ہفتہ , 28 مئی 2022

امریکہ، ایران چین تزویراتی تعاون کو نظر انداز نہیں کر سکتا

فاران تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللٰہیان کا دورہ چین جامع تزویراتی شراکت کی تقویت پہنچانے کے لئے انجام پا رہا ہے جس پر دونوں ملکوں نے گذشتہ سال دستخط کئے تھے۔ سلامتی کے شعبے میں بڑھتا ہوا چین-ایران تعاون امریکہ، اسرائیل اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ جن سے نمٹنے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کو اب کئی فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے گذشتہ منگل کو اعلان کیا تھا کہ "چین اور ایران جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔”
25 سالہ اسٹراٹیجک شراکت داری، جس پر بیجنگ اور تہران نے مارچ 2021 میں دستخط کئے تھے، امریکہ کے دو مخالفوں کے لئے بڑے فوائد فراہم کرتا ہے جو امریکہ اور "قانون کی حکمرانی کی مخالفت!” (1) کے لئے متحد ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرکے، چین مشرق وسطیٰ میں اپنے قدم جمائے گا، امریکہ کو کمزور کرے گا، اور ایرانی تیل اور دیگر اہم اشیاء تک اپنی رسائی کو مزید محفوظ بنائے گا۔ ایران کو بھی اپنی جگہ چینی توانائی اور اپنے ہاں کے بنیادی ڈھانچے میں چینی سرمایہ کاری کی مد میں اربوں ڈالر ملیں گے، جس سے ایران پر لگی امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کیا جاسکے گا۔
بیجنگ اور تہران کا زیادہ تر تعاون معیشت اور سفارت کاری پر مرکوز ہے۔ درحقیقت، چینی اور روس کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم نے ستمبر 2021ع‍ میں متفقہ طور پر ایران کو مکمل رکنیت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم، یہ ایک غلطی ہوگی کہ چین-ایران تعلقات کے سلامتی کے مضمرات کی طرف اشارہ نہ کیا جائے۔

پہلی بات یہ کہ: چین کی ایرانی توانائی کی خریداری اور ایران میں سرمایہ کاری کے لئے چین کی آمادگی سے سلامتی کے حوالے سے کم از کم دو منفی اثرات مرتب ہوں گے جو وقت کے ساتھ ساتھ بد سے بدتر ہوں گے۔ (2) پہلا منفی اثر یہ ہے کہ چینی سرمایہ کاری ایران کے لئے اقتصادی محرک اور کافی آمدنی فراہم کرے گی؛ اگر ماضی تمہید ہے تو تہران اس اضافی آمدنی کا ایک بڑا حصہ میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری، اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے، "دہشت گردی” برآمد کرنے اور پڑوسیوں پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کرے گا۔ (3)
وسیع تر سطح پر، چین کی اضافی سرمایہ کاری، ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات کو وسیع سطح پر کم کرے گی۔ یہ مسئلہ ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے کسی بھی قسم کے مذاکرات میں ایران کی سخت گیری اور عدم سازگاری کا باعث ہوگا۔ ایران کے تئیں چین کی پشت پناہی ممکنہ طور پر ایران کے خلاف امریکی سفارت کاری یا ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے اس ملک پر امریکہ یا اسرائیل کے فوجی اقدام کی قطعی شکست کا سبب ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، ایسے حال میں کہ اسٹراٹیجک شراکت کے سمجھوتے کا اصل متن ہنوز پردہ راز میں ہے، اس سمجھوتے کا ایک نسخہ فاش ہوچکا ہے جس کا عنوان "اخری نسخہ” (final version) ہے، جو چین اور ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوجی تربیت، جنگی مشقوں اور ہتھیاروں کی ترقی میں تعاون اور معلومات کی شراکت داری (intelligence sharing) کا اہتمام کریں۔ چنانچہ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بیٹھ کر اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ (4)
چین اور ایران کا بڑھتا ہوا فوجی تعاون وقت کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ اگر ایرانی افواج انسداد رسائی اور علاقے میں داخلے کا راستہ روکنے کے لئے بنائے گئے چینی ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں، تو تہران کو یقین ہوجائے گا کہ وہ اپنے اوپر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی غرض سے ہونے والے کسی بھی حملے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ تہران میں یہ تاثر ایرانی جوہری پروگرام کے سامنے کی رکاوٹیں ہٹ سکتی ہیں، اور اسے روکنا کم ممکن اور زیادہ مشکل ہے۔
چین اور ایران کا باہمی فوجی تعاون ایک نظریاتی تشویش یا مستقبل کے حوالے سے کوئی فکرمندی نہیں ہے بلکہ یہ تعاون اسی وقت ہو رہا ہے۔ ایران، چین اور روس نے دسمبر 2019ع‍ میں بحر ہند میں اور ستمبر 2020ع‍ میں روس میں ترکیبی اور مشترکہ فوجی مشقوں کا اہتمام کیا۔ ایک اور فوجی مشق ایرانی اور چینی افواج کی موجودگی میں خلیج فارس میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
خاص طور پر، امریکی-چینی اقتصادی و سلامتی ریویو کمیشن نے رپورٹ دی ہے کہ 2020ع‍ میں ایران نے عراق کے عین الاسد فوجی اڈے میں امریکیوں پر جو بیلیسٹک میزائل داغے تھے ان میں سے کم از کم ایک میزائل ممکنہ طور پر چین کی میزائل ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہؤا تھا۔ (5)
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ چین-ایران سیکورٹی تعاون کی قطعی تفصیلات مبہم ہیں۔ بیجنگ کے پاس تہران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو کم کرنے کی اچھی وجہ ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے بےچین ہے، تاہم ایرانی فوج کی مدد کرنے کی بابت بیجنگ ریاض یا ابوظہبی میں کوئی بھی چین کی مداحی کا روادار نہیں ہوگا۔
یہ توازنی اقدام ممکنہ طور پر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ سعودی عرب، کویت، عمان اور بحرین کے وزرائے خارجہ بھی – جن میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل بھی شامل ہیں – اس ہفتے چین میں کیوں موجود ہیں۔ بیجنگ، بیک وقت تہران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ چنانچہ چین کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سیکورٹی تعاون کو اس انداز میں مرتب کرے جس سے خلیج فارس کے دوسری کنارے کے عرب رہنما مشتعل نہ ہوں۔ یہ بیجنگ کے لئے ایک چیلنج ہے، اور واشنگٹن کو چاہئے کہ اس چیلنج کو مزید مشکل بنادے!

ایسا کرنے کے لئے، واشنگٹن کے لئے پہلا قدم یہ سمجھنا ہے کہ خلیج فارس کے عرب شراکت داروں کو اپنے دفاع کے لئے ذرائع فراہم کرنے سے انکار کا مطلب صرف یہی ہوگآ کہ وہ ہتھیاروں کی خریداری کے لئے چین اور روس کا رخ کرنے پر راغب ہونگے۔ اور یہ رویہ ریاست ہائے متحدہ کے دو اہم مخالفین [چین اور روس] کو طاقتور بنائے گا اور مشرق وسطی میں امریکی حرکت پذیری کو کمزور بنائے گا۔ یہ قوت محرکہ اس سے قبل مصر کے حوالے سے آزمائی گئی اور جب قاہرہ سنہ 2013ع‍ میں امریکی جنگی طیاروں ، ٹینکوں اور میزائلوں کی خریداری میں ناکام رہا تو اس نے جنگی طیاروں کے لئے پیرس اور روس کی طرف اور ڈرونز خریدنے کے لئے چین کی طرف رخ کیا؛ اب امریکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنائے ہوئے ہے اور چین یہ فائدہ اٹھانے کے لئے بےچین ہے۔

دوسری بات یہ کہ: واشنگٹن کو چاہئے کہ خلیج فارس میں اپنے شراکت داروں کو ترغیب دلائے کہ وہ چین پر یہ واضح کریں کہ اگر وہ ایران کو ہتھیاروں کے بڑے نظامات فراہم کریں، تو اس سے خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ: امریکی کانگریس اس بات کو یقینی بنائے کہ پینٹاگون اور انٹیلی جنس کمیونٹی چین-ایران کی فوجی تربیت، مشقوں، ہتھیاروں کی ترقی، اور معلومات کے تبادلے کے بارے میں تفصیلی، سالانہ، تحریری اور غیر درجہ بند (unclassified) رپورٹس فراہم کرے۔ تعلقات پر رپورٹ کرنے کے لیے قانونی تقاضے پہلے سے موجود ہیں لیکن ان کو بہتر اور بہتر طریقے سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ فیصلوں سے آگہی اور تزویراتی حیرت زدگی سے بچنے کے لئے واشنگٹن کو چاہئے کہ وہ اسرائیل اور خلیج فارس میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ ایران اور چین کے درمیان فوجی تعاون سے متعلق معلومات کا فعالانہ تبادلہ کرتا رہے۔
چین اور ایران کے درمیان "جامع تزویراتی شراکت داری”، شنگھائی تعاون تنظیم سے ایران کا الحاق، اور اس ہفتے ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ چین تین چیزوں کو ظاہر کرتا ہے: بیجنگ اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں، مشرق وسطیٰ میں بیجنگ کا بڑھتا ہؤا اثر و رسوخ، بہ ایں معنی کہ چین کے ساتھ واشنگٹن کا "بڑی طاقتوں کا مقابلہ” عظیم طاقت کا مقابلہ صرف بحر ہند اور بحرالکاہل تک محدود نہیں ہوگا۔ (6)
مترجم کی وضاحت
1۔ قانون کی حکمرانی کا مقصد یہاں امریکی سامراجی قوانین کی حکمرانی ہے، جسے آج کی دنیا میں بطور عام تسلیم نہیں کیا جاتا۔
2۔ [استکباری قواعد اور معیار دیکھنے کے قابل ہیں، امریکیوں کا گمان ہے کہ دنیا کے ممالک کو اپنا ہی سرمایہ اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرنا چاہئے؛ حالانکہ اس زمانے میں اس کے کٹھ پتلی بھی اس کی باتیں سننے اور ماننے کے روادار نہیں ہیں]:
3۔ [واضح رہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد قوت ہے اور یہ واحد ملک ہے جو دہشت گرد ٹولے تیار کرنے کے حوالے سے بدنام ہے، اس نے تمام ہمسایوں اور دنیا کے تمام ممالک پر حملے کئے ہیں، جبکہ ایران صرف امریکہ اور اسرائیل کو دہشت گردی سے روکنے میں مصروف ہے اور ایران جن جہادی تنظیموں کو مدد فراہم کرتا ہے وہ امریکی اور اسرائیلی تسلط کے خلاف جائز جدوجہد میں مصروف ہیں چنانچہ ان کی مدد دہشت گردی برآمد کرنے کا مصداق نہیں ہے، لیکن امریکہ اپنے زوال کے اس زمانے میں بھی تصور کرتا ہے کہ گویا دنیا والے اب بھی اس کی بات سنے گی اور اس کے قواعد کو ناقابل تردید سمجھے گی۔] 4۔ بےبسی کی انتہا ہے۔ امریکہ اب کچھ بھی اکیلے انجام دینے سے عاجز ہے اور حتی اسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جو بجائے خود امریکی سلطنت کے زوال کی ایک اہم نشانی ہے۔
5۔ امریکہ اور اس کے حواری موالی گذشتہ تین دہائیوں سے ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کو روس اور شمالی کوریا سے جوڑنے کی تشہیری مہم چلاتے رہے ہیں، اور اب جبکہ چین پر الزام لگانے کی باری آئی ہے تو اس ٹیکنالوجی کو چین سے جوڑنے لگے ہیں، جبکہ صاحبان عقل خوب جانتے ہیں کہ یہ کسی بڑی طاقت کی انتہائی بےبسی کا اعتراف ہے جو اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کے سلسلے میں کوئی مربوط موقف نہیں قائم کرسکی ہے۔
6۔ یہ مضمون ایف ڈی ڈی کے وابستگان نے تحریر کیا ہے جس کی ہمدردیاں صرف صہیونی ریاست پر مرکوز ہیں۔ اس مضمون میں صحافتی رازداریوں اور پردہ داریوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے اور صہیونیوں کی تشویش کو بالکل بازاری انداز سے امریکہ اور عربوں کی تشویش کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ مضمون کے لب و لہجے سے تشدد پسند امریکیوں اور یہودی لابیوں کی بےبسی کا بخوبی اظہار ہوتا ہے لیکن وہ شاید جانتے نہیں ہیں کہ امریکہ کا پرانا مورچہ تباہ ہوچکا ہے اور وہ ایسے ویسوں کے مشوروں سے ہلنے والا نہیں ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

سابقہ حکومت کے روس سے سستا تیل خریدنے کے دعوے کی حقیقت کیا؟

تحریر: تنویر ملک حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر …