بدھ , 6 جولائی 2022

شہباز حکومت کے بڑے مخمصے

تحریر: امتیاز عالم

تین روز سے لندن میں ن لیگ کے قائد نواز شریف سے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے پارٹی اراکین کی مشاورت جاری ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں میں اتحادیوں کے ساتھ اتفاق رائے سے شہباز حکومت کچھ اہم اعلانات کرنے جارہی ہے۔

ان ممکنہ اہم اعلانات کا تعلق موجودہ حکومت کے چار بڑے مخمصوں سے ہے۔ اول: موجودہ حکومت کی مدت کیا ہو؟ چار ماہ، سات ماہ یا چودہ ماہ؟ لگتا یوں ہے کہ بحث چار ماہ یا چودہ ماہ کے عرصے پر ہورہی ہے۔

اگر یہ حکومت 4 ماہ رہتی ہے تو یہ عمران حکومت کے چھوڑے ہوئے معاشی و انتظامی ملبے کا بوجھ اُٹھانے سے بچ سکتی ہے، لیکن اس دوران عمرانی لہر کا غیض و غضب ایک حد تک برقرار رہے گا، البتہ تحریک انصاف کیلئے سو سے زیادہ نشستوں پہ اُمیدوار تلاش کرنا مشکل ہوگا۔

معیشت کو ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا تو امرِ مجبوری ہے، البتہ اس کا بوجھ نگران حکومت کے سر منڈھا جاسکتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے یا چودہ ماہ کی حکومت کی صورت میں، معاشی دیوالیہ پن سے بچ نکلنے کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور عوام پر بجٹ خسارے کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ ڈالنا پڑے گا۔

ایسی صورت میں مہنگائی کی نئی لہر عمران خان کو کافی بارود فراہم کرسکتی ہےلیکن انتہائی عمدہ کارکردگی اور متوازن فیصلوں سے معاشی حالات استحکام کی طرف جانا شروع ہوسکتے ہیں اور اگلے سے اگلے بجٹ میں عوام کو تسلی دینے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔لیکن سیاسی طوفان ایسا ہے جس میں عمران خان آئے روز طرح طرح کے آتشی مادے میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ اٹک کے بعد مردان کے جلسے میں تو انہوں نے اپنے خلاف امریکی سازش کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری بھی سلامتی کے اداروں پہ ڈال دی ہے۔

ان کے بقول سابقہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے ذریعہ یہ پیغام متعلقہ اداروں کو بھجوادیا گیا تھا کہ حکومتی تبدیلی سے معیشت زمین پہ آن گرے گی، لیکن حکومت کی تبدیلی کی سازش کو نہ روکا گیا۔ گویا مقتدرہ کی ’’غیر جانبداری‘‘ دراصل امریکی سازش کی کامیابی کی ضامن بنی۔

عمران خان اب 20 مئی کو اسلام آباد کو یرغمال بنانے کا اعلان کرنے جارہے ہیں اور وہ تب تک وہاں دھرنا یا قبضہ برقرار رکھیں گے جب تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان، چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی، نئے الیکشن کمیشن کا قیام اور موجودہ حکومت برطرف کر کے عبوری حکومت کا اعلان نہیں ہوجاتا۔

حکومت سمیت تمام ادارے عمران خان کی جارحانہ حکمت عملی کے سامنے پچھلے قدموں پہ ہٹنے کو اس لیے مجبور ہیں کہ معیشت آخری سانسوں پر ہے۔ لہٰذا جو لوگ 14 ماہ کی حکومت کے مدعی ہیں، انہیں پیچھے ہٹنا ہوگا۔

حکومتی عرصہ چار یا سات ماہ سے آگے جائے گا تو پانی سر سے گزر سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کا عرصہ چار یا سات ماہ تک محدود کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا فی الفور اعلان کرنا ہوگا۔ انتخابات نومبر میں ہوں یا اگلے برس مارچ میں، اس سے بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن مسئلے کا حل یہی ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے۔

دوسرا بڑا مخمصہ یہ ہے کہ مالیاتی دیوالیہ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کیا جائے یا نیا معاہدہ کیا جائے۔ لیکن شرائط تو آئی ایم ایف ہی کی ہونی ہیں اور قومی خود مختاری کا علم بلند کرنے والے کپتان نے آئی ایم ایف سے بدترین شرائط پر معاہدے کیے، توڑے اور بد سے بدترین شرائط پر انگوٹھے لگائے۔ اب یہ معاہدے موجودہ حکومت کے گلے پڑگئے ہیں۔

افراطِ زر، روپے کی تیزی سے گرتی قدر، ناقابل برداشت بیرونی و اندرونی خساروں اور قرضوں کا دیو ہیکل بوجھ گزشتہ تین حکومتوں اور عمران حکومت ہی کی دین ہے۔ مختصر مدت (4ماہ) کی صورت میں نرم معاہدہ کیا جاسکتا ہے اور کڑوے فیصلوں کا بوجھ عبوری حکومت کو منتقل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ آئی ایم ایف اس پر تیار ہو۔

سات ماہ کی مدت کی صورت میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ البتہ اس بوجھ کو تین چار سال کی مدت کے اضافے کے ساتھ قسطوں میں بانٹ کر غیر مقبول فیصلوں کو چند ماہ کے لیے ٹالا جاسکتا ہے لیکن اگلی حکومت کو یہ Catch-22 کی مشکل سے دوچار کرتے ہوئے۔

عمران خان اگر سیاسی حل پہ راضی ہوئے تو دراصل وہ پاکستانی معیشت پہ ایٹم بم گرانے کے ذمہ دار ہوں گے لیکن موجودہ حکومت سے ان کی نفرت اتنی شدید ہے کہ انہوں نے اس حکومت کے قیام کو ایٹم بم گرنے سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے۔ پھر سیاسی سمجھوتہ کیسے ہوگا؟

تیسرا بڑا مخمصہ شہباز حکومت اور اگلی منتخب حکومت کا جو ہوگا اس کے حل سے پاکستان کے مستقبل کا تعین ہوگا۔ بحران کی اصل جڑ مالی یا مالیاتی خسارے میں نہیں بلکہ ایک نحیف و دست نگر معیشت کی بودی بنیاد پر ایک لحیم شحیم ریاست کے بالائی ڈھانچے کا بوجھ ہے اور امرا کا چہار سو قبضہ ہے۔

پاپولسٹ عمران خان تو اسٹیٹس کو کو بدلنے کی محض نعرے بازی کرتے رہے۔ اصل تبدیلی یہی ہے کہ امرا کا ہر جانب قبضہ ختم کیا جائے اور معیشت کو پائیدار بنیاد پر ترقی دیتے ہوئے، عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور بھاری بھرکم ریاست کا بوجھ نحیف معاشی بنیاد پر اتنا ہلکا کیا جائے جو یہ سہار سکے۔

یہ تو سیدھا سادہ حل ہوا تو پھر مخمصہ کیوں ہے؟ اس کا تعلق معیشت سے نہیں سیاسی معیشت اور مملکت کے طاقتی ڈھانچے سے ہے جس سے طاقتور ادارے اور امرا دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

یہ چھوٹی موٹی اور بڑی کرپشن ختم کرنے کا معاملہ نہیں۔ سماجی کایا پلٹ کا سوال ہے جسے ہماری تینوں حکمران جماعتیں اپنے طبقاتی کردار کے وصف حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ موجودہ حکومت بھی زیادہ سے زیادہ عمران حکومت سے بہتر لیپا پوتی کرپائے گی لیکن بحران کا منبع اپنی جگہ برقرار رہے گا۔

چوتھا مخمصہ یہ ہے کہ ایک قلیل مدت مخلوط حکومت کا سامنا ایک بڑے خوفناک بحران سے ہے۔ جسے یہ حل کرنا چاہے گی تو سیاسی خود کشی کرے گی اور ٹالے گی تو اگلی حکومت کو بڑی مصیبت سے دوچار کرے گی۔

کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں، میثاق جمہوریت نو، میثاق معیشت، میثاق سول ملٹری تعلقات اور میثاق علاقائی تعاون و امن کا اعلان کریں اور سارک کو معاشی یونین بنانے کی جانب قدم بڑھائے۔

انتخابی اصلاحات کریں اور منصفانہ انتخابات کی راہ ہموار کر کے عوام کو فیصلہ کرنے کا حق دیں۔ جس کے لیے انتخابی اصلاحات اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان اولین شرط ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ فوج سیاست سے الگ اور غیر جانبدار رہنے پہ بضد ہے۔ اندھے کو کیا چاہے، بس دو آنکھیں۔ کیا سیاستدانوں کے پاس دو آنکھیں ہیں؟

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …