جمعہ , 1 جولائی 2022

جارح اتحاد یمنی انسانی مسئلہ سے کاروبار کر رہا ہے: یمنی عہدیدار

صنعا: یمن کی قومی نجات حکومت میں قیدیوں کے امور کی کمیٹی کے سربراہ نے منگل کے روز جارح اتحاد پر زور دیا کہ وہ یمن کے انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دے اور اس کا معاشی استحصال نہ کرے۔

المسیرہ ٹی وی چینل نے یمن کی قومی نجات حکومت میں قیدیوں کے امور کی کمیٹی کے سربراہ "عبدالقادر المرتضی” کے مطابق، کہا ہے کہ سعودی عرب کا دعوی ہے کہ اس نے انصار اللہ کے کچھ قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک فہرست کا اعلان کیا گیا ہے جس میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ ہمارے اسیر نہیں ہیں اور ہم انہیں بالکل نہیں جانتے ہم نے اس حوالے سے ریڈ کراس کمیٹی کو آگاہ کیا تھا۔

المرتضی نے جارح اتحاد سے یمن کے انسانی مسئلے پر تجارت بند کرنے اور اسے سیاسی رنگ دینے اور نیلامی کے لیے پیش نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران، یمن کی قومی نجات حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے ذریعے قیدیوں کے تبادلے کی نئی پیشکش کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے اقوام متحدہ کو تجویز دی ہے کہ عید الفطر کی مناسبت سے دونوں فریقین کی جانب سے 200 قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے اس تجویز کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا پیش خیمہ قرار دیا اور کہا کہ ہم دوسری طرف کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں، جس کی ہمیں امید ہے کہ مثبت ہو گا۔

واضح رہے کہ یمنی قیدیوں اور نظربندوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے ایک بیان کے مطابق مستعفی حکومت اور انصار اللہ تحریک کے نمائندوں نے پہلے مرحلے میں 1,081 قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا۔

قیدیوں کا تبادلہ سوئٹزرلینڈ میں یمن انٹرا ڈائیلاگ مذاکرات کا ایک اہم موضوع ہے جہاں کوششیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں اور صرف بعض معاملات میں مقامی ثالثی کے ذریعے متعدد قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

قبل ازیں متعدد جنگی قیدیوں اور یمنی عوامی کمیٹیوں اور مستعفی اور مفرور حکومت سے وابستہ فورسز کو مقامی ثالثوں کے ذریعے کئی مراحل میں رہا کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 26 مارچ 2015 سے متحدہ عرب امارات سمیت متعدد عرب ممالک کے اتحاد کی شکل میں اور امریکہ کی مدد اور سبز روشنی اور صیہونی حکومت کی حمایت سے غریب ترین عرب ملک یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کردیئے۔

سعودی عرب کے توقعات کے برعکس، یمنی عوام کی مزاحمت نے ان کے حملوں کو شکست کا سامنا کیا اور اور سات سال کے یمنی استحکام اور سعودی سرزمین، خاص طور پر آرامکو کی تنصیب پر تکلیف دہ ضربوں کے بعد، ریاض یمنی جنگ کے دلدل سے نکلنے کی امید میں جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران میں رواں شمسی سال میں 55 ارب ڈالر برآمدات کی توقع

بیرجند، نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے اقتصادی سفارتکاری کے امور نے کہا ہے کہ گزشتہ …