بدھ , 6 جولائی 2022

امریکیوں نے دوبارہ وعدہ خلافی کی: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران محض مذاکرات کے لیے مذاکرات کو قبول نہیں کرتا ۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے سربراہ وحید جلال زادہ نے اتوار کو ویانا مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کی شرکت سے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے کمیشن کے اجلاس سے متعلق صحافیوں کو وضاحتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے آغاز سے قبل مذاکرات میں ایک وقفہ آیا اور امریکیوں نے دوبارہ وعدہ خلافی کی اور مذاکرات میں جو طے گیا تھا ان سے منہ موڑ لیا، چنانچہ مذاکرات کی سابقہ ​​شکل ختم کر دی گئی اور پھر فریقین ویانا سے اپنے اپنے درالحکومتوں کو روانہ ہوگئے۔

وحید جلال زادہ نے مزید کہا کہ اس کے بعد یورپی یونین کے سینئر مذاکرات کار نے دو بار ایران کا دورہ کیا اور ویانا کے مذاکرات کاروں سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے ہمارے حکام سے کئی بار ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ صرف مذاکرات کے لیے مذاکرات کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی ان مذاکرات کے عمل کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ ہم ویانا مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ دیانتداری سے کام کیا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے اور اب یہ امریکی فریق کی باری ہے کہ وہ ایمانداری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرے اور جوہری معاہدے سے یکطرفہ انخلاء کے بعد اسلامی ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے

یہ بھی دیکھیں

ایران اور بھارت کا چابہار بندرگاہ کی ترقی پر زور

نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے چابہار بندرگاہ کی ترقی اور بھارت کے …