بدھ , 6 جولائی 2022

موبائل گیم؛ ایک نئی آفت جو بستیوں کو اجاڑ دے گی

تحریر: فدا حسین بالہامی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اگر موجودہ وقت میں کسی چیز کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہو رہا ہے تو وہ یقینا موبائل فون ہی ہے۔ موبائیل فون کے سوئے استفادہ میں ڈیجیٹل گیمز کو کھیلنے کی لت بھی شامل ہے کہ جس کا گراف کافی زیادہ بڑھ گیا ہے اور دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ آج کل نوجوان اور بچے حتیٰ کہ عمر رسیدہ افراد بھی اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ مختلف موبائیل گیمز میں صرف کرتے ہیں۔ موبائیل گیم کے جسمانی اعتبار سے مضر اثرات تو نمایاں ہیں ہی ،اس کے نفسیاتی اثرات بہت ہی تباہ کن ہیں۔ چند ایک گیموں کو گویا اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہے کہ نئی نسل کو مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کیا جائے۔ اس معاملے میں موبائیل گیمز نہایت ہی کارگر ہیں۔فی الوقت موبائل گیم ایک قسم کی لت بن گئی ہے اگر ہم اپنے ہی معاشرے کو کھنگالیں تو بہت سے بچے ، نوجوان اور بڑے بوڑھے اس لت میں لت پت نظر آئیں گے۔ یہ ڈیجیٹل نشہ دیگر نشہ آور اشیاءسے کچھ کم نہیں ہے۔ دیگر نشوں کے مقابلے میں بسا اوقات یہ نشہ نہایت ہی ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اس نشہ کے عادی افرادکے لئے کھانے پینے والی نشہ آور اشیاءکے عادی افراد کی بہ نسبت اپنی مرغوب چیز بآسانی دستیاب ہے۔ اسے نہ کسی شرابی یا افیون زدہ شخص کی طرح بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی سماج کی نظروں سے بچ بچا کر اپنی مطلوبہ شے کو حاصل کرنے کے لئے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ نشہ ہے کہ جس کی نہایت ہی کم خرچے پر ہوم ڈیلیوری{Home delivery}کی سہولت بھی مہیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کی روک تھام کا کسی بھی سطح پر اہتمام نہیں کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہو کہ اس بری لت کو نشہ کہنا کئی ایک افراد علی الخصوص اس لت میں مغلوب افراد پر گراں گزرے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جو چیز انسان کی سدھ بدھ پر ڈاکہ ڈالے اور اسے اپنے آپ اوردنیا ومافیھا سے بالکل بے خبر کرے ۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ناکارہ کردے یا اسے بدمست اور بے ہوش کردے ۔تو اسے نشہ آور چیزوں کی فہرست میں شامل کرنے سے کون سی منطق مانع ہے؟ مثال کے طور پر شراب ،چرس گانجا اور افیوں کے استعمال سے انسان متذکرہ بالا کیفیات سے دو چار ہو جاتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ موبائیل گیم بھی اگر ایک فرد کو ان ہی جیسی کیفیات سے دوچار کر دے تو اسے نشہ کہنے میں کیا حرج ہے۔
عالمی سطح پر اس طرح کی گیمزکا تشویش ناک حد تک چلن ہے۔نیز اس کے مضر رساں گوناگوں اثرات کا انسانی معاشروں پر اس قدر غلبہ ہے کہ بہت جلد یہ ایک وبا کی صورت اختیار کر جائے گی۔ چند ایک گیمز کی ہئیت اور طریقہ کار بچوں اورنوجوانوں میں جنگجویانہ ذہنیت کو ابھارنے اور تخریبی عناصر کو بیدار کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کر رہاہے۔ ان گیمز میں پپ جی ، فری فائر ، ہوپ لیس (Hope less) ،شیڈو فائٹ (SHADOW FIGHT)ان ٹو دا ڈیڈ (IN TO THE DEAD) ایس فالٹ ریسنگ گیم (ASPHALT RACING GAME)وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس طرح کی گیمز سے ہمارے بچے اور نوجواں کافی زیادہ مانوس ہیں۔یہ موبائیل گیمز ایک شخص کو گھنٹوں تک اپنے حال و احوال اور پاس پڑوس سے لا تعلق بناکر ایک ایسی فرضی دنیا کی جانب روانہ کر دیتی ہیں جہاں سے اس کا واپس لوٹنا محال ہو تا ہے۔ اور وہاں ایک فرضی جنگ کے چکر میں اپنی بقا اور زندگی کی جنگ کو نظر انداز کر دینا ایک بدیہی امرہے۔ مذکورہ گیموں میں بچے اور نوجوان اکثر خود کلامی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور مرنے اور مارنے کے الفاظ جیسے بلا ارادہ ان کے منہ سے ادا ہوتے ہیں۔ اس قماش کے بچوں اور نو جوانوں کے والدین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ہمارے بچے رات بھر نہیں سو تے بلکہ موبائیل فون پر لگے رہتے ہیں۔ ذرا سوچئے جو چیز ایک بچے یا نوجوان کی پر از خواب آنکھوں سے نیند بھی اڑا لے جائے وہ کس قدر بلا خیز ہوگی۔
