پیر , 26 ستمبر 2022

وفاقی حکومت کی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، لارجر بینچ تشکیل

وفاقی حکومت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک بھیجا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے رد و بدل کے بعد پی ٹی آئی ورکرز نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، فائر بریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، مظاہرین نے درخت اور فائر بریگیڈ کی 2 گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور فائرنگ بھی کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سپرریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پرلارجر بینچ تشکیل دیدیا، چیئرمین تحریک انصاف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ساڑھے 11 بجے ہو گی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرے گا، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی بینچ میں شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جلسے کے شرکاء ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے اور سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا

یہ بھی دیکھیں

سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے

اسلام آباد: لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف …