بدھ , 6 جولائی 2022

زوال کا شکار امریکی اسٹریٹجیز

تحریر: ڈاکٹر جواد منصوری

جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ” پر مبنی حکمت عملی کا اعلان کیا تو اسی وقت متعدد تھیوریشنز، سیاست دانوں اور تجزیہ کاران نے اس کی ممکنہ ناکامی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ یہ سب کچھ مشترکہ نکات پر تاکید کر رہے تھے جن میں مختلف شعبوں میں ایران کی صلاحیتیں، زمینی حقائق کا غلط جائزہ، عالمی سطح پر ابھرتا ہوا ملٹی پولر نظام اور مغربی ایشیا میں زوال پذیر ہوتا امریکی اثرورسوخ وغیرہ شامل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اس مسئلے کا گہرائی میں جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی محاذ ہر پہلو سے ناکامی اور شکست کا شکار ہو رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ولید فارس، جو ایران کی مخالفت میں مشہور ہیں، نے حال ہی میں اس بارے میں اہم اعترافات کئے ہیں۔

ولید فارس کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے جو گذشتہ طویل عرصے سے ایران کے بارے میں تحقیق کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ریپبلکن پارٹی سے قریب اخبار "نیوز مکس” میں ایک کالم شائع کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: "آغاز سے اب تک ایران حکومت کے بارے میں تحقیق کی ہے جس میں 1980ء میں امریکیوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ، اسرائیل کے خلاف ایران کی پراکسی جنگ، ایران کے جوہری پروگرام میں پھیلاو وغیرہ شامل ہیں۔ میں تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کم از کم اس وقت تک ایرانی حکام فاتح قرار پائے ہیں۔ ایران نے اپنی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثرورسوخ بڑھایا ہے اور جوہری معاہدے کی بدولت مغرب میں بھی اثرورسوخ حاصل کیا ہے۔”

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم اور فعال رکن کے طور پر شامل رہا ہے۔ خود ایران بھی دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ منافقین خلق (ایم کے او) نے امریکہ کی بھرپور مدد اور حمایت کے ذریعے ایران میں 17 ہزار سے زائد انسانوں کو قتل کیا۔ سابق امریکی وزیر دفاع مائیک پومپئو نے البانیا کے دورے میں اس گروہ کی سربراہ مریم رجوی سے ملاقات کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی حمایت اب تک جاری ہے۔ علاقائی سطح پر بھی خود ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا خالق ہے۔ یہ ایسا گروہ ہے جو عراق، شام اور افغانستان میں لاکھوں بیگناہ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ لہذا امریکہ ہر گز اپنے دامن سے اس کالے دھبے کو ختم نہیں کر سکتا کہ وہ دہشت گردوں کا سرپرست ہے۔

پراکسی جنگوں کے بارے میں ایران پر جو الزام عائد کیا جاتا ہے اس کے بارے میں اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ ان کے بقول عراق، شام اور یمن میں ایران کے جو حمایت یافتہ مسلح گروہ موجود ہیں وہ تو دراصل تکفیری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان دہشت گرد عناصر کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے، امریکہ کی حکومت دراصل ایک "مافیا رژیم” ہے۔ اس رژیم نے دنیا بھر میں اپنی مخالف حکومتوں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں دباؤ کا شکار کرنے کیلئے جگہ جگہ دہشت گرد گروہ پال رکھے ہیں اور انہیں اپنے پست مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے۔ اعلی سطحی امریکی عہدیدار اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ خطے میں ایران کا اثرورسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت کئی قسم کی صلاحیتوں کا مالک بن چکا ہے۔ مزید برآں، خطے میں اسلامی مزاحمت کی بڑھتی ہوئی طاقت بھی اہم ہے۔ ان دونوں نے مل کر خطے میں امریکی اثرورسوخ کا بیڑہ غرق کر ڈالا ہے۔ امریکی حکام ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ پراکسی گروہوں کی مدد سے امریکہ کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران بیرونی جارح قوتوں کے مقابلے میں اپنا اور خطے کی اقوام کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خطے میں موجود اسلامی مزاحمتی بلاک نے ایران کی مدد سے خطے کی لوٹ مار پر مبنی امریکی اہداف و مقاصد کو خاک میں ملا دیا ہے۔ یہ اقدام حقیقت میں حب الوطنی اور اپنا دفاع کہلاتا ہے اور اسے دہشت گردی کہنا ناانصافی ہو گی۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے کہیں پہلے سے امریکہ خطے میں مداخلت اور لوٹ مار میں مصروف ہے۔

اقتصادی میدان میں بھی امریکہ کو ایران کے مقابلے میں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ ایران پر اقتصادی دباو ڈال کر مطلوبہ اہداف و مقاصد حاصل نہیں کر پایا۔ اگرچہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں نے ایرانی عوام کی زندگی مشکل کر دی ہے لیکن امریکہ ان کے ذریعے ایران کو اپنے سامنے جھکانے میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ ایران کے اندر بدامنی اور انارکی پھیلانے میں بھی ناکامی کا شکار ہوا ہے۔ بہرحال، ایران کی دفاعی اور بعض اوقات جارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں امریکہ کا مطلوبہ عالمی نظام شدید طور پر متزلزل ہو چکا ہے۔ امریکی اثرورسوخ کو شدید دھچکہ پہنچنے کے نتیجے میں اس کا اسٹریٹجک زوال شدت اختیار کر چکا ہے۔ اب نہ تو امریکہ ماضی کی طرح اقتصادی دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی فوجی حملوں کی دھمکیاں دینے کی پوزیشن میں ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …