ہفتہ , 28 مئی 2022

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید

’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی ایک قومی پالیسی کو دستاویزی شکل دے دی ہے۔ بس!‘

ان الفاظ کے ساتھ مجھ سمیت چند دیگر صحافی پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے جہاں کچھ دیر پہلے ہی مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے غیر ملکی میڈیا کے لیے ایک اِن کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کیا تھا۔

بریفنگ کا مقصد اگلے روز لانچ ہونے والی قومی سلامتی پالیسی سے متعلق اہم نکات سے آگاہ کرنا تھا۔

چند روز پہلے اگلے روز قومی سلامتی پالیسی کی نصف دستاویز منظر عام پر لائی گئیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار قومی سلامتی کے معاملے پر ’جامع دستاویز‘ تیار ہوئی ہے اور قوم کو مبارکباد دی۔

اس پالیسی کا ایک حصہ خفیہ رکھا گیا ہے جس میں اہداف کے حصول سے متعلق طریقہ کار اور پالیسیاں شامل کی گئی ہیں۔

پچاس سے زائد صفحات پر مشتمل اس قومی سلامتی پالیسی پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف پالیسی کو دستاویزی شکل دینا ایک کامیابی گردانا جا رہا ہے تو دوسری جانب ان افراد کی بھی کمی نہیں جو مزید وضاحت مانگ رہے ہیں اور ایسے بھی کم نہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ پالیسی محض ’الفاظ کا گورکھ دھندہ‘ ہے۔

اس سے قطع نظر کہ پالیسی میں طے کیے گئے اہداف کا حصول کیسے ممکن ہو گا، یہ دیکھتے ہیں کہ پالیسی میں اہم کیا ہے۔

اس پالیسی کا مرکز و محور عام شہری کو قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ اس کا مقصد پاکستان کے شہریوں کی ’حفاظت، سلامتی، عزت اور خوشحالی‘ ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز کے مطابق معاشی سلامتی کو بنیادی نقطہ قرار دیا گیا، اب ’جیو سٹریٹجی‘ کی بجائے ’جیو اکنامک ویژن‘ جیسے الفاظ زیادہ اہم ہوں گے۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف کہتے ہیں کہ پالیسی کی تشکیل دینا ایک ’ایگزیکٹیو‘ کام ہے اور اس کا پارلیمنٹ سے تعلق نہیں تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پالیسی میں ترامیم کی تمام تر گنجائش موجود ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کے اہداف پر جہاں ماہانہ بریفنگ ہوگی وہیں ہر سال اجلاس میں وزیراعظم کو بریف کیا جائے گا اور پالیسی کا از سر نو جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔

قومی آہنگی
دستاویز کا تیسرا سیکشن قومی آہنگی سے متعلق ہے جس میں ملک میں تنوع کو پروان چڑھانے، برداشت اور رواداری کے فروغ اور اچھے طرز حکمرانی کے پہلوؤں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ملک میں سماجی و اقتصادی عدم مساوات دور کرنے کے لیے فلاح و بہبود پر مرکوز سماجی فنڈز کو مزید مضبوط کرنے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشش کی جائے گی۔

حکمرانی کو بہتر بنانے اور اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی موجودہ تقسیم کو ضلعی اور نچلی سطحوں پر زیادہ بااختیار اور بہتر بنایا جائے گا۔

جمہوری اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی نظام کو مضبوط کیا جائے گا۔ وفاقی اکائیوں اور گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

معیشت نئی قومی پالیسی کا مرکز
چوتھا سیکشن ملک کی معیشت سے متعلق ہے جسے سب سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں پہلے بھی کئی بار حکومت اور فوج سمیت طاقتور حلقوں کی جانب سے معیشت کے استحکام سے متعلق اشارے دیے گئے مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ معاشی ترقی کو ہی ملکی سلامتی کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے اور ایک مضبوط معیشت کی بنیاد پر قومی سلامتی کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی بات ہوئی ہے۔

اس سیکشن میں کہا گیا ہے کہ معیشت سے جڑے تین بڑے چیلنجز کا خاتمہ اس پالیسی کا مقصد ہے۔ یہ چیلنج بیرونی عدم توازن اور غیر مساوی معیشت ہیں۔

بیرونی عدم توازن اس وقت ہوتا ہے جب غیر ملکی کرنسی ملک میں آنے کی بجائے باہر زیادہ جا رہی ہے۔ اس میں توازن لانے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں گی۔ برآمدات سے منسلک غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری سے متعلق کاروبار سہل کیے جائیں گے جبکہ بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ کیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق حکومتی آمدن میں بتدریج اضافے کے لیے ٹیکس ریفارمز پر مسلسل توجہ دینا ہو گی۔

معیشت میں عمودی عدم توازن امیر کے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے کا نام ہے اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت نے پالیسی دستاویز میں کہا ہے کہ یہ فرق مٹانے کے لیے معاشی ریفارمز لائے جائیں گے۔

جیسے امیر طبقے کا پالیسی سازی پر کنٹرول کا خاتمہ، کم آمدن خاندانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اور ان کے سامنے آنے والی رکاوٹوں کا خاتمہ اور انھیں ذاتی کاروبار اور ملکیت کے مواقعوں تک رسائی فراہم کرنا جبکہ انتہائی مستحق طبقے تک حکومت کی براہ راست مدد پہنچے گی جس میں موجودہ احساس اور پناہ گاہ جیسے پروگرام شامل ہیں۔

اسی طرح متوازی عدم توازن سے مراد علاقائی اور جغرافیائی حدود کے درمیان خوشحالی اور ترقی کے مواقعوں میں فرق ہے۔ دستاویز کے مطابق اسی عدم مساوات کو عام طور پر کئی عناصر ایک منفی بیانیہ بنا کر استعمال کرتے ہیں۔

اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے جنوبی بلوچستان پیکج، سندھ اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی پیکجز اور خیبرپختونخوا میں نئی ضم ہونے والے ضلعوں کی ترقی کے پیکجز پہلے سے موجود ہیں جبکہ ترقی پذیر علاقوں کے حالات میں بہتری کی خاطر پبلک سیکٹر فنانشنل ایلوکیشن میں توازن کے لیے مسلسل کوشش کی جائے گی۔

اسی حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں ہر برس بیس لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہو رہے ہیں جنھیں قومی ترقی میں شامل کرنے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ یکساں طور پر، مہارتوں کی نشوونما اور انٹرپرینیور شپ کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں پر مرکوز پالیسیوں پر عمل کیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق پائیدار مالیاتی انتظام کے ذریعے کم آمدنی والے ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لیے اقتصادی پالیسیوں کو فروغ دیا جائے گا جبکہ تجارت اور رابطے کے لیے پاکستان کے جیو اکنامک مقام کو ہموار کرنے کی ضرورت ہو گی اور مساوی ترقیاتی اقدامات کو ترجیح دینا ہو گی۔ اس کے علاوہ مضبوط نظام کے تحت ماحول دوست توانائی کی ترقی کو فروغ دے کر اصلاح کی جائے گی۔

ایک ایسے تعلیمی نظام کو فروغ دیا جائے گا جو پرائمری سطح پر سستی اور معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرے اور ایک اعلیٰ تعلیمی نظام جو عالمی سطح پر مسابقتی ہو، قائم کیا جائے گا۔

دفاع سے متعلق پالیسی
قومی سلامتی پالیسی کے مطابق پاکستان ’کھلی اور محفوظ‘ سرحد کا خواہاں ہے جہاں معاشی رابطہ کاری ممکن ہو۔

قومی سلامتی پالیسی کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، دفاعی ساز و سامان کی تیاری اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے خود انحصاری کے شعبے میں مزید کام کیا جائے گا جبکہ مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

ملکی معیشت میں استحکام آنے سے ملکی دفاع کو مزید بہتر بنانے کے لیے ذرائع بھی دستیاب ہوں گے۔

ملکی دفاع کے لیے کم سے کم ایٹمی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ بحری نگرانی کے نظام کو بھی بہتر کیا جائے گا۔ اس بار خلائی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور ہائبرڈ وار فیئر سے متعلق شعبوں میں وسعت لانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ سرکاری امور کی رازاری کو یقینی بنایا جائے۔

ملک میں مقامی سرورز کا قیام، سائبر حملوں سے بچنے اور اہم ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہائبرڈ وار فیئر پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

دستاویز کے مطابق پاکستان مخالف ہائبرڈ تھریٹس دیگر ریاستوں اور ان کی پراکسیز سے موصول ہوتے ہیں۔ اس لیے پاکستان اس ضمن میں جارحانہ، مربوط اور جامع اقدامات کرے گا تاکہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

اندرونی سلامتی سے متعلق پالیسی
پاکستان اس سے پہلے سنہ 2014 میں قومی سلامتی پالیسی سے متعلق دستاویز لا چکا ہے جسے اس وقت قومی اندرونی سلامتی پالیسی کا نام دیا گیا تھا۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد اس پالیسی کے بعض حصوں میں سنہ 2015 کے آغاز میں ترمیم بھی کی گئی تھی جبکہ اس کا دوسرا حصہ سنہ 2018 میں جاری کیا گیا تھا۔

موجودہ حکومت کہتی ہے کہ وہ دستاویز صرف اندرونی سلامتی سے متعلق تھی جبکہ ان کی لائی گئی دستاویز قومی سلامتی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔

اس بار جاری ہونے والی قومی سلامتی پالیسی کا پانچوان سیکشن اندرونی سلامتی کے امور سے متعلق ہے۔ دستاویز کے مطابق پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا۔

دستاویز کے مطابق پولیس، انسداد دہشتگردی ایجنسیوں کی مضبوطی یقینی بنائے جائے گی۔ تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف انٹیلیجنس آپریشن، دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے علاوہ ان علاقوں میں غربت، عدم استحکام اور ساختی کمیوں کو ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا جہاں دہشتگرد اپنے گروہوں کے لیے بھرتیاں کرتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق دہشتگردی کے مخالف بیانیہ پھیلانا بھی ترجیحات میں شامل ہو گا۔

علیحدگی پسند عناصر سے نمٹنے کے لیے چار نکات پر مشتمل پالیسی اختیار کی جائے گی۔ مذاکرات کے حامی گروپوں کو ان گروہوں سے الگ کیا جائے جن سے بات چیت نہیں ہو سکتی، ان گروہوں میں بھرتیوں یا شمولیت کے سلسلے کو ختم کیا جائے گا، مالی ذرائع کو ختم کیا جائے گا اور چوتھا یہ کہ ایسی ٹارگٹڈ سماجی و معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی جو پسماندہ علاقوں کی ان شکایات کا ازالہ کر سکیں جن کا استحصال شرپسند عناصر کرتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور فرقہ واریت ختم کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔

مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے ’ڈی ریڈیکلائزییشن‘ پروگراموں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق نفرت انگیز مواد جاری کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟
قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز میں تفصیل سے خارجہ پالیسی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق پاکستان کی توجہ اکنامک ڈپلومیسی پر رہے گی اور نظر ایسے نئے روابط پر ہو گی جو پاکستان کی ’کنیکٹیویٹی‘ (رابطہ کاری) اور معاشی استحکام کے حصول میں مدد کریں گے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے ضامن بھی ہوں گے۔

دستاویز کے مطابق پاکستان کشمیر سے متعلق اپنی پوزیشن پر قائم ہے اور وہ کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ ایک ایسا حل جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق ہو۔

ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا جامع ذکر کیا گیا ہے جن کے چیدہ نکات کچھ اس طرح ہیں:

افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ ملک کر معاشی، انسانی اور سلامتی کے مسائل کے حل کے لیے مدد جاری رکھے گا۔ پاکستان کا مقصد افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جو افغانستان میں امن کے ساتھ جڑی ہیں۔

چین کے ساتھ پاکستان اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا جبکہ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی پیک جیسے منصوبے نے پاکستان کی معیشت کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ سی پیک اور دیگر سپیشل اکنامک زونز میں پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا۔

انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان ملک کے اندر اور باہر امن و استحکام کی پالیسی کے تحت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے اور ’کشمیر کا پُرامن اور منصفانہ حل دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا بنیادی محور ہے۔‘

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں ہندوتوا طرز سیاست میں اضافہ قابل تشویش ہے اور یہ پاکستان کی سلامتی پر براہ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا کی جانب سے اسلحے کی دوڑ اور جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی میں سہولت اور نان پرولفریشن رولز میں انڈیا کے لیے نرمی سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے پر پاکستان کو تشویش ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا پاکستان کے خلاف غلط معلومات پہنچانے اور پراپیگنڈہ میں ملوث رہتا ہے۔ قومی سلامتی پالیسی کے مطابق پاکستان انڈیا کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے مگر انڈیا کے حالیہ اقدامات اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

ایران سے متعلق کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں جبکہ انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے اور بارڈر پیٹرولنگ بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پالیسی سازوں تک پاکستان کے تحفظات پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہم امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات کے خواہاں ہیں جہاں توجہ کا مرکز انسداد دہشت گردی ہی نہیں بلکہ پارٹنرشپ کو دیگر شعبوں تک پھیلانا ہے۔ ان میں تجارت، رابطہ کاری، توانائی، انسداد دہشتگردی، سلامتی اور انٹیلیجنس تعاون شامل ہے۔

انسانی سلامتی کیا ہے؟
پاکستان ایشیا کے تیزی سے ’اربنائیز‘ ہوتے ممالک میں سے ایک ہے یعنی یہاں کی دیہی آبادی نہایت تیزی سے شہروں کا رخ کر رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگلی دو دہائیوں میں پچاس فیصد پاکستانی ملک کے بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہوں گے۔

قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز میں شہروں کی جانب ہجرت کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے جس کی جانب فوری توجہ درکار ہے۔ نئی پالیسی کے تحت آبادی میں استحکام، شہری آبادی کا انتظام اور شہری علاقوں کی منصوبہ بندی جبکہ بڑے شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی کم کرنے کے لیے دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں سرمایہ کاری اور ترقی کی جانب توجہ دی جائے گی۔

معیاری صحت کی دیکھ بھال کو مزید سستا بنانے کے علاوہ بیماریوں کی نگرانی اور روک تھام کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ غذائی قلت اور سٹنٹنگ کو دور کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی اور ایک صحت مند اور متحرک پاکستان کے لیے وبائی امراض اور ان کے ردعمل کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

اسی طرح قومی سلامتی پالیسی میں خواتین سے متعلق لکھا گیا ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین اور ٹرانسجینڈر افراد کی آزادانہ اور محفوظ شرکت کو فعال بنایا جائے گا۔ انھیں صنفی بنیاد پر تشدد سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

فیصلہ سازی کے فورمز، پالیسی سازی اور امن، تحفظ اور سلامتی پر کام کرنے والے اداروں میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے اثرات سے نمٹنے جبکہ زراعت میں بہتری اور مناسب خوراک کی دستیابی اور فراہمی جیسے شعبوں میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات لائی جائیں گی۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

سابقہ حکومت کے روس سے سستا تیل خریدنے کے دعوے کی حقیقت کیا؟

تحریر: تنویر ملک حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر …