بدھ , 6 جولائی 2022

یوم نکبہ

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایران کے ایوان صدر میں فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حامی کمیٹی نے یوم نکبت کو فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کی یادآوری کا دن قرار دیا ہے۔ جارح صیہونیوں نے چودہ مئی سن انیس سو اڑتالیس کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرکے علاقے میں ظلم و زیادتی، جرم و جارحیت اور بدامنی و عدم استحکام کی بنیاد رکھی اور اسی بنا پر اس تاریخ کو یوم نکبت سے موسوم کیا گیا۔ ایران کے ایوان صدر میں فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حامی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوم نکبت ایک ایسا روز ہے کہ جس دن صیہونی دشمنوں نے بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر اور ان کے لئے مسائل و مشکلات پیدا کرکے نیز ان کے شہروں اور علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کرکے اور اسی طرح فلسطینی و اسلامی تشخص ختم کرنے کی کوششوں کے تحت اپنے ناجائز وجود کا اعلان کیا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی و خود ساختہ جعلی غاصب صیہونی حکومت فلسطینی قوم کے حقوق کی پامالی اور فلسطینی عوام پر بے تحاشہ ظلم و زیادتی نیز انہیں ان کے آبائی وطن سے دربدر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ایران کے ایوان صدر میں فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حامی کمیٹی نے کہا کہ اگرچہ یوم نکبت فلسطینیوں کے رنج و آلام کی یادآوری کا دن ہے، تاہم ہر سال فلسطینی عوام اور دنیا کے حریت پسند لوگ اجتماعات و احتجاجی مظاہرے کرکے پوری دنیا پر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ فلسطینی قوم کے پامال شدہ حقوق کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجرم و غاصب صیہونی، اپنے ناپاک و شرمناک مقاصد کے حصول کے لئے تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصول کو پامال کر رہے ہیں اور وہ اس راہ میں کسی بھی طرح کے جرائم کے ارتکاب سے گریز نہیں کرتے اور حال ہی میں انھوں نے الجزیرہ کی فلسطینی نامہ نگار شیرین ابو عاقلہ کو جارحیت کا نشانہ بنا کر شہید کرکے پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ غاصب صیہونیوں کے لئے انسانیت و بین الاقوامی قوانین، کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 15 مئی فلسطینیوں کے لیے مصائب کا دن اور صیہونیوں کے لیے اس جعلی حکومت کے قیام کا دن ہے۔ یہ دن صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی علامت ہے۔ نکبہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے آفت، مصیبت۔ فلسطینی عموماً مقبوضہ علاقوں پر قبضے کے بعد پیش آنے والے تباہ کن واقعات کو بیان کرنے کے لیے آفت، مصیبت اور مصائب کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ 15 مئی 1948ء کو فلسطین کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جسے یوم نکبہ کہا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ دن ان کی سرزمین پر قبضے اور زمینوں پر قبضے کے تلخ دنوں کی یاد دلاتا ہے اور اسے 800,000 سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی پہلی لہر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں صیہونی حکومت نے امریکی حکومت کی مدد سے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور مشرق وسطی میں اپنی سیاسی تنہائی پر قابو پانے کے لئے چند عرب مملک سے تعلقات استوار کئے۔

ترکی کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور اسرائیلی حکام کے عرب ممالک اور ترکی کے سفارتی دورے تل ابیب کی اسی پالیسی کے مطابق ہیں۔ مقبوضہ علاقوں سمیت عرب حکام سے بھی ملاقاتیں بھی اسی تناظر میں کی گئیں ہیں۔ تاہم اس طرح کے اقدامات نے نہ صرف صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم نہیں کیا بلکہ فلسطینیوں اور صیہونیوں کے درمیان تنازعات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں، فلسطینیوں کو یقین ہوگیا ہے کہ دفاع دوسرے ممالک کی طرف سے فراہم کی جانے والی خیرات نہیں ہے، بلکہ انہیں اپنے دفاع کے لیے خود کام کرنا چاہیئے۔ درحقیقت فلسطینیوں نے اپنی پالیسیوں میں اپنی مدد آپ کے اصول کو اپنا رکھا ہے۔ فلسطینیوں کی انفرادی فدائی کارروائیاں صہیونیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں پانچ فدائی آپریشن کیے گئے، جن میں 18 صہیونی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

حالیہ ہفتوں میں فلسطینی مزاحمتی کارروائیاں زیادہ تر 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں ہوئی ہیں، جو صیہونی حکومت کی سکیورٹی فورسز کے لیے بے مثال محفوظ علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ 20 مارچ کو آپریشن "محمد ابو القیعان” میں سرد ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے چار صہیونییوں کو ہلاک کیا گیا۔ 27 مارچ کو الخضریہ قصبے میں دو صیہونی سرحدی اہلکار "ایمن اغباریہ” اور "ابراہیم اغباریہ” نامی کارروائیوں میں مارے گئے۔ 29 مارچ کو بنی بروک قصبے میں شہید ضیاء حمارشہ جو جنین کا رہائشی تھا، کی مسلح کارروائی کے دوران پانچ صیہونی مارے گئے۔ 7 اپریل 2022ء کو تل ابیب میں دیزنگف اسٹریٹ پر جنین کے رہائشی شہید رعد حازم کی مسلح کارروائی کے دوران تین صیہونی مارے گئے۔ 29 اپریل کو مغربی کنارے کے قصبے ایریل میں ایک کارروائی میں ایک صہیونی فوجی مارا گیا۔

5 مئی کو، آپریشن العاد، یا فلسطینی اصطلاح میں آپریشن المزیرعہ جو تل ابیب کے قریب ہوا، جس میں تین صیہونی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں میں کئی اسٹریٹجک نکات ہیں، جو یوم نکبہ کے 74ویں سال کے موقع پر اور بھی اہم ہو جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ان میں سے کم از کم تین آپریشن مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے عربوں نے کیے۔ صیہونی حکومت کی انتہائی متعصبانہ پالیسیوں اور مقبوضہ علاقوں میں عرب آبادی کے خلاف صیہونیوں کے پرتشدد رویے نے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے عربوں کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے اور صیہونیوں کے خلاف اقدام پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں صیہونی حکومت کی سلامتی کو اب مقبوضہ علاقوں کے باشندوں کے اندر سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

دوسری اہم بات صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروسز کی ان کارروائیوں سے نمٹنے میں ناکامی ہے، جو ایک بار پھر ثابت ہوگئی۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز ابھی تک آپریشن العاد کے مرتکب افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ بے شک تل ابیب کے قریب العاد علاقے کا فلسطینی آپریشن "المزیرعہ” صیہونی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ اس کارروائی سے صیہونی حکومت کے سکیورٹی اداروں کی اس کارروائی کو روکنے اور اس کے مرتکب افراد کو گرفتار کرنے میں ناکامی کا اظہار ایسی ناکامی ہے، جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ تیسرا اہم نکتہ ان کارروائیوں خصوصاً آپریشن العاد نے یوم نکبہ کی تاریخ کو صیہونیوں کے ماتم و سوگواری کی تاریح میں بدل دیا ہے۔ صیہونی پارلیمنٹ کنیسٹ میں یمینا دھڑے کے سربراہ نیر اورباچ نے کہا، "جس دن ہمیں فخر ہونا چاہیئے وہ بہت زیادہ درد کے ساتھ آیا ہے، بہرحال ہمیں شکست کا احساس نہیں کرنا چاہیئے۔”

چوتھا نکتہ ان کارروائیوں کی نوعیت جسے صیہونیوں کے لئے روکنا بہت مشکل ہوگیا ہے، اس سے صہیونی حلقے کا امن تباہ ہوگیا ہے۔ صہیونی وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے بھی کہا کہ ان کارروائیوں کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مختصر لمحے میں صہیونی برادری کے امن کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ان کارروائیوں سے مقبوضہ علاقوں سے الٹی ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا ہے، کیونکہ صہیونیوں کے پرانے زخم مقبوضہ علاقوں میں دوبارہ منہ کھولنے لگے ہیں۔ بہرحال اس سال کے یوم نکبہ پر کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین کے منظر نامے میں حالیہ واقعات ایک امید افزا مستقبل کی منظر کشی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تمام عالم اسلام فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اس میں امام خمینی (رہ) آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت اور شہیدحاج قاسم کی خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …