ہفتہ , 28 مئی 2022

امریکی آمریت کے خلاف ایران، چین اور روس کی مشترکہ حکمت عملی

تحریر: مریم خرمائی

افغانستان سے امریکہ کا جلدبازی میں فوجی انخلاء اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ برسراقتدار آنے والے نئے امریکی صدر کیلئے امریکی خارجہ پالیسی کا رخ اینڈوپیسیفک خطے کی جانب موڑنا اس قدر اہم تھا کہ انہوں نے اس خاطر اپنے علاقائی اور یورپی اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا بھی گوارا سمجھا۔ جو بائیڈن اور ان کے بعد برسراقتدار آنے والے امریکی صدور مملکت کی جانب سے اپنی تمام تر طاقت اور توانائیاں مغربی اور جنوب مغربی ایشیا پر مرکوز رکھنے کا مطلب اینڈوپسیفک خطے کو مکمل طور پر چین کی گود میں ڈال دینے کے مترادف تھا کیونکہ ایسی صورت میں چین اینڈوپسیفک خطے کی مقامی اور بین الاقوامی طاقت میں تبدیل ہو جانا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کی اکیسویں صدی اینڈوپسیفک خطے میں امریکہ اور چین کے درمیان زور آزمائی کی صدی ہے۔

لہذا امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن اینڈوپسیفک خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کی غرض سے پرانے میدان جنگ یعنی مشرق وسطی سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ میدان جنگ تبدیل ہونے کے باعث نئے اتحاد اور نئے اتحادیوں کی ضرورت بھی پیش آ چکی ہے جو بذات خود امریکی حکمرانوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ نئے اتحاد تشکیل دینے کا آغاز "ایکوس” سکیورٹی معاہدے سے ہو چکا ہے جو امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان فوجی معاہدہ تشکیل پانے کی صورت میں ظاہر ہوا اور اس کے نتیجے میں فرانس کے مفادات کو شدید ٹھیس پہنچی تھی۔ اگرچہ یورپ کافی عرصے سے اسٹریٹجک خودمختاری کا مطالبہ کر رہا ہے جو واشنگٹن اور برسرلز کے درمیان تعلقات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اکیسویں صدی میں باہمی مفادات کے حصول کیلئے اتحاد تشکیل دینے پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔

اسی ہم عنقریب اینڈوپیسیفک خطے میں کچھ نئے اتحادوں کی تشکیل کا بھی مشاہدہ کریں گے جن کی ابتدا "کوآڈ” اور "ایکوس” سے ہو چکی ہے۔ اب ہم اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نئے اتحاد تشکیل دینے پر مبنی واشنگٹن کی ان سرگرمیوں کے مقابلے میں ان ممالک کا ممکنہ ردعمل کیا ہو گا جو امریکہ کے روایتی دوست نہیں جانے جاتے؟ گذشتہ چند برس کے دوران امریکہ کی دفاعی حکمت عملی اس مفروضے پر استوار رہی ہے کہ نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں ہونے کے ناطے روس اور چین، امریکہ کی پوزیشن کمزور کرنے اور عالمی نظام کی تشکیل دے کر دیگر ممالک پر اثرانداز ہونے کیلئے اپنے مطلوبہ ماڈل کو مضبوط بنانے کے درپے ہیں۔ اس بات کی تصدیق جو بائیڈن کی اس تقریر سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران اور چین کے درمیان بڑھتے تعاون کے بارے میں پریشان ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت، مغربی بلاک کے مخالف ممالک میں سے سب سے زیادہ چین، روس اور ایران کے درمیان ممکنہ تعاون اور قربت کے بارے میں پریشان ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے روس اور چین کے خلاف نئے اتحاد تشکیل دے کر انہیں بھی اپنے خلاف نئے اتحاد تشکیل دینے کا قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔ امریکہ چاہے چین، روس اور ایران جیسے ممالک کو اپنا "دشمن” سمجھے یا "دوست” قرار دے، ان ممالک میں برسراقتدار حکومتیں ایک خودمختار سیاسی تشخص کی حامل ہیں اور انہیں اپنی موجودیت کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ پس اگر واشنگٹن سمجھتا ہے کہ وہ مثال کے طور پر روس کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کر سکتا ہے تو اسے اس کے ردعمل میں مشابہہ اقدام کی توقع بھی رکھنی چاہئے اور اگر وہ اس کی توقع نہیں رکھتا تو یہ ایک قسم کا اسٹریٹجک اندھا پن ہو گا۔

حقیقت یہ ہے کہ لفظ "اتحاد” بھی اپنے اندر بھی مقابلے اور زور آزمائی کا مفہوم لئے ہوئے ہے۔ اب جب امریکہ واضح طور پر مشرق (اینڈوپسیفک) کی جانب پلٹنے اور نئے اتحاد تشکیل دینے کی بات کرتا ہے تو ایسے ممالک جنہیں وہ اپنا حریف قرار دیتا ہے، ان کے پاس بھی مشابہہ اقدام انجام دے کر نئے اتحاد تشکیل دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ گذشتہ چند برس کے دوران ماسکو نے عالمی سطح پر موجود اہم سیاسی اور سکیورٹی ایشوز میں چین سے ملتا جلتا موقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے اور کم از کم گذشتہ ایک سال سے ان دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے 30 دسمبر 2021ء کے دن چین اور روس کے درمیان قریبی تعاون کو عالمی نظام کی مضبوطی اور عالمی اصولوں کے استحکام کا ضامن قرار دیا تھا۔

اس وقت مغربی طاقتوں کے ساتھ ویانا میں ایران کے جوہری مذاکرات جاری ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ اسی طرح روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی چین کے اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بورجام معاہدے میں واپس آ جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بھی چین اور روس کے نمائندوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور روس کے نمائندے ویانا میں ایران کے جوہری حقوق کی حمایت کر رہے ہیں اور ہم پر عائد ظالمانہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان تمام بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران، چین اور روس کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

سابقہ حکومت کے روس سے سستا تیل خریدنے کے دعوے کی حقیقت کیا؟

تحریر: تنویر ملک حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر …