بدھ , 10 اگست 2022
تازہ ترین

آخر کب تک ہمارے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر صرف مذمتی بیانات پر اکتفا کیا جائے گا: علامہ امین شہیدی

اسلام آباد: امت واحدہ پاکستان کےسربراہ علامہ محمدامین شہیدی نے کوچہ رسالدارکی جامع مسجدوامام بارگاہ میں ہونےوالےخودکش بم دھماکےکی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔امت واحدہ پاکستان کی طرف سےجاری کردہ اعلامیہ میں انہوں نےکہاکہ سانحہ پشاور،شیعہ نسل کشی کا تسلسل ہےجوگذشتہ چالیس برسوں کےدوران ریاستی اداروں کی انوالومنٹ اورچندعرب ممالک کی مددسےہوتی رہی ہے۔انہوں نےکہاکہ ہمیں بتایاگیاتھاکہ دہشت گردی کےحوالہ سےریاست کی پالیسیاں تبدیل ہوچکی ہیں لیکن عملاایسانہیں ہے۔تمام خودکش حملہ آورپیداکرنےوالےافراد،گروپس اورجماعتیں اب بھی فعال ہیں اورسیاسی میدان میں موجودہیں۔المیہ یہ ہےکہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ سےوابستہ افراداب بھی یہی کہتےنظرآتےہیں کہ ہم ان دہشت گردقاتلوں کو مین سٹریم لائن میں لاکرپولیس،ایف سی اوردیگرحکومتی اداروں میں بھرتی کرناچاہتےہیں تاکہ ان کوروزگارملےاوریہ لوگ دہشت گردی ترک کردیں۔لیکن حقیقت یہی ہےکہ جولوگ پاکستان واسلام دشمن قوتوں کےہاتھوں کھلونابن کراپنےمسلمان بھائیوں کےخون سےہولی کھیلنےکےعمل کوعادت بنالیں،وہ کبھی بھی پیارکی زبان نہیں سمجھ سکتے۔

ٹی ٹی پی،داعش،سپاہ صحابہ،لشکرجھنگوی یہ سب ایک ہی ماں کی جنی ہوئی تنظیمیں ہیں جونہ ملک کی وفادارہےاورنہ اسلام کی،لیکن ہماری ریاست ہربار اس ماں پرہاتھ ڈالنےکی بجائےاس خودکش حملہ آورکاماتم کرتی ہےجوواصلِ جہنم ہوجاتاہے۔میں سمجھتاہوں کہ ہماری ریاست کوان لوگوں کوکنٹرول کرنےکی ضرورت ہےجومذہب کےشیلٹرمیں تکفیری نعرےلگاتےہیں ،اوردوسرےمسالک کےافرادکےخلاف آج بھی فتوی دیتےہیں کہ وہ خارج ازاسلام اورواجب القتل ہیں۔ایسےلوگ خواہ مدرسہ میں ہوں یامذہب کےنام پربننےوالی جماعتوں کاحصہ ہوں،وہ اس طرح کےتمام واقعات کےذمہ دارہیں۔اگرریاست ان معاملات کوکنٹرول کرنےمیں سنجیدہ ہےتوریاست کارویہ بدلناچاہیے۔پاکستان کواس صورتحال سےنکالنےکےلئےضروری ہےکہ جن دہشت گردجماعتوں نےگذشتہ چاردہائیوں میں گھروں کواجاڑا،مساجدکوتباہ کیا،علماءکوقتل کیا؛حتی کہ پولیس اورفوج کوبھی نہ بخشا،ان کوعبرتناک سزادی جائے۔اوران لوگوں سےبھی سختی سےنمٹاجائےجومنبرومحراب یامدرسہ کےدرس کےذریعہ لوگوں کےاذہان کونفرت کےزہرسےآلودہ کرکےانہیں اپنےہم وطن وہم مذہب مسلمان بھائیوں کےقتل پراکساتے ہیں خواہ وہ ڈھال کوئی بھی استعمال کرتےہوں۔بعض اوقات نعرےبڑےخوبصورت ہوتےہیں لیکن ان کےپس پردہ عزائم بڑےنجس اورخطرناک ہوتےہیں۔جب تک تکفیری عناصرکاقلع قمع نہیں کیاجاتا،یہ سلسلہ تھمنےوالانہیں۔

اگرحکومت،اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاستدان،مفتی اورملامیں سےکوئی بھی اس ظلم وبربریت پرخاموش ہےتووہ اس جرم میں برابرکاشریک اورقاتلوں کاساتھی ہے۔ان قاتلوں کوسیاسی،مذہبی اوراخلاقی طورپر سپورٹ کرنےوالا اسلام اوروطن کادشمن وغدارہے۔پوری قوم صدر،وزیراعظم اورآرمی چیف سےسوال پوچھتی ہےکہ آپ لوگ کب تک ہمارےبہتےہوئےخون کودیکھ کرصرف مذمتی بیانات پراکتفااوراگلےسانحہ کاانتظارکریں گے؟

حال ہی میں کوئٹہ میں تین شیعہ شخصیات کوٹارگٹ کیاگیا۔یعنی تکفیریوں کاسب سےآسان ٹارگٹ شیعہ ہے۔یادرکھئے!اگرشیعہ جوان بھی اسی راہ پرچل پڑےجسےضیاءالحق کےدورکے دہشت گردوں اوران کی باقیات نےاپنائےرکھاہےتوپھراس ملک میں امن نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہےگی۔ہم سب کی ذمہ داری ہےکہ دہشت گردی،بربریت اورحیوانیت کوروکیں اورریاست اورعدالتیں بھی اپناکرداراداکریں۔اس وقت بھی جیلوں کےاندرسزائےموت پانےوالےبہت سےایسےقیدی موجود ہیں جن کاتعلق لشکرجھنگوی اورسپاہ صحابہ سےتھااورجوقتلِ عام کےمرتکب ہوئے۔ ان کی سزاپراب تک عملدرآمدنہیں ہوا۔بنوں اورڈی آئی خان جیلوں سے ریاست کےسائےمیں سینکڑوں خونخواردرندے دیواریں پھاندکرچلےگئےاورجاتےجاتےشیعہ قیدیوں کےگلےبھی کاٹے۔ہم بھولےنہیں ہیں۔یہ واقعات انڈیایاامریکہ نےنہیں کیےبلکہ یہ واقعات ہمارےملک کےریاستی اداروں کےسائےمیں ہوئےہیں،اسلئےہم خوش فہمی کاشکارنہیں ہوسکتے۔ہمیں شدیدتکلیف ہےاورہم سانحہ پشاورپرشدیداحتجاج کرتےہیں۔قوم کی بیداری کایہی موقع ہے؛تمام لوگ بھرپورطریقےسےاپنااحتجاج ریکارڈکرائیں اوربتائیں کہ ہم قتل ہورہے ہیں لیکن حوصلہ نہیں ہارے؛آج بھی میدان میں کھڑےہیں اوران نجس عزائم کےحامل لوگوں کی راہ میں دیواربن کرآخری وقت تک کھڑےرہیں گے۔ان شاءاللہ!ہم جانتےہیں کہ یہ آخری واقعہ نہیں تھااورآئندہ بھی ہم امیدرکھتےہیں کہ شیعہ مدارس،مساجد،امام بارگاہیں اورشخصیات غیرمحفوظ رہیں گی۔حکومت اورریاستی اداروں نےقوم کواس حوالہ سےمکمل طورپرمایوس کردیاہے۔اس مایوسی سےقوم کونکالنےکاایک ہی راستہ ہےکہ دہشت گردوں کوحقیقی معنوں میں آہنی ہاتھوں سےروکاجائےاورانہیں روکنےکےلئےضروری ہےکہ ریاستی ادارےاپنی پالیسی بدلیں اوردہشت گردی کی سرپرستی کرنےوالےعناصرچاہےوہ کسی بھی شکل اورلباس میں ہوں یاان کاتعلق کسی بھی شعبہ زندگی سےہو،خواہ پگڑی پہنےہوئےہوں یاوردی ،اان کوالگ کرکےنشانہ بنانےکی ضرورت ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارت بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی ریاست کرناٹک میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی …