پیر , 24 جنوری 2022

مِنی بجٹ کی منظوری کا معاملہ، پی ٹی آئی اراکین نے تحفظات کا اظہار کردیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے اراکین قومی اسمبلی نے مِنی بجٹ پر تحفظات کا اظہارکردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کے عشائیوں میں پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی بڑی تعداد میں غیرحاضر رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک اراکین قومی اسمبلی کو ٹیلی فون کرتےرہے، متعدد نے فون تک نہ اٹھایا جبکہ کچھ اراکین نے مِنی بجٹ کو عوام پر ظلم ،عالمی اداروں کو اپنےاداروں کے اکاؤنٹس تک رسائی اور سکیورٹی رسک قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم اس اقدام میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پارٹی اراکین قومی اسمبلی کے اعزاز میں دیے گئے عشائے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد اراکین شریک نہیں ہوئے۔

ذرائع کے مطابق عشائیے کے موقع پر پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کی حاضری لگائی گئی، عشائیے میں نہ آنے والے پارٹی ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی گئی اور وزیراعظم کو بھجوا دی گئی۔

مِنی بجٹ میں کیا ہے؟

حکومت نے 30 دسمبر 2021 کو ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2021ء بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔

اطلاعات کے مطابق مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 343 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔

گاڑیاں، دوائیں، ڈبل روٹی، ریسٹورنٹ کا کھانا منہگا ہوگا، بیکری آئٹمز، موبائل فون، بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی اور مسالا جات کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔

اس کے علاوہ درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، سلائی مشین، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس لگے گا۔

کپاس کے بیج، پولٹری سے متعلق مشینری، اسٹیشنری، سونا، چاندی، کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ بھی اس منی بجٹ کے بعد مہنگے ہوجائیں گے۔

مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے، موبائل فونز پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرکے 7 ارب روپے اضافی حاصل کیے جائیں گے۔

الیکٹرک کاروں پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا جائے گا۔

تندور پر تیار ہونے والے نان، روٹی اور شیر مال، مقامی طور پر فروخت ہونے والے چاول ، گندم اور آٹے پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

پولٹری کے شعبے سے متعلقہ مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے جبکہ چاندی اور سونے پر ٹیکس کی شرح 1 سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے جب کہ عام تندوروں پر روٹی اور چپاتی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔

 

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …