اتوار , 25 ستمبر 2022

پاکستان میں لگژری اشیا اور گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کیوں لگائی گئی اور اس کا کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان میں وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے جن میں لگژریآئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فونکےعلاوہ بھی چند دوسری چیزیں شامل ہیں۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز لیا گیا تھا جس کا باضابطہ اعلا ن وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

حکومت کی جانب سے ان اشیا کی ایک فہرست بھی جاری کی گئی ہے جن کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فہرست کے مطابق جیم اور جیولری، لیدر، چاکلیٹ اور جوسز، سگریٹ کی درآمد پر پابندی کے ساتھ ساتھ ہی امپورٹڈ کنفیکشنری، کراکری کی امپورٹ فرنیچر، فش اور فروزن فوڈ کی امپورٹ، ڈرائی فروٹ میک اپ کی، ٹشو پیپرز کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کا تجارتی خسارہ زیادہ درآمدات کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے اور شہباز شریف حکومت پر معاشی فیصلوں کا دباو بڑھتا جا رہا تھا۔

اس مالی سال کے پہلے دس ماہ میں تجارتی خسارہ لگ بھگ چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستانی روپیہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں ملکی تاریخ کی نچلی سطح پر موجود ہے اور جمعرات کو ایک ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی حد کو عبور کر گیا۔

حکومت کی جانب مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی سے تجارتی خسارے کو کم کر کے روپیہ کو مستحکم کرنے کی کوشسش کی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کے مطابق درآمدات پر پابندی سے چھ ارب ڈالر کی کم درآمدات ملک میں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کے بعد کہا کہ اس فیصلے سے ملک کے زرمبادلہ کو بچایا جا سکے گا جو درآمدات پر خرچ ہو رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم خرچ کم کریں گے اور معاشی طور پر مضبوط لوگوں کو اس کوشش میں آگے بڑھنا ہو گا تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کو اس بوجھ سے کم نقصان ہو جو گزشتہ حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ملک پر پڑا۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے،اختلافات کا خاتمہ ہونا چاہیے: مقتدیٰ صدر

بغداد:عراق کے مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدی صدر نے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے ، جنگ …