ہفتہ , 28 مئی 2022

کار رسالت اور عبادت انبیاء میں بھی شریک ہوا جا سکتا ہے: حجۃ الاسلام و المسلمین مسعود عالی

حجۃ الاسلام و المسلمین مسعود عالی نے امام خمینی امام بارگاہ میں اپنی مجلس میں بڑی پر مغز گفتگو کرتے ہوئے عبادت کی تین انتہائی اہم اقسام اور ساتھ ہی گناہوں کی تین قسموں کا ذکر کیا اور شہزادی کونین صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مثالی عبادت و جدوجہد پر روشنی ڈالی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اگر دینی مآخذ، قرآن مجید اور اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں تحقیق کی جائے تو ایک چیز یہ نظر آتی ہے کہ تین طرح کی معصیتیں یا گناہ ہیں تو دوسری طرف عبادت کی بھی تین قسمیں ہیں۔ اگر ہم ان عبادتوں کو سمجھ جائيں تو پھر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مشن کی عظمت و منزلت ہمارے لیے مزید عیاں ہو جائے گي۔ پہلی قسم، شخصی و انفرادی عبادتوں کی ہے۔ یہ عبادت کسی بھی فرد کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ اگر انسان دیندار ہو تو وہ عبادتی اعمال کو اکیلے انجام دے سکتا ہے۔ جیسے نماز پڑھ سکتا ہے، نوافل اور مختلف طرح کے ورد پڑھ سکتا ہے۔ یہ انفرادی عبادتیں ہیں جن کی اپنی ایک منزلت اور ثواب ہے۔ انفرادی معصیت ان اعمال کے عین مقابل ہے۔ مثال کے طور پر کوئي اپنے گھر کے اندر کوئی گناہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا تو یہ کام وہ اکیلے میں کرتا ہے اور یہ انفرادی معصیت ہے جس کی اپنی سزا اور عذاب ہے۔

عبادتوں اور معصیتوں کی دوسری قسم، اجتماعی ہے جو چند افراد کے مل کر کرنے سے انجام پاتی ہے۔ اب اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ اجتماع چھوٹا ہو یا بڑا۔ مثال کے طور پر نماز جماعت، صدقہ و خیرات، سماجی نیکیاں، والدین کے ساتھ نیکی، صلۂ رحم یا سماجی خدمات۔ اگر کوئی گروہ ان میں سے کسی بھی کام کو خدا کے لیے انجام دے تو بلاشبہ اس نے عبادت کی ہے اور یہ اجتماعی عبادت سمجھی جائے گي۔ فطری طور پر اجتماعی عبادتوں کا ثواب، انفرادی عبادتوں سے زیادہ ہے کیونکہ کام کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔ اجتماعی عبادتوں کے مقابل، اجتماعی گناہ ہیں۔ جیسے غیبت، تہمت، کسی مومن کے سلسلے میں بدگمانی وغیرہ۔ ان گناہوں کے اثرات پورے سماج پر پڑتے ہیں اور بے راہروی، کینے اور اختلاف کا موجب بنتے ہیں۔ یا مالی بدعنوانی، غبن، ذخیرہ اندوزی، کالابازاری، گراں فروشی، رشوت ستانی اور سود وغیرہ کہ جو اجتماعی برائی، معصیت اور اجتماعی گناہ ہے۔ فطری طور پر اجتماعی گناہ کی برائی انفرادی گناہ سے کہیں زیادہ ہے۔

تیسری قسم، تاریخی عبادت کی ہے۔ تاریخی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی ایسا کام کروں کہ تمام انبیاء، اولیائے الہی اور اچھے لوگوں کی عبادت میں شریک ہو جاؤں! یہ ہماری دینی تعلیمات سے حاصل ہونے والی بہت ہی عجیب چیز ہے بلکہ ان عبادات کی کسوٹی، انفرادی اور اجتماعی عبادتوں سے بہت الگ ہے۔ اگر کوئی ولایت حقہ کی بحالی اور قیام میں کسی بھی طرح کی مدد کرے اور انبیاء و اولیائے الہی کے محاذ کے لئے کام کرے تو وہ اپنی کوشش اور حصے بھر پوری تاریخ کے انبیاء و اولیائے الہی کے تمام ثوابوں میں شریک ہو جاتا ہے۔ تاریخی عبادت یعنی آپ ایسا کوئی کام کریں کہ آپ کا وجود ہمہ گیر ہو جائے اور آپ کو اولیائے خدا کی تمام سرگرمیوں میں ایک حصہ حاصل ہو جائے۔ یہ ہوگی تاریخی عبادت۔ اس کا ثواب بھی غیر معمولی ہے۔

یہ چیز کوئی تخیلی، علامتی، شاعرانہ اور مجازی نہیں ہے۔ واقعی اس وقت جو بھی خداوند متعال کی مشیت کو عملی جامہ پہنانے اور ولایت الہیہ کو جامۂ عمل پہنانے میں تعاون کرتا ہے وہ پیغمبر اور امیرالمومنین علیہ السلام کے لشکر کا سپاہی ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے ریان ابن شبیب سے فرمایا: "اِنْ سَرک اَنْ یکونَ لَک مِنَ الثوابِ مِثْلُ ما لِمَنِ استَشْہَدَ مَعَ الحُسَین علیہ‌السلام فَقُلْ مَتی ما ذَکرْتَہُ: یالَیتَنی کنتُ مَعَہُمْ فَافُوزَ مَعَہُم فَوْزا عَظیما” جب بھی تمھیں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی یاد آئے تو کہو اے کاش! میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۔ تمھاری یہ آرزو ہونی چاہیے۔ اگر تمھاری یہ آرزو ہوگي تو تمھیں ان لوگوں جیسا ثواب ملے گا جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے، یعنی تم ان کے ثواب میں شریک ہو جاؤگے۔ یہ وہی تاریخی عبادت ہے۔ میں کربلا میں نہیں تھا لیکن میں اپنی آرزو سے، اپنی خواہش سے اور اپنے اعمال سے اس محاذ میں شامل ہو سکتا ہوں۔ اگر میرا رجحان، آرزو اور محبت، حق کے محاذ کے ساتھ ہوگي، تو میں اس محاذ کے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤں گا۔ جس کا دل کسی محاذ کی محبت سے لبریز ہوگا، وہ محاذ اور اس کے افراد، اس کی شناخت کا حصہ بن جائیں گے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بقول، ہر کوئی اپنے محبوب کے ساتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ قیامت میں بھی وہ ان کے ساتھ ہوگا۔ بعض لوگوں کے محشور ہونے کا راز یہ ہے کہ ان کے دل انبیاء اور اولیاء سے جڑے ہوئے ہیں۔

جس کا دل کسی محاذ کے ساتھ ہوگا، وہ اس محاذ کے ساتھ ہے۔ البتہ یہ صرف حق کے محاذ سے مخصوص نہیں ہے۔ اگر کسی کا جسم حق کے محاذ میں ہے لیکن اس کا رجحان، اس کا دل اور اس کی آرزو، شیطانی محاذ کے ساتھ ہوگی تو وہ اسی محاذ میں ہے۔ رجحان، آرزو اور دلی نیت، انسان کے موقف اور محاذ کے تعین سے جڑی ہوئی ہے۔

تاریخی عبادت کے مقابلے میں تاریخی معصیت ہے۔ تاریخی معصیت یہ ہے کہ انسان، ولایت حقہ پر وار کرے اور کچھ ایسا کرے کہ جس سے حق کی ولایت کمزور ہو۔ شیطان اور ابلیس کے گروہ کی سب سے اہم کوشش یہ تھی کہ لوگوں کو ولایت حقہ کے کمانڈر سے علیحدہ کر دے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام ولایت حقہ کے نمائندے اور مظہر تھے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ذمہ داری اور مشن، حق کے محاذ اور امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت حقہ کی حفاظت کرنا تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر ان کو بچا لیا گيا تو حق کا محاذ باقی رہے گا اور اگر انھیں ختم کر دیا گيا تو حق کا محاذ ختم ہو جائے گا۔ ہماری تاریخی عبادت یہ ہے کہ حق کے محاذ میں انبیاء اور اولیاء کے ساتھ ہو جائيں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت یہ ہے کہ حق کے محاذ اور اس محاذ کے امام کی حفاظت کریں۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر اس محاذ کے امام پر وار کیا گيا تو گویا پیغمبر اور قرآن پر وار کر دیا گيا اور پھر حق کا کوئی محاذ ہی باقی نہیں بچے گا کہ میں اور آپ تاریخی عبادت کر سکیں۔ اس اعتبار سے پوری تاریخ، حضرت زہرا کی مرہون منت اور مقروض ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام کی ذمہ داری، خاموشی تھی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو میدان میں آنا چاہیے۔ ان کا مشن، خاموشی نہیں ہے۔ رسول اللہ نے حضرت زہرا کے اتنے فضائل بیان کر دیے تھے کہ وہ حق کی کسوٹی بن جائيں۔ تو صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا میدان میں آئيں اور انھوں نے بیان اور تشریح کا جہاد انجام دیا۔ پوری تاریخ میں ایسی جگہ جہاں مرد کی ذمہ داری خاموشی تھی، دو خواتین میدان میں آئيں اور انھوں نے پورے دین کو بچا لیا۔ پہلی خاتون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تھیں اور دوسری ان کی باعظمت بیٹی حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا تھیں۔ انھوں نے بھی، اس وقت جب امام زین العابدین علیہ السلام کا مشن سکوت تھا، بیان اور تشریح کا جہاد کیا۔

دیکھیے ‘بیان و تشریح کا جہاد’ ایسی اصطلاح ہے جسے ہمارے رہبر عزیر آیت اللہ العظمی خامنہ ای کافی عرصے سے استعمال کر رہے ہیں اور جو واقعی بہت زیادہ قابل توجہ ہے۔ اس وقت، سافٹ وار کی سب سے اہم قسموں میں سے ایک، بیانیہ پیش کرنے کی جنگ ہے۔ بیس سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ امریکا کے ایک تھنک ٹینک میں ایک اسٹریٹیجی پیش کی گئی تھی کہ مستقبل میں سب سے کلیدی جنگ، فوجی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ بیانیہ تیار کرنے کی جنگ ہوگی۔ جو بھی کسی واقعے یا حادثے کے بارے میں بہتر بیانیہ پیش کر سکے گا، وہ رائے عامہ کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب ہوگا، لوگوں کے ذوق کو بدل سکے گا اور کسی معاشرے کی رائے عامہ کو کنٹرول کر سکے گا۔ یقینی طور پر انٹرنیٹ اور میڈیا کے عہد میں، جو بھی اپنی بات کو مؤثر اور زوردار طریقے سے پیش کرے گا وہی فیصلہ کن اور فاتح میدان ہوگا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے تشریح و بیان کا جہاد کیا اور حقائق کو برملا کیا۔ یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات پر ان کا گریہ بھی ایک طرح سے حقیقت کا بیان اور تشریح کا جہاد تھا۔ کچھ لوگ امیر المومنین علیہ السلام سے کہتے تھے کہ جناب! فاطمہ سے کہیے کہ وہ یا تو دن میں گریہ کریں یا رات میں، ہمارا سکون و قرار چھن گیا ہے۔ یہ بتائيے کہ کیا حضرت زہرا اپنے ہاتھ میں لاؤڈ اسپیکر لیتی تھیں کہ ان کے رونے کی آواز پورے مدینے میں سنائی دے؟ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا معصومہ ہیں۔ وہ خود جانتی ہیں کہ دوسروں کو ان کی آواز نہیں سنائی دینی چاہیے! اس کا مطلب یہ کہ بات کچھ اور تھی۔ جب وہ خواتین کے درمیان بیٹھتی تھیں تو اپنے گریے کے دوران اشعار پڑھا کرتی تھیں۔ وہ اپنے گریے کے دوران پیغمبر کے ہدف، غدیر اور پیغمبر اکرم کے جانشین کے بارے میں بات کرتی تھیں اور ان کا تعارف کراتی تھیں۔ جب وہ خواتین اپنے گھروں کو جاتی تھیں تو یہ باتیں بیان کرتی تھیں۔ یہ وجہ تھی کہ اس کام پر بہت زیادہ اعتراض ہونے لگا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بیان و تشریح کے جہاد کا ایک اور مصداق ان کے خطبے ہیں۔ ان کے دو تاریخی خطبے ہیں: پہلا خطبہ، انتہائي غیر معمولی خطبۂ فدکیہ ہے جبکہ دوسرا خطبہ اس وقت کا ہے جب آپ زخمی ہو گئي تھیں۔ جب آپ زخموں کی وجہ سے صاحب فراش تھیں تو مہاجرین و انصار کی خواتین ان کی عیادت کو آئيں اور حضرت زہرا نے ایک مختصر تقریر میں بیش قیمتی حقائق بیان کیے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بیان و تشریح کے جہاد کا ایک اور مصداق یہ تھا کہ وہ راتوں کو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ مہاجرین و انصار کے گھر جاتی تھیں اور ان سے کہتی تھیں کہ غدیر میں تم سے جو عہد لیا گيا تھا، کیا تم نے اسے فراموش کر دیا ہے؟ پیغمبر نے تم سے جو عہد لیا تھا، کیا تم نے اسے بھلا دیا ہے؟ ان باتوں سے وہ حقائق برملا کرتی اور اتمام حجت فرماتی تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

شیرین ابو عاقلہ کی شہادت؛ ایرانی عوام کا فلسطینی قوم سے اظہار ہمدردی