ہفتہ , 28 مئی 2022

صیہونی فوجیوں کے وحشیانہ حملے میں دو فلسطینی شہید

غرب اردن: صیہونی فوجیوں نے فائرنگ کرکے کم سے کم دو فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے جبکہ فلسطین کے دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کے مکانات منہدم کرنے اور تخریبی اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے منگل کی صبح غرب اردن کے علاقے مشرقی نابلس کے بلاطہ کیمپ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں فلسطینی نوجوانوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔ ان جھڑپوں میں صیہونی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں فلسطینی نوجوان نادر ہیثم ریان شہید ہوگیا جبکہ ایک اور فلسطینی انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقے رھط میں صیہونی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگیا۔

دوسری جانب صیہونی فوجیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں پر یلغار کرکے اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں سمیت کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ صیہونی حکومت اپنے توسیع پسندانہ اہداف کے حصول کے لئے تقریبا ہر روز فلسطینی علاقوں پر حملے کرتی ہے اور بےبنیاد بہانوں اور دعوؤں سے فلسطینیوں کو شہید، زخمی یا گرفتار کرکے جیلوں میں ڈل دیتی ہے۔ فلسطینی گروہوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ شہداء کا خون کبھی بھی رائیگاں نہیں جائے گا اور سرزمین فلسطین کی آزادی ، پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور مقدس مقامات کی صیہونیوں کے چنگل سے آزادی تک ملت فلسطین کے مجاہدین اور حریت پسند اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ادھرصیہونی حکومت غرب اردن کے شہر الخلیل کے جنوبی علاقے میں فلسطینیوں کے نو اسکولوں کو منہدم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق جنوبی الخلیل میں فلسطینیوں کی حامی کمیٹی کے کوارڈی نیٹر فواد العمر نے پیر کو کہا کہ شعب البطم دیہات کے پرائمری اسکول کو جس میں پچاس فلسطینی بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، صیہونی حکومت کے ہاتھوں ڈھائے جانے کا خطرہ درپیش ہے۔العمور نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت نے اس اسکول کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے آٹھ دیگر اسکولوں کومنہدم یا بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور الٹی میٹم بھی جاری کردیا ہے۔

العمور نے کہا کہ شعب البطم اسکول ان اسکولوں میں سے ایک ہے جنھیں صیہونی حکومت کے ہاتھوں منہدم کئے جانے کا خطرہ لاحق ہے اور اسے الخلیل کے ادارہ تعلیم نے صیہونی حکومت کے ہاتھوں اس علاقے کے بعض اسکولوں کو منہدم کئے جانے کے ردعمل میں قائم کیا تھا۔ مذکورہ فلسطینی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ صیہونی حکومت الخلیل میں کئی اسکولوں کو منہدم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

صیہونی حکومت کی ان انہدامی کارروائیوں کا مقصد اس علاقے کی فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد تیئیس چونتیس کے مطابق صیہونی حکومت کی جانب سے صیہونی کالونیوں کی تعمیرغیرقانونی ہے، اور اس کے باوجود صیہونی حکومت ، فلسطینیوں کے گھروں اور عمارتوں کو منہدم کرکے اور اس کی جگہ صیہونی کالونیاں تعمیر کرکے فلسطینی علاقوں کو یہودیت کا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، دہشت گرد گروہوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی نئی پابندیوں کے ردعمل میں کہا ہے …