بدھ , 6 جولائی 2022

شہیدہ شیریں ابوعاقلہ کی مظلومیت

تحریر: عبدالباری عطوان

انہوں نے نہ صرف شیرین ابوعاقلہ کی ٹارگٹ کلنگ کی بلکہ ان کے جنازے میں ان کے تابوت پر بھی حملہ ور ہوئے۔ اس قدر نفرت اور اتنا وحشیانہ جرم۔ کیا یہ طاقتور اور توانا انسانوں کی خصوصیت ہے؟ کیا یہ اس قسم کے افراد ہیں جن کے ساتھ اکٹھی زندگی بسر کی جا سکتی ہے؟ اور ان کی حکومت کے ساتھ امن معاہدہ انجام دیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے شہیدہ شیرین ابوعاقلہ کے گھر پر بھی حملہ کیا۔ وہاں موجود فلسطینی پرچم طاقت کے بل بوتے پر سرنگوں کیا اور محلے کے افراد کو قومی ترانے لگانے سے روک دیا۔ کیا فلسطینی پرچم لہرانا جرم ہے؟ اور حب الوطنی پر مشتمل قومی ترانے لگانا قانون کی خلاف ورزی ہے؟ کون سا قانون؟ کیا نہتے سوگواروں کو مار پیٹ کا نشانہ بنانا طاقت کی علامت ہے؟

یہ سوگوران انتہائی ہمت والے اور شجاع انسان تھے۔ انہوں نے لاٹھیوں اور لاتوں کی بارش میں شہیدہ شیرین ابوعاقلہ کا تابوت نہیں چھوڑا اور شہیدہ کی لاش کی بے حرمتی نہیں ہونے دی۔ وہ لاٹھیاں اور لاتیں کھاتے رہے لیکن تابوت سنبھال کر رکھا۔ کیا ان کا یہ عزم اور ارادہ شکست کھا چکا ہے؟ خدا کی قسم نہیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم یعنی بوریس جانسن نے اب تک غاصب صہیونی رژیم کی مذمت میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ گویا اس کا ان سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہے۔ جبکہ درحقیقت وہ ہیں جن کے ملک نے فلسطینی قوم کی مظلومیت اور غاصب صہیونی رژیم کی تشکیل میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا تھا۔ اور اس کے بعد بھی ہمیشہ اس سفاک اور نسل پرست رژیم کے ظالمانہ اقدامات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔

انصاف، مساوات اور آزادی اظہار پر یقین رکھنے کا دعوی کرنے والے ممالک جنہوں نے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کا پرچم لہرا رکھا ہے، کی جانب سے بدترین شکل میں جھوٹ بولنا، قبیح ترین انداز میں نسل پرستی کرنا اور کھلی منافقت انجام پا رہی ہے۔ کیا صہیونی دہشت گردی سے بڑھ کر اور زیادہ واضح دہشت گردی بھی پائی جاتی ہے؟ 47 صحافی دن دیہاڑے غاصب صہیونی فورسز کی گولی کا نشانہ بن کر قتل ہو جاتے ہیں اور ہم حتی سرکاری سطح پر قاتلوں کے خلاف مذمتی بیان یا غاصب صہیونی رژیم کے خلاف تادیبی کاروائی کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر میں یہ رژیم ماورائے قانون ہے اور امریکہ اور نیٹو اس کی حفاظت پر مامور ہیں جنہیں صرف مسلمانوں کو قتل کرنا آتا ہے۔

ہمارے لئے اس بات کا کوئی فرق نہیں کہ شیرین ابوعاقلہ مسلمان تھیں یا عیسائی، کیتھولک تھیں یا پروٹیسٹنٹ، وہ ہماری نظر میں قیام اور مزاحمت کی سرزمین کی بیٹی تھیں۔ وہ ایک فلسطینی تھیں جنہوں نے مزاحمت کے مورچے میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کا اسلحہ صحافت میں ان کی مہارت تھا اور زمینی حقائق کو واضح اور آشکار کرنے کیلئے قربانی دینا تھا۔ وہ عوام میں محبوب تھیں اور خود کہا کرتی تھیں: "میں گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر ہر گھر میں داخل ہو جاتی ہوں۔” فلسطین کی مقدس سرزمین ہمیشہ سے مختلف ادیان، مذاہب اور قوموں کی محفوظ پناہگاہ رہی ہے اور رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق حق اور انصاف سے ہے۔ خدا کی قسم میں اس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ شیرین عیسائی ہے جب تک اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔

میرے لئے تیس سال پرانے واقعے کی یاد تازہ ہو گئی۔ جب میرا دوست نعیم خضر پی ایل او کے نمائندے کے طور پر برسلز میں اپنے دفتر سے باہر نکلا اور صہیونی قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔ شیرین ابوعاقلہ، مزاحمت کے دارالحکومت جنین میں شہید ہوئی ہیں۔ ان کی شہادت مسلح جدوجہد کی دوسری لہر کا باعث بن جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنین شہر اور وہاں موجود مہاجرین کیمپ کے باسی اور تمام فلسطینی ان کے خون کا انتقام لیں گے۔ ہر فلسطینی اپنے انداز میں انتقام لے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے 1995ء میں یحیی عیاش کی شہادت کا انتقام لیا تھا۔ اس وقت کئی شہادت پسندانہ کاروائیاں انجام پائیں جن کے نتیجے میں نسل پرست صہیونی رژیم اور یہودی آبادکاروں کا وجود لرز اٹھا تھا اور یہ رژیم عالمی سطح پر گوشہ نشینی کا شکار ہو گئی تھی۔

ہم نہ تو عالمی سطح پر تحقیق کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ہی مذمت کرنے اور انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں مقدمہ چلائے جانے کے خواہاں ہیں۔ ہمیں اپنے اوپر، اپنی مزاحمت پر اور اپنی ماوں کی گود اور مردوں کی طاقت اور شجاع جوانوں پر اعتماد ہے۔ جی ہاں، یہ فلسطینی عوام ہیں جنہوں نے 30 سال پر مبنی زہر آلود سازباز اور امن معاہدے کے تجربے کے بعد مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ شیرین اپنی شہادت کے ذریعے سب کو پیچھے چھوڑ گئیں اور انہیں یہ فخر نصیب ہوا۔ لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جھکیں گے نہیں، خاموش نہیں بیٹھیں گے اور مورچے میں ڈٹ جائیں گے۔ ہم بزدل دشمن کی بدمعاشی سے ہر گز خوفزدہ نہیں ہوں گے اور عزت کا مقام پائیں گے۔ اسی وجہ سے خدا کے ارادے سے فتح یاب ہوں گے۔ ان شاءاللہ!

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …