پیر , 24 جنوری 2022

ویانا مذاکرات اہم موڑ پر

ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، کیونکہ مذاکراتی فریق اپنے درمیان خلیج کم کرنے کی کوششوں کے بغیر آٹھویں دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

یورپی کیا کہتے ہیں ؟
مزید یونیوریم افزودگی کی روک تھام اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی طرف سے نگرانی کی مکمل واپسی کے مقابل پابندیوں کے جزوی خاتمے کا معاہدہ چاہتے ہیں۔

ایرانی کیا کہتے ہیں؟
1۔ جبکہ ایرانی اُس معاہدے کی مکمل واپسی چاہتے ہیں جو انہوں نے 2015 میں کیا تھا،یعنی
تمام پابندیوں کا خاتمہ(جو معاہدے سے پہلے اور امریکہ کی جانب سے یک طرفہ معاہدے کے خاتمے کے بعد لگائی جانے والی پابندیاں)،
2۔ اس بات کی ضمانت و گارنٹی کہ امریکہ دوبارہ معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا۔
3۔ ایک ایسا میکانزم جو اس معاہدے پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کرے۔

واضح رہے کہ سابقہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دباؤ میں ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی تھی اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ اور پابندیوں ” کی پالیسی اپنائی تھی۔

دو بڑے خطرات
یورپی (برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یوروپی یونین) اس بات کو بیان کررہے ہیں کہ اگرمذاکرات میں ناکامی ہوئی تو ایران کے سامنے دو بڑے خطرے ہوں گے
اور وہ دو خطرے اقوام متحدہ کی پابندیاں ،
دوسراخطرہ "پلان بی” یا امریکی حمایت سے اسرائیلی فضائی حملوں کا خطرہ

تو ان خطرات میں کتنی سچائی ہے؟
اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں اتنی سخت نہیں تھیں کہ جن کی واپسی پر کوئی فرق پڑے گا کیونکہ ٹرمپ نے جو پابندیاں لگائیں اس میں پہلےسےہی عملی طور پر وہ پابندیاں اور مزید اضافی پابندیاں شامل ہیں
لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا لیکن اگر معاہدہ نہ ہوسکا تو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جوہری معائنہ کرنے والی ٹیموں کوایران سے جانا ہوگا
ڈیوڈ ہرسٹ کے بقول اس وقت بھی، ایران نے آئی اے ای اے کوایٹمی پلانٹ کے اندرونی معائنہ کا حق معطل کر دیا،
اور نہ ہی کرج پلانٹ میں لگے کیمروں کے ڈیٹا انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو رسائی دے رہا ہے اور
مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کا میکانزم بھی ختم ہوگا کسی کو کوئی علم نہیں ہوگا کہ ایران کیا کررہا ہے۔

ایک اور جنگ
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرایران کی جوہری تنصیبات، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، اور فضائی دفاعی نظام پر اسرائیل فضائی حملہ کرتا ہے تو یہ حملہ ایک بڑی علاقائی جنگ اور ممکنہ طور پر عالمی جنگ کا سبب ہوسکتا ہے
ایک ایسی جنگ جس میں بہت انسانی جانیں ضائع ہوں گی ، خلیج میں تیل کی پیداوار متاثر ہو گی عالمی معیشت میں شدید قسم کا بحران پیدا ہوگا اور ممکنہ طور پر عالمی امن شدید متاثر ہوسکتا ہے
ایران نے کھلے لفظوں کہا ہے کہ اگر اس پر کسی قسم کی جارحیت ہوتی ہے تو جواب دیے بغیر وہ نہیں رہے گا۔ ایران کے عسکری ذمہ دار کہتے ہیں کہ وہ ایسے کسی بھی حملے کے پہلے 30 سکینڈ میں ہی جواب کاروائی کریں گے۔

ایسا کوئی حملہ کتنا قابلِ عمل ہے ؟
اسرائیلی اخبار ہآرٹس کہتا ہے کہ اسرائیل کو ایسے کسی بھی حملے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے اور کیا وہ سمجھتا ہے کہ ایران پرحملہ اس کے لئے آسان اور قابلِ عمل ہوگا؟
ایران کا قریب ترین پوائنٹ جو اسرائیلی طیاروں کے لئے قابل استعمال ہوسکتا ہے وہ آذربائیجان ہے اور آذربائیجان اسرائیلی جنگی طیاروں کو اس طرح کے حملے کے لیے اپنے ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، حالانکہ اسرائیلی ڈرون ان کے رن وے کو ایران کے اندر جاسوسی کےلئے استعمال کرتے رہے ہیں ۔
اسرائیلی اخبار ہآرٹز کے مطابق اگر اسرائیل اپنی زمین استعمال کرتا ہے اور وہ اردن و عراق کے اوپر سے بھی اپنے ایف تینتیس طیاروں کو آسانی سے اڑا پاتا ہے تو بھی اس کے طیاروں کا فیول اسے ایران کی زمین تک نہیں پہنچا سکتا،لہذا اس طرح کا کوئی بھی عمل ممکن نہیں ہے
اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ وہ اپنے اندر سے ہی میزائل حملہ کرے یا پھر سائیبر حملے کرے جو ایٹمی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کرسکے
اور فرض کیا جائے کہ اگر اس پر وہ 100 فیصد کامیاب ہو بھی جائے تو بھی ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کے لیے عارضی دھچکے کے علاوہ کچھ حاصل کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اورایران مزید بہتر سے بہتر ایٹمی پلانٹ کی تعمیر کرسکتا ہے۔
ڈیوڈ ہرسٹ کے مطابق بات چیت کے دوبارہ شروع ہوتے وقت یہی وہ دلیل تھی جو بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کوبھی دی تھی۔
واضح رہے کہ ہم ابھی یہاں ایران کے ردعمل کی بات نہیں کررہے ہیں جو زبردست قسم کا ردعمل دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کا برملا اظہار تقریبا یومیہ ایران کی جانب سے ہوتا رہتا ہے کہ اگر اس پر جارحیت کی کوشش ہوئی تو یہ وہ طے کرے گا کہ کب ایسے کسی تصادم کا اختتام ہوگا۔
اگرچہ ایران رسمی طور پر آرامکو پر ڈرون حملوں یا میزائلوں کے استعمال کی نفی کر چکا ہے اور اسی طرح متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ پر ہونے والی کاروائی، اس کے پاس موجود جدید ترین میزائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں کہ جس کا ایک اور نمونہ عراق میں امریکی اڈوں اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر لگنے والے میزائل ہیں ۔
یار رکھنا چاہیے کہ آرامکو پر حملے کے بعد سعودی تیل کی پیداوار ہفتوں تک آدھی رہ گئی تھی۔
ابھی ہم یہاں اس پہلو سے بھی بات ہی نہیں کررہے ہیں لبنان کے جنوب، شام گولان ہائٹس اور غزہ کا سامنا اسرائیل کیسے کرے گا۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی بندرگاہوں پر موجود ٹینکروں پر حملوں کاالزام سرکاری سطح پر ایران پر نہیں لگایا، جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ متحدہ امارات ایران جیسی قوت سے ایک حقیقی تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
شائد یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ بقول ڈیوڈ ہرسٹ کے اس وقت ابوظہبی اور ریاض ایران کے ساتھ اپنے مسائل کو اچھے انداز سے حل کرنے کے خواہشمند دیکھائی دیتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امارات کو ترکی کے راستے یورپ کے لیے زمینی تجارتی راستہ کھولنے کی اجازت ملتی ہے، جس سے متحدہ عرب امارات سے یورپ کا سفر 20 دن سے کم ہوکر 7 دن رہ گیا ہے۔
کیا خود امریکہ جو اس وقت کورونا کے بعد کی معاشی صورتحال سے لڑرہا ہے تو دوسری جانب اسے چین سے بھی مقابلہ کرنا ہے مشرق وسطی یا مغربی ایشیا میں ایک ایسی نئی جنگ چھیڑنے کی پوزیشن رکھتا ہے کہ جس کے بعد تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو لیں اور امریکہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کے دلدل میں خود کو جھونک دے؟
ایران اچھی طرح سمجھتا ہے کہ امریکہ اس وقت ایسی پوزیشن نہیں رکھتا کہ ایک نئی جنگ میں خود کو ڈالے اور مشرق وسطی میں پھر بھرپور اپنی واپسی کا سوچے۔
ڈیوڈ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’’واضح حقیقت یہ ہے کہ ویانا میں یورپی اور امریکی سفارت کار ایران پر دباؤ بڑھانے کے سارے کارڈز کھو چکے ہیں۔ انہوں نے ایران پر بدترین قسم کی پابندیاں لگائیں لیکن ایران نے اسے اپنے لئے مضبوطی کی علامت بنالیا
ویانا مذاکرات کے خاتمے پر روس اور چین کے ردعمل پر مغرب کے بڑوں کو توجہ دینی چاہیے۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ2015 اور آج کے درمیان سب سے بڑا فرق یہی ہے۔
دونوں صدور ولادیمیر پوٹن اور شی جن پنگ کے پاس کئی وجوہات ہیں جو انہیں یورپی اور امریکی شرائط کو ماننے سے روکتی ہیں۔
واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ کسی بھی معاملے پر اس کے ساتھ تعاون کرنا مشکل ہے۔
پیوٹن روس کے ساتھ مشرقی یورپی سرحد سے نیٹو کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ روسی صدر یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے 90,000 فوجیوں کو تیار رکھے ہوئے ہیں۔ شی جن پنگ نے تائیوان کو چین کے ساتھ دوبارہ ملانے کے اپنے عزم کااعادہ کیا ہے۔
جیسا کہ ویانا میں ہونے والے مذاکرات نے واضح طور پر ظاہر کیا کہ ایرانی وفد کو دونوں طاقتوں کی طرف سے وسیع حمایت حاصل ہےاور اس کو سب نے محسوس کیا کہ تینوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
ایرانی صدر رئیسی مستقبل قریب میں ماسکو کا دورہ کریں گے جب کہ ان کے وزیر خارجہ چین جائیں گے۔ اس سے ایران پر کسی بھی حملے کے لیے روسی اور چینی ردعمل کا دروازہ کھل جائے گا۔
جبکہ بائیڈن پوتن کو دھمکیاں دے رہا کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو بینک ٹرانسفر سسٹم سے محروم کیا جائے گا، بائیڈن کو سوچنا ہوگا کہ ایسی صورت میں جرمنی روسی گیس کی ادائیگی کیسے کرے گا؟
کیا ڈالروں سے بھرے سوٹ کیسز کو پولینڈ کی سرحد کے پار روسلوں کے حوالے کرنا پڑے گا؟
اور یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اصلی کارڈ روسی رہنما کے پاس ہیں۔ پوٹن اور شی دونوں کے پاس طاقت ہے کہ وہ مغربی ہاکس کی زندگی کو بہت مشکل بنا سکتے ہیں۔
روس اور چین پر قابو پانے کے بجائے امریکہ انہیں ایک دوسرے کی بانہوں میں دھکیل رہا ہے حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ فطری اتحادی نہیں ہیں۔
ایک عالمی اخبار کے مطابق ویانا میں ایرانی ذرائع نے اس سے کہا: "مسئلہ یہ ہے کہ یورپی اور امریکی ایک ایسا کھیل کھیل رہے ہیں جس میں ان کے پاس کچھ زیادہ کارڈ بچے نہیں ہیں اگر زیادہ سے زیادہ دباؤ اور مزید پابندیوں سے مسائل نے حل ہونا تھا تو ٹرمپ پہلے ہی ا سکا تجربہ کرچکا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک عقلمند اور پراعتماد امریکی صدر کو پالیسی بدلتے وقت اورخاص کر ایران، روس اور چین کے ساتھ ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔ لیکن بائیڈن وہ آدمی نہیں ہے اس کے سامنے داخلی چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔
دوسری جانب اگر ویانا میں امریکی مذاکراتی ٹیم ختم کردیں اس بات کا قومی امکان ہے کہ اسے کانگرس سے بھی پاس کرانا ہوگا
کیونکہ ایران کے صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں اب کے بار شفاف اور مضبوط ضمانت و گارنٹی چاہیے ۔
اب ویانا میں کسی معجزے کے رونما ہونے کے تو کوئی امکانات نہیں ہیں۔ دوسری موجودہ صورتحال میں امریکہ ایران کے کم سے کم مطالبات بھی پورے کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا
ایران کسی بھی عدم معاہدے کے نتائج کا سامنا کرنے کی پوری سکت رکھتا ہے نتیجتا پانچ سال کی غیر معمولی سفارتی کوششوں کے بعد حاصل ہونے والا معاہدہ پوری طرح اپنی موت مرےگا
امریکہ اور یورپی یونین نے اصولی طورپر جس معاہدے پر اتفاق کیاتھا اس سے ایک انچ ایرانی صدر پچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے تو ا س کے ذمہ دار امریکہ کے تینوں صدور اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن ہون گے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …