پیر , 24 جنوری 2022

آل صہیون آل سعود گٹھ جوڑ

تحریر: علی احمدی

لبنان میں سعودی سفیر ولید بخاری کی جانب سے اسلامی مزاحمتی گروہ حزب اللہ لبنان کو عربی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینا کوئی اتفاقی یا عارضی بات نہیں ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے سیاسی اور فوجی حلقے موجودہ دور میں حزب اللہ لبنان کو اپنی قومی سلامتی کے لئے شدید ترین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ سعودی سفیر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ آل سعود رژیم کے اہداف غاصب صہیونی رژیم کے اہداف میں ضم ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں خطے میں آل سعود رژیم کے کردار میں بھی وسعت آ گئی ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے سعودی رژیم کو اپنے ایسے اہداف سونپ دیے ہیں جن کے حصول کے لئے مختلف وجوہات کی بنا پر وہ خود سرگرم عمل ہونے سے قاصر ہے۔

غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے آل سعود رژیم کو وکیل بنانے کی بنیادی وجہ اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی مذہبی پوزیشن اور وسیع پیمانے پر دولت اور ثروت سے مالا مال ہونا ہے۔ لہذا خطے میں اسلامی مزاحمت کے خلاف جو کردار صہیونی رژیم بذات خود ادا نہیں کر سکتی وہ اس نے آل سعود رژیم کو سونپ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آل سعود رژیم بہت جلد اعلانیہ طور پر غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے والی ہے۔ دوسری طرف خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی سعودی حکمرانوں کو اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر برقرار تعلقات کا برملا اظہار کرنے کے مرحلے کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ آل سعودی رژیم کا اس سمت دھکیلے جانے کا ایک سبب خطے میں اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں بے بسی اور کمزوری کا احساس ہے۔

دوسری طرف امریکہ بھی خطے میں اپنے کاندھوں سے ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے درپے ہے جس کا مقصد اپنی توجہ چین سے مقابلہ کرنے پر مرکوز کرنا ہے۔ لہذا ایسی قوتوں کا آپس میں اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دینا ایک فطری امر ہے جو ایک جیسے اہداف اور مفادات کی حامل ہیں۔ اگرچہ ممکن ہے ایک مدت تک اس اتحاد کو خفیہ رکھا جائے اور اس کے بعد منظرعام پر لایا جائے۔ غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ آل سعود رژیم کے تعلقات ایک لمبی تاریخ کے حامل ہیں۔ اس بارے میں سب سے پہلا اشارہ غاصب صہیونی رژیم کے بانی اور اس کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین نے اس وقت کیا تھا جب وہ 27 اپریل 1949ء کے دن کینسٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں تقریر کر رہے تھے۔ بن گورین نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سعودی عرب ماضی میں بھی ہمارا حقیقی دشمن نہیں تھا۔

یوں غاصب صہیونی رژیم کے سرکاری عہدیدار ہونے کے ناطے ایک سرکاری ادارے میں بن گورین کا بیان بہت اہم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آل سعود رژیم کو اپنا دشمن تصور نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حتی غاصب صہیونی رژیم کی باقاعدہ تشکیل سے پہلے بھی صہیونی عناصر آل سعود رژیم کے عمل اور پالیسیوں سے راضی تھے۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے جس کی روشنی میں سعودی حکمرانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں رژیمیں (صہیونی رژیم اور آل سعود رژیم) ایک ہی خطے میں، ایک ہی تاریخی مرحلے میں اور ایک ہی استعماری طاقت یعنی برطانیہ کے ذریعے معرض وجود میں آئیں اور آج بھی ایک ہی بین الاقوامی چھتری یعنی امریکہ کے نیچے قرار پائی ہیں۔ لہذا ماضی میں برطانیہ اور اس وقت امریکہ کی پالیسیوں کے تناظر میں آل سعود کا اسرائیلی مفادات کیلئے سرگرم عمل ہونا فطری بات ہے۔

لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے خلاف جنگ میں آل سعود رژیم نے کھلم کھلا اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو مدد فراہم کی۔ اس کے بعد سعودی حکمرانوں نے خطے میں ایسے ممالک کے اندر تکفیری دہشت گردی تشکیل دینے اور پھیلانے میں بھرپور کردار ادا کیا جو غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ سازباز کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ مختصر یہ کہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران آل سعود رژیم کی تمام تر پالیسیاں خطے سے متعلق غاصب صہیونی رژیم کی پالیسیوں اور اہداف سے ہمسو رہی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نے ہمیشہ سے خطے میں سعودی عرب کے کردار سے فائدہ حاصل کیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم تمام ایسے ممالک اور گروہوں کو اپنا شدید دشمن قرار دیتی ہے جنہیں سعودی حکومت اپنا دشمن سمجھتی ہے۔

مذکورہ بالا مطالب کی روشنی میں یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ آل سعود رژیم کی جانب سے لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ اور نفسیاتی جنگ سمجھ سے باہر نہیں ہے اور ایک فطری عمل ہے۔ چونکہ اسلامی مزاحمت تمام ایسی رژیموں کے حقیقی چہرے آشکار کر کے ان کی رسوائی کا باعث بنی ہے جو کسی نہ کسی سطح پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اب جبکہ آل سعود رژیم کھل کر میدان میں آ چکی ہے اور اسلامی مزاحمت کو اپنا دشمن ظاہر کر چکی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آل صہیون آل سعود گٹھ جوڑ منظرعام پر آنے والا ہے۔ اگرچہ سعودی حکمران اسلامی دنیا میں موجود رائے عامہ کے خوف سے اب تک صہیونی حکمرانوں سے اپنے تعلقات خفیہ رکھے ہوئے ہیں لیکن اب حالات ایسا رخ اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا حقیقی چہرہ واضح ہو کر ہی رہے گا۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …