ہفتہ , 28 مئی 2022

دس لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین سعودی عرب سے مایوس ہوکر واپس لوٹ آئے

ریاض: حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں ورک پرمٹ کی بڑھتی تارکین وطن فیس کے باعث وہاں ملازمت کر رہے لاکھوں غیر ملکیوں نے اپنے ملک واپس لوٹنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔

ہندوستان کی سرکاری نیوز ایجنسی یو این آئی نے سعودی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں 2018 کے آغاز سے 2021 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 45 ماہ کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ کر اپنے ملک واپس آگئے۔

سعودی ویب سائٹ سعودی گیزٹ کے مطابق ملازمین کی یہ تعداد ملک میں غیر ملکی ملازمین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018 سے مسلسل بنیادوں پر اکسپیٹ فی یا تارکین وطن فیس میں حکومت کی طرف سے مسلسل اضافہ کیا گیا جس کے باعث تقریباً پندرہ لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عرب میں اپنی ملازمت کو ترک کے اپنے ملک واپس آنے میں ہی عافیت سمجھی۔

خیال رہے سعودی عرب نے 2018 میں ایک مقررہ ماہانہ فیس متعارف کرائی ہے جسے تارکین وطن فیس کہا جاتا ہے ، یہ فیس ورک پرمٹ (اقامہ) میں توسیع ہونے پر وہ کمپنی ادا کرتی ہے جہاں یہ غیر ملکی ملازمین کام کرتے ہیں۔ 2018 کے دوران غیر ملکیوں کے لئے یہ فیس فی کس 400 ریال تھی جبکہ وہ کمپنیاں جہاں سعودی شہریوں اور غیر ملکی ملازمین کی تعداد برابر تھی، وہاں ہر غیر ملکی ملازم کے لئے حکومت 300 ریال لیا کرتی تھی جبکہ یہ رقم 2019 میں 600 اور 2020 سے 800 ریال یعنی تقریبا 220 ڈالر تک بڑھا دی گئی۔

سعودی میڈیا کے مطابق ملک میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد 2017 کے آخر تک ایک کروڑ سے زیادہ تھی تاہم ایکسپیٹ فیس کےنفاذ کے بعد یہ تعداد ہر سال گزرنے کے ساتھ کم ہونا شروع ہو گئی اور اب نوے لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …