ہفتہ , 28 مئی 2022

ایران کے مقابلے میں اسرائیل کی ناتوانی اور اس کی وجوہات (2)

تحریر: محمد رضا مرادی

4۔ اسرائیل کا حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں سے جنگ کا تجربہ
10 مئی 2021ء کے دن غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے مقبوضہ فلسطین پر میزائل حملوں کے نتیجے میں سیف القدس معرکے کا آغاز ہوا تھا۔ اس معرکے میں فلسطینی مجاہدین نے صہیونی حکمرانوں کو بہت سے سرپرائز دیے تھے۔ معرکے کے نویں دن تک اسلامی مزاحمت کی جانب سے 3600 سے زاید راکٹ اور میزائل فائر کئے گئے جن کے باعث 75 فیصد یہودی آبادکار زیر زمین پناہگاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی جانب سے سیف القدس معرکے میں میزائل طاقت کے بھرپور مظاہرے نے اسرائیلی حکمرانوں کو ہکا بکا کر دیا تھا۔ خود صہیونی کابینہ میں شامل وزراء کا کہنا ہے کہ 12 روزہ اس معرکے کے دوران ہمارے حساس ادارے بے کار ہو چکے تھے۔ اس معرکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اسلامی مزاحمت کے ایک گروہ کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے۔

5۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی عدم افادیت
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم، میزائل ٹیکنالوجی، جوہری ہتھیاروں، فضائیہ اور نیوی کے شعبوں میں بھرپور فوجی برتری کے باوجود 2000ء کے بعد سے جارحانہ پوزیشن کھو چکی ہے اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے یہودی بستیوں کو بڑی مقدار میں کم رینج کے راکٹ اور میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں فوجی وقار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ تل ابیب نے اس مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے فضائی دفاعی نظام پر وسیع پیمانے پر سرمایہ لگایا لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر سکا۔ اسرائیلی فوج نے خود کو میزائل حملوں سے محفوظ بنانے کیلئے فولادی گنبد، پیٹریاٹ، حیٹس، ٹاڈ، فیلانکس، جادو والا عصا وغیرہ وغیرہ جیسے میزائل ڈیفنس سسٹم بنائے لیکن ان کی عدم افادیت بھی عیاں ہو گئی۔ اسرائیل کو امریکی امداد کا بڑا حصہ اسی مد میں خرچ ہوتا ہے۔

6۔ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں آباد مسلمان باشندوں کا قیام
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک مقبوضہ سرزمینوں میں مقیم مسلمان فلسطینی باشندوں کا سرگرم عمل ہو جانا ہے۔ ان فلسطینی باشندوں نے سیف القدس معرکے کے دوران بڑے پیمانے پر غاصب صہیونی رژیم کے خلاف قیام کیا اور مزاحمتی کاروائیاں انجام دیں۔ یہ فلسطین کی تاریخ میں ایک نیا باب تھا جس نے صہیونی رژیم کے رونگٹے کھڑے کر ڈالے۔ مقبوضہ فسلطین میں مسلمان عرب جوانوں کا صہیونی رژیم کے مقابلے میں سڑکوں پر نکل آنے سے اس رژیم کے بانی ڈیوڈ بن گورین کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جس میں اس نے کہا تھا کہ جس دن فلسطین کے اندر شہری قیام کریں گے وہ اسرائیل کے زوال کی علامت ثابت ہو گا۔ بن گورین نے اسی وجہ سے اسرائیلی فوج کو تمام فلسطینی طبقوں کی نمائندہ فوج بنانے کی کوشش کی۔

7۔ اسرائیلی فوج میں بحران
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش ایک اور بحران کسی بھی وسیع جنگ میں اس کی فوج کی کمزوری اور ناتوانی ہے۔ اسرائیل میں انجام پانے والی مختلف تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ حریدی انتہاپسند یہودی اور ایتھوپیا سے آئے مہاجرین ملٹری سروس سے بھاگ جانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ مختلف چھاؤنیوں سے بھاگ جانے والے افراد میں سے صرف 30 فیصد افراد گرفتار ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ ملٹری سروس میں زبردستی لوٹایا جاتا ہے۔ اسرائیلی جوانوں میں سے صرف 50 فیصد افراد لازمی ملٹری سروس میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غاصب صہیونی رژیم کی فوج "عوامی فوج” کہلوانے کے لائق نہیں رہی۔ اسی طرح فوج میں تیزی سے بڑھتی خودکشی کی شرح نے بھی اسرائیلی فوجی کمانڈرز کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔

8۔ نئی علاقائی جنگ میں شامل ہونے سے امریکہ کی عدم دلچسپی
سعودی عرب نے 2015ء میں امریکہ کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے جانے کے نتیجے میں یمن پر حملہ کیا۔ موجودہ حالات کی روشنی میں امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مشرق وسطی میں کسی بھی قسم کی نئی جنگ سے گریز کیا جائے کیونکہ یمن کی جنگ نے امریکہ کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ سعودی عرب تمام مغربی طاقتوں کی بھرپور مدد اور حمایت کے باوجود نہ صرف گذشتہ سات برس سے انصاراللہ یمن کو شکست دینے میں ناکامی کا شکار رہا ہے بلکہ خود بھی شدید سکیورٹی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ لہذا اس تجربے کی روشنی میں امریکہ اب ایران کے خلاف اسرائیل کی ممکنہ فوجی کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ جو بائیڈن نے برسراقتدار آنے کے بعد مشرق وسطی کو پہلی ترجیح سے خارج کر دیا ہے۔

9۔ تزویراتی گہرائی کا فقدان
اسرائیل تزویراتی گہرائی سے بے بہرہ ہے اور یہ خطرے کے وقت اس کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ اسرائیل کا سب سے زیادہ چوڑائی والا علاقہ 17 کلومیٹر لمبا ہے جبکہ شمال میں اس کی چوڑائی 7 کلومیٹر اور جنوب میں 10 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی طرح سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی کل آبادی کا 80 سے 90 فیصد حصہ حیفا اور اشدود کے ساحلی علاقے میں مقیم ہیں جس کا رقبہ 120 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ اسرائیل کیلئے حقیقی سیکیورٹی خطرہ ہے کیونکہ اس علاقے پر دشمن کا فوجی حملہ وسیع پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ لہذا مختلف وجوہات کی بنا پر اسرائیل ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

سابقہ حکومت کے روس سے سستا تیل خریدنے کے دعوے کی حقیقت کیا؟

تحریر: تنویر ملک حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر …