ہفتہ , 28 مئی 2022

اراکین قومی اسمبلی کا عدم دلچسپی کا مظاہرہ، غیر حاضری سے پارلیمانی کارروائی متاثر

گزشتہ روز عدم دلچسپی اور غیر حاضری کے باعث قومی اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی، ڈپٹی اسپیکر زاہد درانی نے وفقہ سوالات مکمل ہوئے بغیر مجبوراً کورم پورا نہ ہونے کے سبب اجلاس معطل کر دیا۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) کی سائرہ بانو نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی، جس کے بعد ٹریژری کے قانون سازوں کی جانب سے غیر حاضری اور حزب اختلاف کی جانب سے سوالات کے جوابات نہ دیے جانے پر شدید احتجاج کیا۔

ڈپٹی اسپیکر زاہد درانی نے اجلاس پیر تک ملتوی کرنے سے قبل ہدایات جاری کرتے ہوئے زور دیا کہ وزراء اور وزارتوں کے سینئر حکام اجلاس کی کارروائی کے دوران اپنی حاضری یقینی بنائیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے عملے کو سرکاری حکام کی روزانہ بنیادوں پر حاضری فراہم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گزشتہ 3 سالوں کی طرز پر چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

زاہد درانی کی جانب سے یہ حکم نامہ وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی کی درخواست پر جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غیر حاضر عہدیداران کو وفقہ سوالات سے پہلے پارلیمان میں پہنچنے کے احکامات جاری کریں۔

جب جاوید عباسی وزیر مواصلات اسد محمود اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ کی جانب سے سوالات کے جوابات نہ دے سکے تو انہوں نے کہا کہ یہ وزرا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے غیر حاضر ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے جاوید عباسی کو کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں جس طرح ایوان کی بے توقیری کی گئی ہم مزید اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کے دوران سائرہ بانو نے ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ بنیادوں پر اُس وقت تک کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کرتی رہیں گی جب تک وزراء ایوان میں حاضری کو یقینی نہیں بنا لیتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی شازیہ ثوبیہ نے وقفہ سوالات کے دوران ڈپٹی اسپیکر کی توجہ وزراء کی غیر سنجیدگی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ 27 میں سے 12 سوالات کے جواب نہیں دیے گیے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح جمعرات کو بھی 29 میں سے 15 سوالات کے جوابات نہیں دیے گیے تھے۔

10 مئی سے شروع ہونے والے ایوان زیریں کے جاری اجلاس کو کورم پورا ہوئے بغیر ہی چلایا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے چھوٹے گروپ نے بھی منگل کو کورم کی نشاندہی کرکے ایوان کی کارروائی کو متاثر کیا تھا۔

اتحادی حکومت میں وزیر اعظم شہباز شریف کے حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی کا یہ پہلا باقاعدہجلاس تھا۔

اسپیکر راجا پرویز اشرف اور ڈپٹی اسپیکر کو پارلیمان کو فعال رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پی ٹی آئی کے 123 اراکین نے استعفے دے دیے تھے۔

اسپیکر نے اب تک پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں کی تصدیق کا عمل شروع نہیں کیا ہے، وہ بغیر کسی ایجنڈے کے اراکین کو اپنے من پسند مسائل پر لمبی لمبی تقرریوں کی اجازت دے کر ایوان کو چلا رہے ہیں۔

اراکین بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور فلور حاصل کرنے کے لیے کورم کی نشاندہی کرنے کی دھمکی دینے کی نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔

نئے قائد حزب اختلاف کی نامزدگی میں تاخیر سے بھی ایوان نامکمل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا: روس

امریکہ نے وسطی ایشیا کو اپنی بائیولوجیکل سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور روس …