ہفتہ , 28 مئی 2022

ایٹمی مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال

ویانا: ویانا میں ایران، روس اور چین کے اعلی مذاکرات کاروں نے سہ فریقی اجلاس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

فارس نیوزایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ویانا میں امریکی پابندیوں کے خاتمے کی غرض سے، ایران اور چار جمع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور جاری ہے اور بدھ کی شب ایران روس اور چین کے اعلی مذاکرات کاروں کا سہ فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز ایران کے اعلی مذاکرات کار علی باقری کنی نے یورپی یونین کے نمائندے کے علاوہ ایٹمی معاہدے کے رکن، تین یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی تھی۔

منگل کے روز ویانا میں اعلی مذاکرات کاروں اور ماہرین کی سطح پر دو الگ الگ اجلاس ہوئے تھے جن میں فیکٹ چیکنگ میکنیزم اور گارنٹیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

منگل کی صبح ویانا میں ایران، یورپی یونین اور تین یورپی ملکوں کے ماہرین کا اجلاس ہوا اور شام کو ہونے والے اجلاس میں، ایران اور تین یورپی ملکوں کے اعلی مذاکرات کاروں نے شرکت کی جبکہ یورپی یونین کے نمائندے نے بھی اس اجلاس میں حصہ لیا۔

منگل کی شام ہونے والا اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس میں مسودے کے متن اور بعض دوسرے معاملات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ویانا میں ایران اور چار جمع ایک گروپ کے درمیان جاری مذاکرات میں پیشرفت کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ وہ نئے سال کی پہلی پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ ایران کے ساتھ جاری ایٹمی مذاکرات کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں پیشرفت کا امکان پایا جاتا ہے ، یا پھر مذاکرات چھوڑنے کا وقت آگیا ہے؟صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ وقت مذاکرات چھوڑنے اور پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ مذاکرات میں پیشرفت ہورہی ہے۔

بائیڈن سے پہلے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے دوبارہ نہ نکلنے کی ضمانت ایران کا ایک مطالبہ ہے۔ قبل ازیں پوڈ سیف دی ورلڈ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ، ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ، ہماری سیاسی تاریخ کا بدترین فیصلہ تھا۔

پابندیوں کا خاتمہ اور امریکہ کے دوبارہ معاہدے سے نہ نکلنے کی ضمانت کی فراہمی، جن پر ایران زور دے رہا ہے، ویانا مذاکرات میں زیر بحث اہم ترین معاملات ہیں۔مذاکراتی وفود کے بقول، بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے تاہم ایک اچھے معاہدے کے حصول کا انحصار، باقی ماندہ مسائل کے حل اور پابندیوں کے خاتمے کی غرض سے امریکہ کے خاص سیاسی فیصلوں پر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …