ہفتہ , 28 مئی 2022

بلی تھیلے سے باہر، اردوغان نے اسرائیل سے تعلقات پر پتے کھول دیے

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحیرہ روم کی متنازع گیس پائب لائن کے لئے امریکی حمایت میں کمی آنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تیار ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب ترکی ایک سال سے اقتصادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات 2010 میں غزہ پٹی کے لیے بھیجے گئے ترکی کے فلوٹیلا جہاز پر اسرائیلی حملے میں 10 شہریوں کی ہلاکت کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔

اس کے بعد اسرائیل اور ترکی کے حریف سمجھے جانے والے یونان سمیت کچھ ممالک کے ایک گروپ نے بحیرہ احمر کی گیس یورپ تک پہنچانے کے لئے مشترکہ پائپ لائن پر کام شروع کر دیا تھا۔

ترکی نے اس منصوبے کی سختی سے مخالفت کی تھی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پائپ لائن کی حمایت کی تھی تاہم اب میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ واشنگٹن نے یونان کو اطلاع دی ہے کہ موجودہ بائیڈن انتظامیہ اس پائپ لائن کی حمایت نہیں کرے گی۔

اردوغان نے اب بیان دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہيں تاکہ بحیرہ احمر کی گیس ترکی کے راستے یورپ پہنچے۔

رجب طیب اردوغان نے ترکی کے دورے پر آئے ہوئے سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک کے ساتھ مشترکہ طور پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں امریکا نے اس منصوبے کی مالیات کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو اس دیرینہ خیال پر بحال کر رہے ہیں کہ بحیرہ روم کی گیس ترکی کے راستے یورپی صارفین تک پہنچائی جائے۔

ترک صدر نے کہا کہ ہم اب بھی یہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …