ہفتہ , 28 مئی 2022

’ہر نقصان ناقابل تلافی ہے‘: امریکہ میں کورونا سے اموات 10 لاکھ سے زائد ہو گئیں

واشنگٹن: امریکہ میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اس حوالے سے ایک بیان میں سوگوار خاندانوں کے درد میں شریک ہوئے جبکہ امریکی ایوان نمائندگان نے جمعرات کو پارلیمان کے باہر وبا میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔

صدر نے ایک عالمی ورچوئل کووڈ اجلاس کی صدارت کے دوران اپنے خطاب میں کہا: ’ہر نقصان ناقابل تلافی ہے۔ ہر ایک نے اپنے پیچھے ایک خاندان، ایک برادری کو چھوڑا ہے اور ایک قوم ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔‘

صدر بائیڈن نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہوشیار رہیں کیوں کہ کیسز پھر بڑھ گئے ہیں۔

اس اجلاس کا مقصد دنیا بھر میں اس وبا پر قابو پانے اور مستقبل میں صحت کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیاری کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔

یہ اجلاس اس وقت ہو رہا تھا جب یورپ میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ امریکہ میں کانگریس میں کووڈ کی فنڈنگ کے حوالے سے قانون منظور نہیں ہو پا رہا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے کرونا وبا کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آشیش جھا نے جمعرات کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کانگریس نے مزید ویکسین اور علاج کے لیے نئی فنڈنگ کی فوری منظوری نہ دی تو اس موسم خزاں اور موسم سرما کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’امریکیوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے مدافعت کم ہو رہی ہے۔‘

پابندیاں اور بندشیں

امریکہ میں کرونا وبا کی وجہ سے پہلی موت فروری 2020 کے اوائل میں ملک کی مغربی ریاست میں ریکارڈ ہوئی تھی۔

اگلے ماہ تک یہ وائرس نیو یارک میں پھیل چکا تھا اور وائٹ ہاؤس ملک بھر میں دو لاکھ 40 ہزار اموات کی پیش گوئی کر رہا تھا۔ لیکن وہ اندازے بہت غلط ثابت ہوئے۔

نیو یارک، امریکہ میں کرونا بحران سے سخت متاثر ہونے والے ابتدائی شہر، میں 2020 کے موسم بہار میں ہسپتال اور مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہو گئی اور خالی سڑکوں پر ایمبولینس سائرن کی آواز گونجنے لگی۔

اے ایف پی کے مطابق دو سال بعد اس شہر میں زندگی بڑی حد تک معمول پر آ گئی ہے اور رہائشی وائرس کے اجتماعی صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے نیو یارک کے 40 ہزار شہری ہلاک ہوئے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکہ میں اس وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجہ نیا اومیکرون سب ویرینٹ ہے۔

یہ اضافہ ماسک پہننے کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔

امریکہ میں جب وبا پھیلنا شروع ہوئی تو اس کے ردعمل میں ابتدائی طورپر کرفیو، ماسک اور ویکسین پر نظریاتی جھگڑے سامنے آئے جس کے سبب اس ملک میں کرونا کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہوگئی اور ہسپتالوں میں گنجائش ختم اور مردہ خانے بھر گئے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سماجی فاصلے کے نفاذ میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے بار بار صحت کے اعلیٰ عہدیدار انتھونی فاؤچی کی سفارشات کو بہت سنجیدہ نہیں لیا۔ غیر مستند ادویات سے علاج ہوتا رہا اور ماسک پہننے پر سیاست کی گئی۔

تاہم ٹرمپ نے ویکسین کی تحقیق میں اربوں ڈالر ضرور لگائے اور دسمبر 2020 کے وسط تک طبی عملے کے لیے پہلی ویکسین دستیاب تھی۔

لیکن ملک کے قدامت پسند علاقوں میں ویکسین لگوانے میں سست رفتاری کی وجہ سے اموات بڑھتی رہیں۔

نیو یارک یونیورسٹی کی متعدی بیماریوں کی ماہر سیلین گونڈر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں ہم ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں نفسیاتی اور سماجی اور معاشی طور پر لوگ بڑی حد تک اس وبا سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے خبردار کیا: ’لیکن وبا ختم نہیں ہوئی۔ ویکسین نہ لگوانے والے، کم آمدنی والے افراد اور جنہوں نے انشورنس نہیں کروائی انہیں سب سے زیادہ خطرہ ہے۔‘

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …