بدھ , 6 جولائی 2022

پاکستان اور لبنان کے شیعوں کا تقابلی جاٸزہ

تحریر:محمد بشیر دولتی

انسان تو سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کوئی شیعہ ہو یا سنی، عربی ہو یا عجمی اور کالا ہو یا گورا ان میں کوئی فرق نہیں۔ ان کے حقوق، سہولیات اور زندگی گزارنے کے امکانات کو مساوی ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ہونے کے لحاظ سے تو سب برابر ہیں لیکن سارے انسان جن سیاسی، جغرافیائی، اقتصادی اور مذہبی شرائط میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں وہ شرائط مختلف ہوتی ہیں۔
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستانی شیعوں اور لبنانی شیعوں کے حالات اور شرائط میں کیا فرق ہے؟
اگر نہیں تو ابھی سوچ لیجٸے اور اس تجزیۓ پر بڑے شوق سے نقد بھی کیجٸے۔

*شیعہ اور حق حکومت*
بحیثیت مسلمان ہمارے عقیدے میں حق حکومت اور حق قانون سازی صرف خداوند عالم کو حاصل ہے۔ خدا کے قانون کو لوگوں پر نافذ کرنا رسول اور امام کی ذمہ داری ہے۔عصر غیبت میں یہ ذمہ داری کچھ خاص شراٸط کے ساتھ جامع الشراٸط فقیہ پر عاٸد ہوتی ہے۔
یہ بھی ممکن نہ ہو تو اصول تدریج کے تحت ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ اسے سمجھنے کے لٸے حزب اللہ کی کامیابیوں کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔

*جغرافیائی موازنہ*
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان لبنان سے کٸی گنا بڑا ہے زمینی اعتبار سے دیکھیں تو لبنان اسراٸیل کا پڑوسی ملک ہے جبکہ پاکستان ایران کا پڑوسی ہے۔
پاکستان اسراٸیل سے اتنا ہی دور ہے جتنا لبنان ایران سے دور ہے۔ اس کے باوجود لبنان کے شیعہ اپنی شناخت میں کامیاب اور پاکستان کے شیعہ اپنی شناخت میں ناکام کیوں ہے؟
ہاں لبنان کے شیعہ فکری طور پر متحد اور زمینی اعتبار سے ایک جگہ جمع ہیں۔ ہم فکری طور پر منتشر اور زمینی طور پر بھی منتشر ہیں۔ لبنان میں دو بڑی شیعہ تنظیمیں اور پاکستانی سیاست میں بھی دوبڑی شیعہ تنظیمیں ہیں۔
حزب اللہ و امل ایک دوسرے کے سخت دشمن رہے ہیں ۔امل ملیشیا ٕ نے حزب اللہ کے کٸی نوجوان شہید بھی کٸے ہیں۔ اب بھی یہ دونوں جماعتیں اپنے الگ الگ تشخص کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور بعد میں آپس میں اتحاد کرتی ہیں۔
اب یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہماری پاکستانی تنظیموں میں اتحاد کیوں نہیں ہوتا؟
ان وجوہات کو سمجھنے کے لٸے ہمیں شعار سے شعور تک ایک سفر کرنا پڑےگا۔

*لبنانی شعار سے شعور تک*
شعار منزل نہیں ہوتا مگر منزل تک پہنچانے کا وسیلہ ضرور ہوتا ہے۔ شعار کسی بھی گروہ یا ملت کو منزل تک لےجانے والے نعروں جملوں یا علامات کو کہا جاتا ہے۔جو قومیں شعار کو ہی ہدف بنا دیں پھر وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتیں۔ شعار قابل تطبیق و قابل عمل ہونا ضروری ہے وگرنہ شعار جتنا جاذب و پرکشش کیوں نہ ہو گروہ خوارج کے وجود میں آنے کا باعث بنتا ہے۔ جو شعار آپ کو معاشرے میں دوسروں کا زیر دست کریں یا ذمہ داریوں کی اداٸیگی سے روک دیں تو ایسے تمام شعار شعور سے خالی ہیں۔ لبنان کے شیعوں نے ہمیشہ شعور سے لبریز شعار بلند کۓ ۔ دشمن کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ کسی پرفریب نعروں میں نہیں آۓ۔ یہی وجہ ہے کہ آج استعمار کے مسلسل پروپیگنڈوں اور ڈالر و ریال کی گٹھریوں اور تھیلوں کے باوجود دشمن نامراد اور خالی ہاتھ ہیں۔ اس دفعہ پارلیمانی الیکشن میں اپنے مخصوص کوٹے کے سیٹوں پر جیتنے کے باوجود مسیحیوں کی دو سیٹیں بھی جیتنے میں کامیاب ہوٸی ہے۔
حزب اللہ شیعہ نظریاتی فکری و انقلابی تنظیم ہونے کے باوجود لبنانی عیساٸیوں اور اہل سنت گروہوں سے اتحاد کے ذریعے جمہوری الیکشن میں بھرپور حصہ لیتی ہے۔ مگر ہم آج بھی الیکشن میں حصہ لینے اور نہ لینے جاٸز ہونے اور نہ ہونے کی بحثوں میں مبتلا ہیں۔
جس بحث میں آج ہم لوگ الجھ رہے ہیں ۔جاٸز و ناجاٸز و کفر و شرک کے فتوای لگارہے ہیں حزب اللہ والے آج سے چالیس سال قبل اس بحث و فتوای بازی سے نکل چکے تھے۔
حزب اللہ کے قیام کے ڈیڑھ سال بعد جب حزب اللہ لبنانی پارلیمنٹ کے انتخاب میں شرکت کرنا چاہ رہی تھی تو بقول سید حسن نصراللہ کے شورای میں اختلاف ہوا۔ شورای کے سینٸر ممبر شیخ صبحی طفیلی جمہوری الیکشن میں شرکت کے سخت مخالف تھے۔ مخالفت میں صرف دو ووٹ تھے اکثریت حق میں تھی۔ بقول سید کے پھر بھی اختلافات سے بچنے کے لٸے جمہوری الیکشن میں شرکت کے لٸے رہبر معظم سے راٸ لینے کا فیصلہ کیا۔ رہبر کی راۓ تھی کہ الیکشن میں حصہ لیا جاۓ اس کے بعد ہم سب نے فیصلہ کرلیا کہ الیکشن میں حصہ لیا جاۓ گا۔
شیخ صبحی طفیلی نے یہ کہہ کر شورای سے استعفی دیاکہ رہبر نے الیکشن میں جانے کی اجازت دی ہے جانے کو ضروری قرار نہیں دیا ہے۔ بقول سید حسن نصراللہ کے ہم نے انہیں منانے اور ساتھ لے چلنے کی کافی کوشش کی مگر وہ اس شرکت کو حرام قرار دینے لگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ منبر سے لے کر اخبارات تک ہمارے فیصلہ جات اور سیاست پر سخت تنقید کرنے لگا۔ ہم نے کبھی صریحتا یا اشارتا بھی انہیں کوٸی جواب نہیں دیا۔
ولی فقیہ کے دست و بازو ہونے کے باوجود لبنان میں الیکشن کے دوران نماٸندہ ولی فقیہ کے نعرے کا پرچار نہیں کیاجاتا بلکہ فقط کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں الیکشن کے دوران اس نعرے کا خوب استعمال کیا جاتا ہے۔

آج لبنان میں سیاست میں حصہ لینے والوں اور سیاسی بات کرنے والوں کو کوٸی جمہوری عیساٸی یا دروزی مبلغ نہیں کہتا۔ وہاں کسی شیعہ عالم دین یا طالب علم کو نظام امامت یا ولی فقیہ کا منکر نہیں سمجھاجاتا۔
ایک عیساٸی قیدی سمیرطنطار کی رہاٸی کے لٸے تینتیس روزہ جنگ جائے تو کوٸی فتوای نہیں آیا۔
مگر یہاں پاکستان میں کسی تنظیم کا نام یا عہدہ تبدیل ہو تو تنظیمی افراد سے ذیادہ غیر تنظیمی افراد واویلا مچاتے ہیں۔
حزب اللہ والے حسب ضرورت اپنے پرانے جھنڈے سے مقاومة اسلامیہ کو حذف کرکے مقاومة لبنان رکھیں تو سب قبول کرتے ہیں پاکستان میں حسب ضرورت تنظیمی آٸین میں کوٸی تبدیلی لاٸیں تو خود نظریاتی افراد شور مچاتے ہیں۔
سعودی عرب کے ہمنوا، حزب اللہ کا دشمن حریری جب سعودی عرب سے پلٹتا ہے تو حزب اللہ لبنانی وزیر اعظم کے عنوان سے استقبال کریں تو کوٸی مشکل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں کوٸی مذہبی رہنما کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ سے ملاقات کریں تو اپنے ہی خلاف بولنا شروع کرتے ہیں۔
لبنان میں شیعہ شیعہ تنظیموں کو سپورٹ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں شیعہ مذہبی سیاسی تنظیمیں ایک دوسرے کے مقابل آجاتی ہیں۔
شیعہ حضرات شیعہ سیاسی تنظیموں کی بجاۓ غیر شیعہ وفاقی تنظیموں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ قم و نجف کے بعض علماۓ کرام و طلاب بھی الیکشن کے وقت مذہبی تنظیموں اور شخصیات کے مقابل میں دوسری سیاسی تنظیموں اور لیبرل نماٸندوں کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے لٸے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
حزب اللہ اور امل کے سپورٹرز ان تنظیموں کی طرف سے عیساٸی و دروزی تنظیموں سے اتحاد پر اعتراض نہیں کرتے مگر پاکستان میں ہماری مذہبی تنظیمیں اپنے ذاتی تشخص کے ساتھ کسی سیاسی تنظیم سے اتحاد کریں تو انہیں بھی انصافی پٹواری اور جیالا کہا جاتا ہے۔
پس ہمارے ہاں معترضین کے شعار بہت اچھے مگر شعور سے خالی ہوتے ہیں۔ شعور کا تقاضایہ ہے کہ تکفیریوں اور استعمار کے خدمت گزاروں کے لٸے میدان خالی نہ رکھیں۔حزب اللہ کا دفاعی لاٸن ہمارے لٸے نمونہ عمل نہیں لیکن ان کا سیاسی مقاومت ہمارے لٸے بہترین نمونہ عمل ہے۔ ہم دوسری بڑی اکثریت ہیں مگر ہم ہی ایک دوسرے کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ہم پاکستان میں شعور سے خالی شعار بلند کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے اہل تشیع کو بلندی کی طرف لے جانے کی بجاۓ اس کے گرد گھوم کر ہر طرف سے دھکا دےرہے ہیں۔ ہم اپنی طاقت اپنی ہی مخالفت میں ضاٸع کر رہے ہیں۔ اس لٸے ہم وہیں کے وہیں ہیں دشمن اسمبلیوں سے لے کر اعلٰی عہدوں تک براجمان ہیں۔ دشمن ہم سے سب کچھ چھیننا چاہتے ہیں ہمارے خلاف آٸین سازی کے مرحلے میں داخل ہیں۔ آٸیں اپنے شعار میں شعور بھر لیں تاکہ ہم بھی لبنانیوں کی طرح اپنی سیاسی شناخت کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کرسکیں۔

یہ بھی دیکھیں

علاقائی ملکوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے، صدر رئیسی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے علاقائی ملکوں کے ساتھ تجارتی لین …