نفیساتی مریضوں کے گراف میں جو روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کا ایک طاقتور عامل موبائیل گیم بھی ہے۔ چنانچہ ویڈیو گیم جہاں بہت سی جسمانی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے وہاں اس کے منفی اثرات اس کے عادی افراد کی نفسیات پر پڑتے ہیں کیونکہ اس میں ایک کھلاڑی ذہنی تناؤ کی کیفیت سے ضرور دوچار ہو جاتا ہے۔یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ذہنی تناؤ کا ماحول تو ان کھیلوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ جو کھلے میدان میں کھیلے جاتے ہیں۔ جنہیں عرف عام میں آوٹ ڈور گیمز(out door games) کہا جاتا ہے لیکن جسمانی حرکت ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں نہایت ہی موثر ہے۔ جدید نفسیاتی علوم کے ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایک ہی حالت میں پڑے رہنے سے نفسیاتی دباؤ گہرا ہو جاتا ہے اور اسے کم کرنے کے لئے جسمانی مشقت کافی موثر ہے۔ یہی وجہ ہے ایک حدیث میں ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ غصے کو قابو کرنے کے لئے اپنی حالت اور کیفیت بدل لو ۔یعنی اگر بیٹھے ہو تو کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اور بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ذہنی تناؤ کے دوران مسلسل ایک ہی حالت میں رہنا نہایت ہی ضرر رساں ہے ۔دیکھا جائے تو کھیل کود کا مدعا و مقصد بھی جسمانی مشقت و حرکت ہے۔لیکن موبائل گیم کا سب سے پہلا وار اسی مقصد پر پڑتا ہے۔کھیل کود سے حسمانی مشقت و حرکت کو الگ کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے شہد سے مٹھاس اور سرکہ سے کھٹاس الگ کی جائے۔ظاہر سی بات ہے کہ جو شے اپنے مقصد کے بالکل برعکس استعمال ہو وہ ضرور مضر بن جاتی ہے۔
پر تشدد گیمز کے منفی اثرات نہایت ہی خطرناک ہیں اور بعض اوقات اس کی لت کا شکار شخص نہ صرف خود کشی کی حد تک جا سکتا ہے بلکہ کسی اور کا قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ چنانچہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر چھپی ایک دل دہلا دینے والی رپو ٹ اس معاملے کی سنگینی ظاہر کر رہی ہے ۔
اس رپوٹ کے مطابق ریاست کرناٹک کے بیل گاوی ضلع میں ایک اکیس سالہ لڑکے نے اپنے باپ کی گردن کاٹ کر اسے قتل کردیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس لڑکے کے باپ نے اسے موبائل پر ایک گیم ‘پب جی’ کھیلنے سے روکا تھا۔
رگھوویر کنبھر نام کے اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کو پب جی کھیلنے کی لت تھی جس سے اس کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی تھی۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اس کے والد موبائل کا ریچارج کروائیں تاکہ وہ گیم کھیل سکے۔پولیس کمشنر کے مطابق اس بات پر باپ اور بیٹے میں جھگڑا ہوا۔ لڑکے نے اپنی ماں کو کمرے سے باہر جانے کے لیے کہا اور پھر پہلے اپنے باپ کا پیر کاٹا اور پھر سر دھڑ سے جدا کر دیا۔
اسی طرح کی ایک اور خبر کے مطابق لاہور پاکستان کے رہائشی، 16 سالہ نوجوان نے ۲۰۲۰ءمیں خودکشی کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اسے آن لائن گیم کھیلنے سے منع کیا اور اس نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کر لی۔
اس نوعیت کے واقعات سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لت کس قدر ہلاکت خیز ہے اور ذہنی،جسمانی اور نفسیاتی اعتبار سے بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے لئے کتنی مضر ہے۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ مختلف نشوں میں آپسی خفیف سا تعلق ہوا کرتا ہے اس لحاظ سے جب یہ بچے اور نوجوان نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش میں کچھ مزید نشہ آور اشیاءکے عادی ہو جاتے ہیں۔انہیں اپنے آپ پر کوئی اختیار نہیں رہتا ایک نشہ اترا نہیں تو دوسرا سوار ہوا۔وہ ایک نہ ختم ہونے والے نشہ کے چکر میں الجھ کے رہ جاتے ہیں اور یوں ان کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جاتی ہے۔عالمِ مدہوشی میں زندگی کھپانے والوں کو اس وقت ہوش آجاتا ہے کہ جب وہ زندگی کی دہلیز پر موت کی دستک سنتے ہیں۔
بعض گیمز میں تو پیسہ کمانا بھی شامل کیا گیا ہے۔گویا ایک قسم کا جوا بھی ان برقی کھیلوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔اس صورت حال میں اس دہرے کھیل میں ملوث بچوں اور نوجوانوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا مرتب ہونا تو یقینی ہے۔چنانچہ بہت سے کم سن بچوں کو بھی ان کھیلوں کو کھیلنے کے ساتھ پیسے کمانے کا بھی چسکا لگا ہے۔ اس لئے یہ بات بغیر کہے ہی واضع ہے کہ جس بچے کو یہ چسکا لگ جائے اسے تعلیم کے حصول میں کیا دلچسپی رہے گی۔
یہ ویڈیو گیمز اس قدر اثر انگیز ہیں کہ ایک سلجھا ہو ا فرد بھی بعض اوقات اپنے ہدف ِ زندگی کو بھول کر اس فرضی دنیا کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے۔ راقم الحروف کی نظروں میں ایک ایسے نوجوان کی حالت ِ زار ہے جو اس وقت نفسیاتی کرب کا بری طرح شکار ہے۔ اس نوجوان کی رودار سے آگاہ ہوکر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نرم ابزار سے لیس یہ قاتل کسی خطرناک وائرس سے کم نہیں ہے۔ یہ نوجوان نہایت ہی باصلاحیت ہے، پڑھائی میں بھی اس نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ اس نے ملک کی ایک مایہ ناز یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا۔دورانِ ایم فل اسے ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کو ملا ۔ جس کا عنوان ہی پپ جی گیم اور اس کے مضر اثرات تھا۔ اس دوران اس نے خود بھی برقی کھیل کو کھیلنے کا شوق فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ اس کا عادی ہوگیا۔ اور اپنی راتوں کی نیند اور دن کا چین اسی کے نذر کر گیا۔اور دیکھتے دیکھتے نفسیاتی مریض بن گیااور اسے مجبوراً تعلیمی سرگرمیوں کو منقطع کرکے گھر لانا پڑا اور فی الوقت زیرِ علاج ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس عنوان کے تحت بہترین مقالہ لکھنے کے باوجود بھی موصوف الذکر جب اس لت کا شکار ہوا ہے تو کہاجا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی پر کشش وبائی بیماری ہے جس کی لپیٹ میں اس کا تدارک ڈھونڈنکالنے والے محقق بھی آجاتے ہیں اور کہیں کا کہیں پہنچ جاتے ہیں۔
واضح رہے پب جی اور اس جیسی دیگر ڈیجیٹل گیموںمیں ایک فرضی جنگ لڑی جاتی ہے کہ جہاں ایک لمحے کی بھی مہلت کھیلنے والے کو نہیں ملتی ہے ۔ کھانا کھانے گئے تو دشمن نے مار گرایا،آنکھ لگ گئی تو دشمن غالب آگیا،دھیان اِدھر اُدھر بٹ گیا تو دشمن حاوی ہوا۔ گویا یہ ایک فرضی جنگ ہے جس میں ایک فرضی دشمن اس کے تعاقب میں ہوتا ہے اور اسے ہر وقت ایک غیر حقیقی خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔ لیکن اعصابی تناؤ اور نفسیات پر منفی اثرات کے اعتبار سے کسی بھی طور حقیقی جنگ سے کم نہیں ہے۔اس کے علاوہ مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریاں بھی ان گیموں کے عادی شخص کو لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ جس کسی کو بھی اس فرضی جنگ کی لت لگ گئی وہ زندگی کی حقیقی رزمگاہ میں ضرور مات کھائے گا۔ کیونکہ وہ اپنا وقت اور اپنی پوری صلاحیت انہی گیموں کی نذر کر دیتا ہے۔
اعصابی بیماریوں کی نوبت تو بعض اوقات موت تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو چند سال قبل بہت وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان کی موت پر اس کے گھر والے ماتم کناں نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان پر تشدد گیمز کو کھیلتے کھیلتے اعصابی تناؤ کا شکار ہوا اور آخر کار اس بیماری نے اس کی جان لی ۔اس نوجوان کی بہن رو روکر کہتی دکھائی دی کہ ”میرے بھائی کے منہ سے مرتے وقت بھی عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں وہ بار بار ”مارو مارو“ کے الفاط دہرا رہا تھا۔اور اسی حالت میں جان کی بازی ہار گیا۔“ المختصر موبائل فون بذات ِ خود ایک ایسی شے ہے کہ جو ایک انسان کے لئے جتنی مفید ہے اس سے کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہے اور اس کے مضرت رساں اثرات موبائل گیم سے دوآتشہ ہو جاتے ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …