جمعہ , 7 اکتوبر 2022

ایف بی آر کیجانب سے بیرون ملک سے اشیاء لانے پر پابندی کے حکم نامے میں تبدیلی کا امکان

ائیرپورٹس پر مسافروں کے شدید احتجاج کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او نمبر 598(1)/2022 میں تبدیلی کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق یہ ایس آر او مسافروں کیلئے خوف کی علامت بن گیا ہے ،اس کے تحت بیرون ملک سے آنے والے مسافروں پر ذاتی اور عام استعمال کی اشیاء اور تحائف لانے تک پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔

اس وقت ملک بھر کے ائیر پورٹس بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کیلئے خوف کی علامت بن گئے ہیں کیوں کہ ائیرپورٹس پرمسافروں کے سامان کی انتہائی سخت تلاشی لی جارہی ہے ۔

کسٹمز حکام کے مطابق مسافروں سے اشیاء خورد نوش ، پھل، سینیٹری کا سامان، استعمال شدہ موبائل فون اور برانڈڈ جوتے ضبط کیے گئے ہیں ۔

ادھر مسافروں کا کہنا ہے کسٹمز حکام کو ذاتی استعمال کی اشیاء اور تجارتی مقصد کیلئے لائے گئے سامان میں فرق کرنا چاہیے۔ بیرون ملک سے آتے ہوئے مسافر کچھ نہ کچھ تحائف ضرور لاتے ہیں ، کسٹم حکام بسکٹس،چاکلیٹ، پرفیوم ، موبائل فون اور شوز جیسے عام استعمال کی چیزیں تک ضبط کر رہے ہیں جبکہ مختصر مدت کیلئے آنے والے خاندان بچوں کا دودھ ، دلیا اور ڈائپر جیسا ذاتی استعمال کا سامان بھی ساتھ لاتے ہیں لیکن کسٹمز کی حالیہ کارروایوں کی وجہ سے عام مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب کسٹمز نے منگل کو ائیرپورٹس پر سامان ضبط کرنے سے متعلق اپنی کاررکردگی کی پریس ریلیز جاری کی جسے کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔

حکومت نے لگژری گاڑیوں، فونز اور دیگر اشیاء کی امپورٹ پر مکمل پابندی لگادی

تاہم رابطہ کرنے پر کسٹمز حکام کا کہنا ہے اس بات کا امکان ہے کہ مسافروں کے بیرون ملک سے سامان لانے پر پابندی سے متعلق ایس آر او تبدیل ہوجائے اس لیے پریس ریلیز واپس لے لی گئی ہے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کیلئے معاشی ایمرجنسی کی بنیاد پر لگژری غیر ملکی اشیاء کی امپورٹ پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں غربت کی شرح میں 2.5 فیصد سے 4 فیصد اضافے کا خدشہ،رپورٹ

لندن:عالمی بینک نے سیلاب سے پاکستانی معیشت کو 40 ارب ڈالر تک نقصانات کا تخمینہ …