بدھ , 6 جولائی 2022

شیریں ابو عاقلہ اور خوفزدہ اسرائیل

تحریر: منصور جعفر

شیریں ابو عاقلہ مقبوضہ بیت المقدس لوٹ آئیں۔ یہ جگہ ہمیشہ ان کے دل کے قریب رہی۔ اس مرتبہ وہ قابض حکام کے تشدد کو شکست دے کر فلسطین کے پرچم میں لپٹی سرزمین کے اصل وارثوں کے کندھوں پر سوار ہو کر آئیں۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے ۔۔۔۔ اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

ان کا سفر آخرت عام جنازہ نہیں، بلکہ عدیم النظیر سیاسی مظاہرہ تھا جس میں فلسطینیوں کا بلند آہنگ عزم ان نعروں کی صورت دنیا کے سامنے آشکار ہو رہا تھا کہ ’القدس عرب فلسطینی سرزمین ہے، اس میں اجنبی صہیونیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘

تنازعات اور وار زون میں میڈیا کوریج سے متعلق الجزیرہ ٹی وی چینل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تربیتی پروگرام میں شرکت کے موقع پر شریں ابو عاقلہ سے ایک ٹرینر نے سوال کیا کہ ’گولی کہاں سے آتی ہے؟‘

اس سوال کا جواب ان سے بہتر کوئی اور نہیں دے سکتا تھا کیوں کہ القدس کی اصل باسی ابو عاقلہ کے لیے جنگی قوانین اور مسلح تنازعات کے علاقے سے میڈیا کوریج کوئی انہونی بات نہ تھی۔ وہ وار زون رپورٹنگ کے شعبے کا عبقری نام تھیں۔

انہوں نے ٹریننگ ورکشاپ میں اصول اور اس کے عملی اطلاق کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’اصول تو کہتا ہے کہ متحارب فوج کیمرہ اور بندوق اٹھانے والے کے درمیان تفریق کرتی ہے۔‘

تاہم انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں نے وار زون میں رپورٹنگ کے دوران دیکھا ہے کہ اسرائیل نے کیمرہ تھامے شخص کی آنکھ میں گولی ماری ۔۔۔ ایسی ہی کوریج کرنے والے ایک اور صحافی کے دل میں گولی اتار کر اسے قتل کر دیا۔‘

شیریں صحافت کے میدان میں ہر وقت موجود رہتیں۔ وہ ان تمام واقعات میں خود موجود رہتیں جن میں اسرائیلی قابض فوج زمین پر قبضے کرتی، گھروں پر قبضے کرتی اور انہیں تباہ کرتی نظر آتی، مقبوضہ مغربی کنارے میں جگہ جگہ سیاہ اور سرمئی دیواریں کھڑی کرتی، فوجی چیک پوائنٹس پر فلسطینی ہجوم کو سامنے لاتیں جو ان رکاوٹوں پر احتجاج کرتے تھے۔

شیرین ابو عاقلہ ان بے شمار واقعات کی براہ راست رپورٹ کرتیں جن میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کو قتل ہوتے دکھایا جاتا۔

ہر عمر اور ہر طرح کے فلسطینی بری طرح نشانہ بن رہے ہوتے۔ پھر وہ ان ہی مقتولین کی طرح خود بھی ’مقتولہ‘ بنا دی گئیں۔

قابض فوج نے نہایت بے دردی اور سنگینی سے شیرین ابو عاقلہ کو بھی گولی کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہ 11 مئی بدھ کا دن تھا اور دن کو طلوع ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا۔

شیرین ابو عاقلہ ایک حقیقت، ایک سچائی کو پیش کرتی تھیں۔ قابض افواج کارروائیاں کرتی۔ انہوں نے اپنے ابلاغی کام کے ذریعے دنیا کو بار بار سب کچھ دکھایا۔ اس کام سے ظاہر ہوتا رہا کہ وہ کیا کچھ ہے جو اسرائیلی افواج کرتی پھرتی ہے۔

مشرقی وسطیٰ کے امن کے عمل کے سائے میں جو کچھ ہوتا ہے اور جس کے بار بار وعدے عالمی برادری کرتی ہے کہ امریکہ اور یورپ ایک آزاد عالمی برادری کرتی ہے کہ امریکہ اور یورپ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

اس بہادر خاتون نے اپنے کام سے دنیا کو دکھایا کہ فلسطینی زندگی کس بری طرح سے برباد کی جا رہی ہے، جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

وہ ان واقعات کو پیش کرتیں اور مغربی کنارے میں تمام کارروائیوں اور حملوں کو بیان کرتی رہیں جو مغربی کنارے میں دور ونزدیک فوج کر رہی ہوتی تھی۔

وہ یہ بھی بیان کرتیں کہ بری طرح فلسطینیوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو ان کے گھروں سے نکالا جاتا ہے اور یہودی آباد کار انہی گھروں میں آباد کیے جاتے۔

وہ دنیا کو دکھاتیں کہ کس طرح سے فلسطینی علی الصبح گرفتار کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل محض دیہات تک محدود نہ رہتا بلکہ شہروں میں بھی کھلے عام یہ سب ظلم روزانہ کی بنیاد پر روا رکھا جاتا ہے۔

شیرین ابو عاقلہ نے کئی بار ان فلسطینیوں کی فہرستیں بھی پیش کیں جو صہیونی قابض فوج نے قتل کر دیے تھے۔ ان میں بہت سے وہ بھی تھے جو راہ چلتے سڑکوں کے کنارے مار دیے گئے تھے۔

یہ سب عام شہری تھے۔ کہا جاتا کہ یہ اسی قابل تھے ورنہ فوجی تو بے گناہ ہیں۔ ان میں بہت سے بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔

آنجہانی کی صحافتی کامیابیاں واقعی حیران کن ہیں۔ وہ پورے 25 سال صحافت کے میدان میں سرگرم رہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کا حجم بھی اتنے ہی گنا بڑھتا رہا ہے۔ کئی اعتبار سے یہ دوگنا بھی ہوا ہے۔ اس دوران میں عالمی برادری محض وعدے ہی کرتی رہی ہے۔ وہ مذمت سے کبھی آگے بڑھ ہی نہیں سکی۔

قابض افواج نے ایک سیاہ اور گرے دیوار عملی طور پر مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں کے گرد کھینچ دی ہے۔ بڑی تعداد میں فوجی چیک پوائنٹس قائم کیےے گئے ہیں۔

بہت بڑی تعداد میں کراسنگ پوائنٹس بنا کر مقبوضہ مغربی کنارے میں جگہ جگہ جیلیں بنا دی گئی ہیں۔ ان چیک پوائنٹس کے دوسری طرف یہودی آبادکاروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔ شہروں اور دیہات میں کوئی تفریق اس معاملے میں نظر نہیں آتی۔

شیرین ابو عاقلہ کی فیلڈ رپورٹس یہ سب کچھ بیان کرتی رہی ہیں۔ ان سے صاف ظاہر ہوتا رہا کہ ان علاقوں میں نسل پرست ماحول قائم ہے۔ فلسطینی آبادی کو ہر طرح کی محرومی دی جاتی ہے، زندگی کو محرومی کی علامت بنایا جاتا ہے، ان کے گھر بنانے پر پابندی ہے، بچوں کی تعلیم وتربیت کے مواقع ہتھیائے جا رہے ہیں، کام پر جانے سے روکا جاتا ہے، وسائل چھین لیے جاتے ہیں۔

یہودی آبادکاروں کے جتھے فلسطینیوں پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں، ان کی زمین کا کنٹرول سنبھالتے ہیں، گھروں کو لوٹ لیتے ہیں، فصلیں جلا دیتے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور باقاعدہ نعرے لگاتے ہیں کہ عرب مردہ باد اور اس طرح سے آبادکاروں کا سارا فلسفہ سامنے آ جاتا ہے۔

یہ سراسر فاشزم ہے اور یہ عمومی فلسطین کے خلاف سیاسی یہودی عمل ہے جو مسلسل جاری ہے۔

اسی کام کی نمائندگی ایک آبادکار کر رہا ہے جو اسرائیلی قانون ساز اسمبلی [کنیسٹ] کا رکن ایتمار بن گوویر ہے۔ وہ فلسطینیوں کو اشتعال دلانے کے لیے آئے روز کوئی مہم جوئی کرتا رہتا ہے۔

اسی نے شیرین ابو عاقلہ کے سفاکانہ قتل کی بھی کھلے عام حمایت کی ہے۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھا رہی تھیں کہ اسرائیل نے ظلم کا کیسا بازار گرم کر رکھا ہے۔

شیرین نے بالکل درست محسوس کر لیا تھا کہ قابض اسرائیل کو میڈیا سے خاص مسئلہ ہے۔ انہوں نے سابقہ بیانات میں کھل کر واضح کر دیا تھا۔ قابض فوج اور یہودی آبادکاروں کا حقیقی کردار کیا ہے۔

انہوں نے اپنے صحافتی کام کے آخر میں ان صحافیوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا ہے جو قابض فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اس فوج نے اس بے باک خاتون کو الجزیرہ سے چھین لیا ہے۔

یہ بے رحمانہ قتل اس حقیقت کی تصدیق کر رہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی انگلیاں ٹریگر پر رہتی ہیں، وہ ظاہر کر رہا ہے کہ کسی بھی فلسطینی زندگی کی کوئی قدر قیمت نہیں ہے۔ ان فوجیوں کی پشت پر ایسی حکومت موجود رہتی ہے جو ان کے ہر جرائم کا جواز فراہم کرتی ہے۔

اس قتل نے اس واقعے کی یاد پھر تازہ کر دی ہے جو غزہ کے الجلا ٹاور پر قابض جنگی طیاروں کی بلاجواز بمباری سے تباہ ہوا تھا۔

غزہ میں دنیا کی نظروں کے سامنے صحافت کے اس ٹاور کو تباہ کر دیا گیا تھا جہاں ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ یہیں بہت سی بین الاقوامی نیوز ایجنسیز کے دفاتر تھے۔

میدان جنگ سے رپورٹنگ کرنے والی شرین ابو عاقلہ کو یہ بھی علم تھا کہ دنیا کو حقیقت سے آگاہ کرنے والی صحافیہ کے طور پر اسرائیل ان کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں رکھے گا۔

قابض حکام کو اگر ایک لمحہ کے لیے بھی شک ہو جائے کہ میڈیا سے وابستہ شخص صحافتی فریضے سے بڑھ کر کچھ کرنے جا رہا ہے تو وہ لمحے بھر کے لیے رحم نہیں کھائیں گے۔

اسی لیے وار زون رپورٹنگ کی تربیت کے دوران انہوں نے معلومات کی خاطر نمائش پر رکھے گئے کسی بھی ہتھیار کو ہاتھ تک لگانا گوارا نہیں کیا جس کا نشانہ روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی عوام بنتے ہیں۔

شیرین کی اس کمال درجہ احیتاط کا منبع وہ خطرات تھے کہ جن کا سامنا فلسطینیوں کو روزانہ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رکھا تھا کہ اسرائیل جدید ترین جاسوسی آلات کو بروئے کار لا کر وطن لوٹنے والے فلسطینیوں کے جسموں کا فرانزک کرتا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کہیں بیرون ملک قیام کے دوران وہ فوجی تربیب لے کر تو نہیں لوٹے۔

اتحادی ملکوں سے ملنے والی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ وطن لوٹنے والا فلسطینی کہیں گولا بارود چھو کر تو نہیں آیا۔ ایسے محروم اور مقہور فلسطینیوں کی مشکلات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والی صحافیہ کو کیسے معافی مل سکتی تھی؟

کیمرے اور رپورٹنگ کے توسط سے وہ جس مبنی برحق عوامی ایشو سے متعارف ہوئیں، تادم مرگ اسی کی دھجیاں بکھیرنے والے اسرائیل کو بے نقاب کرتی رہیں۔

رمضان کے دوران القدس اور الاقصیٰ میں اسرائیل کا ظلم اپنے بام عروج پر تھا۔ شیریں اسے بے نقاب کرنے کے لیے انتہائی باوقار انداز میں کھڑی رہیں۔

انہوں نے اپنے پیشے کو عزت بخشی جسے شومئی قسمت اندھیر نگری، ظلم اور قابض اسرائیل کا ساتھ دینے والوں نے ناپاک کر رکھا ہے۔

شرین ابو عاقلہ نے دو مرتبہ ’اسرائیل‘ کو شکست دی۔ ایک بار ٹی وی سکرین کے ذریعے اسرائیل کے جرائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے اور دوسری مرتبہ ہمیشہ کے لیے القدس لوٹ کر جہاں تدفین کی خواہش دل میں لیے یاسر عرفات اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …