جزیرہ ہے۔ یہ اس کی غلطیوں میں سے ایک تھی اور یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کے اندازے کتنے غلط ہیں -اب بھی امریکیوں کے اندازے غلط ہیں- ان میں سے ایک یہی بات تھی کہ اس نے کہا، ایران ثبات و استحکام کا جزیرہ ہے۔ بنابریں طاغوت -محمد رضا-(شاہ) سمجھ رہا تھا کہ امام خمینی کو کچل کر، تحریک کو ختم کرنے کے لیے موقع پوری طرح سے مناسب ہے۔ البتہ امام خمینی کا جسم، ان کی دسترس میں نہیں تھا کیونکہ وہ نجف میں تھے لیکن شاہ اور اس کے افراد امام خمینی کے ذکر، ان کے نام اور ان کی عزت کو پامال کر سکتے تھے، ان کی اہانت کر سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ موقع بڑا اچھا ہے اور انھوں نے یہ کام شروع کر دیا۔ بنابریں یہ کام پہلے سے طے شدہ اور سوچا سمجھا تھا یعنی انھوں نے اس مسئلے کے بارے میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کی تھی اور سارا اندازہ لگا لیا تھا۔

قم کے عوام نے ان کے اندازے کو مٹی میں ملا دیا۔ یعنی قم کے عوام کے اس کام نے دشمن کے اندازے اور حساب کتاب کو الٹ پلٹ دیا؛ "فالذین کفروا ھم المکیدون”(3) انھوں نے چال چلی لیکن یہ چال انھیں کے خلاف چلی گئي۔ یعنی وہ چاہتے تھے کہ امام خمینی کی پوزیشن کمزور کر دیں لیکن ان کا یہ کام اس بات کا سبب بنا کہ امام خمینی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر اور پہلے سے زیادہ نورانیت کے ساتھ میدان میں آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ امام خمینی کے ساتھ عوام کے رشتے کو کمزور بنا دیں، یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گيا۔ وہ چاہتے تھے کہ تحریک کو کمزور بنا دیں، یہ تحریک زیادہ مضبوط ہو گئی۔ درحقیقت عوام کے اس اقدام میں ایک ایسا اندازہ شامل تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سڑک پر آنے والے ہر ہر فرد نے یہ اندازہ لگایا تھا لیکن اس اجتماعی اقدام کے پیچھے، کہ درحقیقت خداوند عالم نے عوام کے دل میں اس کا القاء کر دیا تھا، ایک اہم اندازہ کارفرما تھا اور اس اندازے نے دشمن کے اندازوں کو الٹ دیا۔ اس کی چال کو ناکام بنا دیا۔ یعنی وہی شخص، جس نے اس دن – دس دی سن تیرہ سو چھپن (ہجری شمسی بمطابق اکتیس دسمبر سن انیس سو ستتر) کو ایران کو ثبات و استحکام کے جزیرے کا نام دیا تھا، وہ خود یعنی کارٹر اگلے سال ہائزر کو تہران بھیجنے پر مجبور ہو گيا کہ وہ جن ذرائع سے بھی ممکن ہو اور جس طرح بھی ممکن ہو، تحریک کو ختم کر دے۔ بغاوت سے، قتل عام سے، لوگوں کے قتل عام سے یہ کام کرے- البتہ بحمد اللہ وہ اس کام میں بھی ناکام رہا اور وہ لوگ انقلاب کو جنم لینے سے نہیں روک سکے۔

امریکا میں غلط اندازے لگانے کا سلسلہ، اس کے پالیسی ساز اداروں میں بدستور جاری ہے۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہے۔ اس وقت بھی مختلف مسائل کے بارے میں وہ کوئي اندازہ لگاتے ہیں لیکن شکست کھا جاتے ہیں۔ اس کا نمونہ، ہمارے عزیز شہید، شہید سلیمانی کی شہادت کے واقعے کا زندہ رہنا ہے۔ وہ کیا سوچ رہے تھے اور کیا ہو گيا! وہ سوچ رہے تھے کہ شہید سلیمانی کو راستے سے ہٹانے سے، وہ عظیم تحریک، جس کے وہ نمائندہ تھے، مظہر تھے، رک جائے گی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ مزید پھیل گئي ہے۔ اس سال شہید سلیمانی کی شہادت کی دوسری برسی پر یہ عظیم الشان کام کس کا تھا؟ کس کے ہاتھ میں تھا؟ کوئي ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ یہ کام میں نے کیا یا ہم نے کیا؟ اللہ کی طاقت اور دست الہی کے علاوہ کسی کا کام نہیں تھا۔ ایران میں، ایران سے باہر یہ عظیم الشان کام، شہید سلیمانی سے اجتماعی اور عوامی محبت و ارادت کے اظہار کی دشمن پیش بینی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ان چیزوں کے بارے میں اندازہ لگا ہی نہیں سکتا۔ دشمن کے اندازہ لگانے اور پالیسی بنانے والے شعبے واقعی غافل اور ناکارہ ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ سے متعلق حقائق کو اس طرح سے نہیں سمجھ سکتے جیسے وہ ہیں۔ جب موجودہ صورتحال کے بارے میں اندازہ غلط ہوگا تو فیصلے بھی غلط ہوں گے اور غلط فیصلے ان کی ناکامی کا سبب بنیں گے، جیسا کہ وہ اب تک ناکام رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ناکام رہیں گے۔

بہرحال، میرے عزیزو! وہ دن گزر گئے؛ 9 جنوری کو کبھی بھلایا نہیں جائے گا؛ بحمد اللہ آج تک زندہ ہے، اس کے بعد بھی اسے فراموش نہیں کیا جائے گا۔ قم کے 9 جنوری کے واقعے کے بعد تحریک نے زور پکڑ لیا؛ خداوند عالم نے اہل قم کے اقدام کو برکت عطا کی، یہ تحریک زور پکڑ گئی اور انقلاب پر منتج ہوئي۔ عظیم الشان امام خمینی، فاتحانہ انداز میں وطن واپس لوٹے، انقلاب کامیاب ہوا اور اسلامی جمہوریہ -جو دینی جمہوری نظام ہے- قائم ہوا اور وجود میں آیا۔

اس دن کو 43 سال گزر چکے ہیں اور یہ تینتالیس سال جہاد، نشیب و فراز اور مختلف طرح کی کارروائيوں کے گواہ رہے ہیں۔ یہ واقعات، ہمارے ماضی کے واقعات ہیں جن سے ہمیں عبرت اور سبق حاصل کرنا چاہیے لیکن ایک زندہ قوم صرف ماضی پر نظر نہیں رکھتی۔ ایک زندہ قوم اپنی تاریخ کے ہر دور میں اپنے زمانے کی ضروریات اور اس لمحے اس کے کندھوں پر جو ذمہ داری ہے اس پر، اپنے اگلے قدم پر بھی جو اسے اٹھانا ہے، اور لائحۂ عمل پر بھی نظر رکھتی ہے۔ ہمیں موجودہ لمحے کی اپنی ذمہ داری کو پہچاننا چاہیے، مستقبل کے لیے اپنے قدموں کا تعین کرنا چاہیے، لائحۂ عمل کو واضح کرنا چاہیے، اس پر نظر رکھنی چاہیے اور پوری طاقت اور پوری توانائي سے اس کی جانب بڑھنا چاہیے۔ اس طرح یہ تحریک حقیقی معنی میں کامیاب ہوگي اور اپنی حتمی فتح تک پہنچے گی جو ایرانی قوم کی حیات طیبہ سے عبارت ہے، پہلے مرحلے میں -یہ الگ بات ہے کہ دوسروں نے بھی اس سے سبق حاصل کر لیا ہے، یہ آئيڈیل بن گئي ہے، یہ الگ موضوع ہے- سعادت اور اسلامی زندگی، جو حیات طیبہ ہے اور اس میں دین بھی ہے، دنیا بھی ہے، آسائش بھی ہے، جسم بھی ہے، روح بھی ہے اور ان سب کی ضروریات کی تکمیل کا سامان بھی ہے، ان شاء اللہ ہم یہ حیات طیبہ حاصل کر لیں۔ ابھی ہم بیچ راستے میں ہیں۔ البتہ آج تک اس راہ کا کچھ حصہ طے کیا جا چکا ہے، ایرانی قوم نے کام کیا ہے، کوشش کی ہے اور ہم تھوڑا آگے بڑھ چکے ہیں لیکن ہمیں اپنی آج کی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور کل کی ذمہ داری اور لائحۂ عمل کو بھی محسوس کرنا چاہیے۔

کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ مثال کے طور پر لوگوں کی رائے کے بارے میں کچھ سروے کرائے جاتے ہیں لیکن ان سے ایرانی قوم کی حقیقت کی عکاسی نہیں ہوتی۔ ایرانی قوم کی حقیقت کا مظاہرہ شہید سلیمانی کے جلوس جنازہ کے دوران ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ ایرانی قوم کا اس وقت کیا حال ہے اور وہ کس طرح کے دن گزار رہی ہے؟ اس کے جذبات کیا ہیں؟ اس کے باطن میں کیا ہے؟ یعنی ملک ایران اور ایرانی قوم کی عظمت جتنا بڑا ایک میدان درکار ہے جو اس قوم کی حقیقت اور اس کے باطن کو نمایاں کر سکے۔ یہ سروے جو کچھ لوگ گوشہ و کنار میں خاص مقصد کے تحت یا بلامقصد انجام دیتے ہیں، کسوٹی نہیں بن سکتے۔

بحمد اللہ اس وقت ملک میں مومن اور حزب اللہی نوجوانوں کی سوچ پھیلتی جا رہی ہے۔ خوش قسمتی سے اس وقت بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے یہ انقلابی اور مومن سوچ ہمارے ہمراہ ہے۔ تخلیقی سوچ، آگے بڑھنے والی سوچ۔ اس بنیاد پر میں کچھ یاد دہانیاں اور انتباہات پیش کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ انتباہات تو زیادہ ہیں لیکن اس نشست میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان طویل گفتگو کر سکے۔ لہذا میں بس چند انتباہات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

میرا پہلا انتباہ یہ ہے کہ میرے عزیزو! جو لوگ اس بندۂ حقیر سے یہ باتیں سن رہے ہیں! غیرت دینی کی حفاظت کیجیے، مذہبی غیرت کی حفاظت کیجیے۔ مختلف اہم مواقع پر ملک کی نجات کا سبب ایرانی قوم کی دینی غیرت تھی۔ دینی غیرت ہی ہے جو خطروں کو موقعوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اس کی ایک مثال مسلط کردہ جنگ اور آٹھ سالہ دفاع ہے جو ایک بڑا خطرہ تھا لیکن لوگوں کی دینی حمیت، نوجوانوں کی دینی غیرت اور والدین اور بیویوں کی دینی غیرت اس بات کا سبب بنی کہ ہمارے نوجوان، محاذ جنگ پر جائيں اور دینی غیرت نے اس جنگ میں، جو درحقیقت عالمی جنگ تھی اور اس وقت امریکا، سوویت یونین، نیٹو اور خطے کی رجعت پسند طاقتوں نے، سبھی نے ایران کو ہرانے، امام خمینی کو شکست دینے اور تحریک کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کر رکھا تھا، اس جنگ میں ان سبھی کو شکست دی اور فاتح ہوئي۔ اس کا سرچشمہ دینی غیرت تھی۔ یہ تو مقدس دفاع کی بات تھی، بعد کے برسوں میں بھی مختلف واقعات ہوئے ہیں جن میں دینی غیرت نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

خود ہمارے اس زمانے میں بھی ہمارے انہی شہید، شہید سلیمانی کی شہادت واقعی ایک تاریخی اور عجیب واقعہ بن گئي۔ شہید سلیمانی کی شہادت، کوئي سوچ بھی نہیں سکتا تھا، دوست بھی نہیں سوچتے تھے کہ یہ واقعہ اس طرح سے عظمت حاصل کر لے گا، خداوند متعال اسے ایسی برکت عطا کرے گا کہ یہ عوام کے دینی اور انقلابی تشخص کو سبھی کی آنکھوں کے سامنے لے آئے گا اور سبھی اس کا مشاہدہ کریں گے۔ حقیقی معنی میں شہید سلیمانی کے تابوت کے زیر سایہ ایرانی قوم نے اپنے تشخص اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ تہران میں جلوس جنازہ، کرمان میں جلوس جنازہ، تبریز میں جلوس جنازہ اور مختلف شہروں میں جلوس جنازہ! عراق میں وہ عظیم الشان جلوس جنازہ اور اگر اس شہید کے مقدس جنازے کو شام اور لبنان لے جایا جاتا تو وہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔ اگر پاکستان لے جاتے تو وہاں بھی یہی ہوتا۔ یعنی مسلمان قوم کے اس عظیم کارنامے نے یہ دکھا دیا کہ یہ واقعہ، بڑا عظیم واقعہ تھا۔ یعنی شہید سلیمانی جیسی ایک عظیم شخصیت کی شہادت، دشمن کی نظر میں اور سبھی کی نظر میں ایک خطرہ سمجھی جاتی تھی لیکن مسلمان قوم، ایرانی قوم نے اس خطرے کو موقع میں تبدیل کر دیا اور یہ ایک موقع بن گئي۔

ماضی کی ہماری تاریخ میں اس طرح کے واقعات رہے ہیں؛ 9 دی (30 دسمبر) کا واقعہ بھی اسی طرح کا ہے۔9 دی سن 88 (ہجری شمسی بمطابق 30 دسمبر 2009) کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ اس میں بھی ایک بڑا خطرہ سامنے آیا تھا، کئي مہینے تک جاری بھی رہا تھا لیکن لوگوں کی غیرت دینی 9 دی کو میدان میں آ گئي اور اس خطرے کو ختم کر دیا بلکہ اس کے برے اثرات کو بھی ختم کر دیا اور اس خطرے کو موقع میں تبدیل کر دیا۔ یہ ایک بات کہ ان کامیابیوں، ان فتوحات اور ان خطروں کے مواقع میں تبدیل ہونے کی اصل وجہ عوام کی دینی حمیت تھی، اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ مقرریین، مصنفین اور عوام کی ذہنی و فکری فضا پر گہرا اثر رکھنے والے افراد اس نکتے پر توجہ دیں۔ البتہ یہ بات بھی واضح ہے کہ مخالفین اور دشمن بھی اس سلسلے میں اپنا کام کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے میں میری ان باتوں پر بھی اعتراض کریں گے، باتیں کریں گے لیکن حقیقت یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام میں اس دینی غیرت کو محفوظ رہنا چاہیے اور اللہ کی توفیق سے یہ محفوظ رہے گی۔

میرا دوسرا انتباہ یہ ہے کہ آپ اس بات پر توجہ دیجیے کہ آج کل انقلاب کے دشمنوں اور اسلامی جمہوری نظام کے دشمنوں کی سازشوں میں جن کاموں پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، ان میں سے ایک، انقلاب کے مسلّمات اور بنیادی اصولوں کے سلسلے میں پائی جانے والی حساسیت کو ختم کرنا ہے۔ لوگ حسّاس ہیں نا! لوگ انقلاب کے بنیادی مسائل کے بارے میں حساس ہیں، اگر کوئي ان بنیادی اصولوں پر حملہ کرے تو لوگ، سامنے آ جاتے ہیں۔ دشمن چاہتے ہیں کہ اس حساسیت کو دھیرے دھیرے کم کر دیں۔ یہ چیز بھی وسیع پروپيگنڈے کی اسی راہ سے آگے بڑھائي جا رہی ہے جو آج کل سائبر اسپیس اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں مختلف طرح سے پیش کی جا رہی ہے۔ کبھی بعض لوگوں کی باتوں کو، ایسے لوگوں کی باتوں کو جن کی کوئي خاص حیثیت نہیں ہے، نہ ان کی باتیں اہم ہیں اور نہ ہی ان کی سوچ، ان لوگوں کی باتوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، یہ فرومایہ اور بڑبولے قسم کے افراد ہیں جو انقلاب کے اصولوں پر اور انقلاب کی بنیادوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

انقلاب کے بنیادی اصول جیسے دین کی حکمرانی پہلے نمبر پر۔ بنیادی طور پر اسلامی جمہوریہ اور اسلامی انقلاب، دین خدا کی حکمرانی کے لیے تشکیل پایا ہے۔ اس کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ، مذہبی شکل میں اور مذہبی انداز میں زندگی گزارے اور اسے مذہبی طرز پر ڈھالا جائے۔ حکومت دینی طرز پر تشکیل پائے اور آگے بڑھ کر اقدامات کرے۔ یہ چیز انقلاب کے بنیادی اصولوں میں تھی۔ لوگوں نے جان دی، اپنا خون پیش کیا، نثار کیا تاکہ یہ کام ہو جائے؛ یہ انقلاب کے اصولوں کا حصہ ہے، اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ یا مثال کے طور پر سامراجی دشمن کے سامنے نہ جھکنا؛ یہ انقلاب کے اصولوں میں شامل ہے۔ جھکنا نہیں چاہیے؛ دشمن کی منہ زوری کو برداشت نہیں کرنا چاہیے؛ یہ جو ہم مثال کے طور پر کبھی دشمن سے مذاکرات کرتے ہیں، بات کرتے ہیں اور لین دین کرتے ہیں، یہ ایک الگ بات ہے۔ انقلاب ہم سے کہتا ہے کہ دشمن کی منہ زوری اور اس کی باتوں کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے؛ اب تک خداوند عالم کی توفیق سے ہم جھکے نہیں ہیں اور آئندہ بھی کبھی نہیں جھکیں گے، یہ چیز بنیادی اصولوں میں ہے۔ وہ اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں، مثال کے طور پر کہتے ہیں "جناب کیوں؟ کیا حرج ہے؟ کیا مشکل ہے؟” یعنی اس طرح کے نمایاں اصول کی اہمیت کو کم کرنا۔ یا ملک کی خودمختاری یا بدعنوانی سے مقابلہ، ناانصافی سے مقابلہ وغیرہ؛ یہ سب انقلاب کے بنیادی اصول ہیں۔

یہ دشمن کی ایک ہمہ گیر اور مختلف النوع سافٹ وار کا ایک حصہ ہے جس پر وہ مسلسل کام کر رہا ہے۔ اسے مدنظر رکھنا چاہیے اور حساسیت ختم کرنے کی اس سازش کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ اہل فکر و نظر، اہل قلم، مختلف سماجی سرگرمیاں انجام دینے والے افراد، سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والے لوگ، جو لوگ کر سکتے ہیں اور جن کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، اس سلسلے میں ان پر ذمہ داری ہے؛ انھیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ دشمن، دھیرے دھیرے عوام کی اس حساسیت اور حمیت کو کم کر دیں۔

یہیں پر اس بات کو بھی جان لینا چاہیے کہ یہ سوچنا کہ یہ اصول عوام کے لیے، ملک کے لیے اور مستقبل کے لیے فائدے مند نہیں ہیں، ایک بہت ہی غلط تصور ہے جو حقیقت سے دور ہے؛ یہ پوری طرح سے ناانصافی ہے۔ ہمارے ملک میں ان تینتالیس برسوں میں جہاں بھی ہم نے ترقی کی ہے، کامیابی سے قدم اٹھایا ہے، ہمارے ہاتھ کھلے ہیں، وہ ایسی جگہیں رہی ہیں جہاں انقلابی جذبے والے افراد مجاہدت کے ساتھ سرگرم عمل ہوئے ہیں، انھوں نے کام کیا ہے اور ہم نے پیشرفت حاصل کی ہے۔ سائنسی پیشرفت، صنعتی پیشرفت، فنی و تکنیکی پیشرفت، سیاسی پیشرفت، مختلف شعبوں میں جہاں بھی مومن، آگاہ، ماہر اور انقلابی افراد میدان میں موجود تھے، وہاں ہم نے پیشرفت حاصل کی لیکن جہاں بھی کام رک گيا، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ موقع پرست لوگوں سے سروکار ہے، بدعنوانی، تعیش پرستی، غیر انقلابی سوچ اور غیر انقلابی اقدامات کا دخل ہے؛ یہ کاموں کے رک جانے اور پیشرفت رک جانے کا سبب بنتے ہیں۔ بنابریں انقلاب کے اصولوں کی پابندی، یقینی طور پر ملک کی ترقی اور قوم کی پیشرفت کے سب سے اہم وسائل میں سے ایک ہے؛ یہ بھی ایک انتباہ ہے جو آپ کے مدنظر رہنا چاہیے۔

اگلا انتباہ، اور میری نظر میں یہ بھی بہت اہم ہے، ملک میں اتحاد کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ ہمیں تفرقے کے اسباب کو جتنا ہو سکے، کم کرنا چاہیے۔ البتہ سوچ میں اختلاف ہوتا ہے، طریقے میں اختلاف ہوتا ہے، روش اور عادت میں اختلاف ہوتا ہے، یہ سب ہے، لیکن ہمیں ان چیزوں کو، ایک دوسرے کے مقابلے میں محاذ آرائي کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے؛ عوام کی یکجہتی، ان چیزوں سے ختم نہیں ہونی چاہیے، ہمیں ان اختلافات کو بڑھنے نہیں دینا چاہیے۔

البتہ فطری طور پر کچھ لوگ ہیں جو انقلاب کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور انقلاب کے پاس ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے علاوہ اور کوئي چارہ نہیں ہے۔ لیکن اگر بات اختلاف رائے، طریقے میں اختلاف اور نظریے میں اختلاف کی ہے اور یہ چیزیں معاشروں میں ہوں تو انھیں قومی یکجہتی کی کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے؛ یعنی ملک کے دفاع کے لیے، ملک کی پیشرفت کے لیے، ملک کے جوانوں میں امید پیدا کرنے اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لیے اجتماعی رجحان باقی رہنا چاہیے۔

ہمیں یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ دنیا میں ہماری دشمنی کے محاذ میں ایسے دشمن بھی ہیں جن کی مہارت، اختلاف پیدا کرنے میں ہے، ان کی مہارت "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” کی ہے؛ یہ بڑی پرانی چیز ہیں جو ان میں سے بعض سے متعلق ہے؛ یہ لوگ یہ کام کرنا جانتے ہیں؛ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی انھیں موقع ملا ہے، انھوں نے یہ کام کیا ہے؛ جیسے مذہبی اختلاف، شیعہ سنی اختلاف؛ ہمیں اپنے ملک میں ان چیزوں کو سامنے آنے یا بڑھنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ ملک میں صدیوں سے شیعہ اور سنی ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، برسوں سے انھوں نے زندگي گزاری ہے اور کوئي بھی دشواری پیش نہیں آئي ہے۔ ہمارے یہاں کبھی مختلف اقوام میں اختلافات رہے ہیں، مختلف اقوام اور قومیتوں کے لوگوں میں ٹکراؤ بھی رہا ہے لیکن شیعہ اور سنی کے درمیان ٹکراؤ اور اختلاف کبھی نہیں رہا ہے۔ اب بھی ایسا کوئي بہانہ پیدا نہیں ہونا چاہیے، ایسی کوئي چیز سامنے نہیں آنی چاہیے، البتہ بحمد اللہ ایسی کوئي چیز نہیں ہوئي ہے لیکن ہمیں اس طرح کی کسی بھی چیز کو سامنے آنے ہی نہیں دینا چاہیے، خیال رکھنا چاہیے۔ اب اگر کوئي ایک غلط بات کہہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں ایک شخص ذمہ داری محسوس کرتا ہے تو اسے زیادہ طول نہیں دینا چاہیے، جاری نہیں رکھنا چاہیے۔ بنابریں سبھی کو اس یکجہتی کی حفاظت کرنی چاہیے۔

آپ دیکھیے کہ اسلامی جمہوری حکومت ایک اسلامی حکومت ہے اور اس کا پرچم، تشیع کا پرچم ہے لیکن اس وقت جن اسلامی ملکوں میں اہلسنت رہتے ہیں، بسا اوقات ان میں اسلامی جمہوریہ کے سلسلے میں شدید محبت و الفت، تعاون، حمایت اور گہری دوستی کا اظہار دیکھا جاتا ہے۔ مشرقی ایشیا سے لے کر مغربی افریقا تک متعدد ملکوں میں ایسے لوگ ہیں جو اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں اور وہ شیعہ بھی نہیں ہیں۔ بنابریں آج عالم اسلام میں اسلامی جمہوریہ، اسلام کا مظہر ہے، امت اسلامی کا مظہر ہے، امت اسلامی کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ میں نے عرض کیا، آپ نے دیکھا کہ شہید سلیمانی کی اسی برسی کے موقع پر مختلف ملکوں میں، کہ جن میں زیادہ تر اہلسنت تھے، کتنے عظیم الشان مظاہرے وغیرہ انجام پائے۔ یہ نہیں سوچا جانا چاہیے کہ آج ہمیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ قومی یکجہتی کے مسئلے میں بے توجہی سے کام لیں۔

البتہ کچھ دوسرے انتباہات بھی ہیں جنھیں بارہا عرض کیا جا چکا ہے: امید بڑھانا اور مستقبل کے سلسلے میں واضح تصویر رکھنا؛ یہ ہمارے آج کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو کوشش کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں پائی جانے والی امید کو کمزور کر دیں اور انھیں مستقبل کی طرف سے ناامید کریں تاکہ ان کے سامنے کوئي افق ہی نہ رہے؛ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دلوں میں اس امید کو مضبوط بنائيں۔ یہ امید صرف باتیں کر کے مضبوط نہیں بنائی جا سکتی؛ کوشش اور کام بھی ہونا چاہیے۔ ملکی عہدیداران، ملکی حکام، جو بحمد اللہ کام میں مصروف اور سرگرم ہیں، اس بات پر توجہ دیں کہ ان کے بہت سے اچھے کام، جوانوں کے دل کو پرامید بنا سکتے ہیں، امید سے لبریز کر سکتے ہیں اور انھیں امید سے بھر سکتے ہیں۔ جب جوان پرامید ہوگا تو مختلف میدانوں میں خوب کام کرے گا، خوب کوشش کرے گا، اچھی طرح تعلیم حاصل کرے گا، بہتر طریقے سے تحقیق کرے گا۔ ایک کام یہ بھی ہے کہ آپ سائبر اسپیس، سوشل میڈیا اور دوسری جگہوں پر کچھ لوگوں کو ان کے وسوسوں کے ذریعے نوجوانوں کو پرامید بنانے کے عمل کی مخالف سمت میں حرکت کرنے کی اجازت نہ دیجیے۔

ایک اور نکتہ اور انتباہ یہ ہے کہ ہم یہ موقع نہ دیں کہ اسلامی جمہوریہ کی کامیابیاں پوشیدہ رہ جائیں۔ یہ واقعی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بے شک آج اقتصادی شعبے میں ہماری کچھ مشکلات ہیں، مثال کے طور پر افراط زر کا مسئلہ ہے، بعض اشیاء کی گرانی کا مسئلہ ہے، عوام بالخصوص کمزور طبقات کی معیشت، بینکنگ کی مشکلات، ٹیکس کی مشکلات وغیرہ ہیں۔ یہ ہماری مشکلات ہیں۔ مگر کچھ لوگ انھی مشکلات کو کچھ اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ گویا اسلامی جمہوریہ کو کہیں کوئی کامیابی ملی ہی نہیں، ان کامیابیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اسلامی جمہوری نظام کے مختلف شعبوں میں درجنوں کامیابیاں ہیں جن میں بعض کا ذکر حقیر نے دوسرا قدم (سے موسوم) اعلامئے (5) میں کیا تھا۔ ہمیں اسلامی جمہوری نظام کی ان بڑی کامیابیوں کو بیان کرنا چاہئے، عوام کے سامنے اور ان لوگوں کے سامنے لانا چاہئے جو غفلت برتتے ہیں۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے جس پر توجہ ہونی چاہئے۔

ایک اور نکتہ عوام دوست بنے رہے کا ہے۔ بحمد اللہ آج جو حکومت اقتدار میں ہے عوام سے اس کا رابطہ اچھا ہے۔ عوام الناس کے درمیان جاتی ہے، عوام کے درمیان موجود رہتی ہے۔ عوامی اقدام اور عوامی رجحان باقاعدہ محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل کی تکمیل کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ کچھ لوگ اس پر بھی سوال اٹھاتے ہیں لیکن ان پر اعتنا نہیں کرنا چاہئے۔ واقعی عوام کے درمیان جانا حالانکہ عہدیداران کو تھکا دینے والا عمل ہے، یہ دشوار کام ہے، لیکن اس کا بہت اثر ہے، بہت اچھا قدم ہے۔ یہ جاری رہنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ عوام سے جو وعدے کئے جاتے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ میعاد کے اندر وعدے پورے کئے جائیں تاکہ عوام کو محسوس ہو کہ سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ جہاں ان وعدوں پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی وعدہ کیا گیا لیکن اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے وسائل مہیا نہیں ہیں، ایسی صورت میں جائیں اور انھی عوام سے جن کے درمیان وعدہ کیا تھا، صراحت کے ساتھ واضح لفظوں میں وضاحت کریں۔ بتائیں کہ یہ وجہ ہو گئی جس کے باعث ہم اس پر عمل نہیں کر سکے۔ ان شاء اللہ آئندہ عمل کریں گے۔ ایک چیز وعدوں پر عمل کا معاملہ ہے۔

ایک اور چیز یہ ہے کہ بعض اوقات صاحبان نظر اور ماہرین جو عوام کا حصہ ہیں مختلف شعبوں کے بارے میں کچھ تجاویز اور طریقے پیش کرتے ہیں۔ عہدیداران کوئی طریقہ اختیار کریں جس سے ان تجاویز سے استفادہ کرنا ممکن ہو۔ یعنی در حقیقت عوام کو ملک کے فیصلہ ساز اور پالیسی ساز اداروں کے فیصلوں میں شامل کریں۔ یہ ایک چیز ہے۔ عوامی تجاویز کو عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے اس کے لئے بھی ایک سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام عملی اقدامات میں بھی شریک ہو سکیں۔ بہت سے افراد ہیں جو کچھ کاموں میں حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور مدد کرتے ہیں۔ یہ روش معین ہونی چاہئے کہ کس طرح عوامی تعاون اور مدد متعلقہ شعبے تک پہنچے۔ ان چیزوں کے بارے میں بیٹھ کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے سوچنے کی ضرورت ہے، اسٹڈی وغیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

نگرانی کے لئے بھی عوامی توانائیوں سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔ ملک کے گوشہ و کنار میں ایسی جگہیں ہیں جہاں کرپشن ہے۔ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ ممکن ہے کہ متعلقہ حکام کی نگاہوں سے وہ پوشیدہ ہو، پنہاں ہو لیکن عوام اسے دیکھتے ہیں، اس سے واقف ہیں۔ اس سلسلے میں بھی عوام کی توانائیوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔ بنابریں عوامی ہونا بہت کلیدی اور اساسی کام ہے۔ عہدیداران کو چاہئے کہ اسی شکل میں جو میں نے مختصرا بیان کی عمل کریں۔

مجموعی طور پر میں جو سفارشات اپنے عزیز عوام کے سامنے پیش کرتا ہوں اس کے عوض عہدیداران اپنا فریضہ سمجھیں کہ واقعی انھیں اپنے پورے وجود سے کام کرنا ہے۔ البتہ آج جو چیز میں دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بحمد اللہ محترم عہدیداران اوپر سے لیکر نیچے تک کام میں مصروف ہیں، محنت کر رہے ہیں، صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔ جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں وہ محنت کر رہے ہیں، واقعی زحمت اٹھا رہے ہیں۔ یہ زحمتیں ان شاء اللہ برکت خداوندی کا ذریعہ بنیں گی۔ اس جدوجہد کو جاری رکھیں، عوام کے لئے کام کریں، اپنی نیت کو خالصتا لوجہ اللہ بنائیں۔ ایسی صورت میں ان کا عمل واقعی بڑی عبادت قرار پائے گا۔ میں یہیں پر اپنے معروضات ختم کرتا ہوں۔

اللہ تعالی سے میری دعا ہے کہ ملت ایران کو تمام میدانوں میں، تمام شعبوں میں دشمنوں پر فتحیاب کرے۔ بزرگوار امام کی پاکیزہ روح کو شاد کرے اور اپنے اولیاء کے ساتھ محشور فرمائے، انھیں ہم سے راضی و خوشنود رکھے کہ ہم ان کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ شہدا کی پاکیزہ ارواح کو ہم سے راضی رکھے اور انھیں اپنے اولیا کے ساتھ محشور کرے، ہمیں ان کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچائے۔

میں ایک بار پھر قم کے عزیز عوام اور اس جلسے کے آپ محترم حاضرین کی خدمت میں سلام و تہنیت پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان شاء اللہ آپ سب کو اپنے لطف و رحمت و برکات سے نوازے گا۔

والسّلام ‌علیکم‌ و رحمةالله ‌و برکاته

(1) اس پروگرام میں شریک افراد قم میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم اقدس کے امام خمینی شبستان (ہال) میں اکٹھا ہوئے تھے۔

(2) ‘ایران اور سرخ و سیاہ سامراج’ اس مقالے کا عنوان تھا جو سترہ دی تیرہ سو چھپن ہجری شمسی (سات جنوری انیس سو اٹھہتر) کو شاہ کے حکم پر اس کے ایک پٹھو نے احمد رشیدی مطلق کے قلمی نام سے روزنامہ اطلاعات میں شا‏ئع کروایا تھا۔ اس مقالے میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی کافی اہانت کی گئي تھی اور انھیں غیر ملکی ایجنٹ بتایا گيا تھا۔

(3) سورۂ طور، آيت 42، تو کفر اختیار کرنے والوں پر ان کی چال الٹی پڑ گئي ہے۔

(4) جنرل ہائزر امریکی فضائیہ کا جنرل تھا جو چار جنوری سن انیس سو اناسی کو اسلامی انقلاب کو کامیابی سے روکنے کے لیے بغاوت اور شاہی فوج کی قیادت کے لیے ایران آیا تھا اور ایک مہینے بعد، بغاوت کی سازش ناکام ہونے پر ایران سے فرار ہو گيا۔

(5) اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے ایرانی قوم کے نام پیغام، 11 فروری 2019

 

یہ بھی دیکھیں

امام علی رضا علیہ السلام اور مہدوی اقدار

تحریر: نجم الدین طبسی مہدوی معاشرے میں اخلاقی اقدار بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ امام …