ہفتہ , 28 مئی 2022

فرمانروا بننے کے بعد محمد بن سلمان کی اہم ترجیح کیا ہوگی؟

تل ابیب: اسرائیل کی ایک لابی کا کہنا ہے کہ اگر بن سلمان سعودی فرمانروا بن گئے تو ان کی اہم ترجیحات، اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنا ہوگی۔

فارس نیوز ایجنسیی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں سرگرم ایک صیہونی لابی نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ سعودی عرب کے ولیعہد بن سلمان جب تخت بادشاہی پر بیٹھ جائیں گے تو ان کی اہم ترجیحات، تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہوگا۔

صیہونی لابی جے آئی این ایس اے نے جو امریکا میں صیہونیوں کے مفاد کے لئے سرگرم لابی تصور ہوتی ہے، لکھا کہ سعودی ولیعہد بن سلمان جیسے ہی بر سراقتدار ہوں گے فورا ہی وہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات برقرار کریں گے۔

صیہونی لابی نے اپنی ویب سائٹ پر مقالے میں لکھا کہ ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کا فیصلہ، محمد بن سلمان ہی کریں گے۔ اس مقالے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی حکام کی تحقیر میں معروف ہیں، بن سلمان اب تک اسرائیل کے لئے کئی مثبت اشارے بھیج چکے ہیں اور انہوں نے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے لئے بہت اہم اور واضح قدم اٹھائے ہیں، انہیں اقدام میں سے ایک بحرین، امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کے لئے سعودی عرب کی فضائی حدود کو کھولنا ہے۔

رپورٹ میں اسی طرح سعودی ولیعہد اور صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی خفیہ ملاقات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے جو کچھ مہینے پہلے شمال مغربی سعودی عرب کے نیوم شہر میں ہوئی تھی ۔

صیہونی لابی جے آئی این ایس اے سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان اسلحہ جاتی اور فوجی تعاون کی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ تمام ممالک میں سب سے زیادہ ڈرون حملے کا خطرہ سعودی عرب کو ہے اور امریکا، اسرائیلی ایئرڈیفنس سسٹم سعودی عرب پہنچا سکتا ہے اور یہ مسئلہ ریاض اور تل ابیب کے درمیان بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …