بدھ , 6 جولائی 2022

عمران خان کا مارچ ختم

تحریر: مزمل سہروردی

عمران خان کے حقیقی آزادی مارچ کا ڈراپ سین ہوگیا۔ عمران خان نے ڈی چوک پہنچ کر اپنے احتجاجی مارچ کے یک دم خاتمے کا اعلان کر دیا اور چھ دن بعد دوبارہ آنے کا اعلان کر دیا۔ یہ سوال اہم ہے کہ جب اسلام آباد میں داخلے تک عمران خان کہہ رہے تھے کہ وہ الیکشن کی تاریخ لیے بغیر نہیں جائیں گے۔

وہ سپریم کورٹ کے ڈی چوک نہ جانے کے احکامات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے تو پھر یک دم کیا ہوا ہے کہ ڈی چوک پہنچتے ہی ایک چھوٹی سے تقریر کے بعد اپنا مارچ کیوں ختم کر دیا۔

کیوں انھوں نے اپنے پہلے منصوبے کے تحت دھرنا نہیں دیا۔ ایسا کیا ہوا کہ عمران خان کو انتخاب کی تاریخ لیے بغیر گھر واپس جانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ویسے تو حکومت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس پر لارجر بنچ بھی بنا ہے اور سماعت بھی ہوئی ہے۔ لیکن ابھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت کی کامیابی ہے۔ رانا ثناء اللہ کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ حکومت اور بالخصوص رانا ثناء اللہ نے عمران خان اور ان کے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے تک اس قدر تھکا دیا تھا کہ اب وہاں پہنچ کر بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ عمران خان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ 2014 نہیں ہے۔ کسی نے ڈی چوک پر خالی کنٹینر نہیں رکھنے دینا بلکہ خالی کنٹینر سمیت انھیں بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

اب پہلے کی طرح ڈی چوک پر کوئی ڈی جے پارٹیاں نہیں ہو سکتیں بلکہ حکومت سے ہر لمحہ مزاحمت کا سامنا رہنا ہے۔ انھیں یہ بھی اندازہ ہونا تھا کہ ان کے بچاؤ کے لیے بھی کسی نے نہیں آنا۔ وہ نیوٹرل کو اس قدر ناراض کر چکے ہیں، وہ بھی ان کو بچانے کے لیے نہیں آئیں گے۔ اس لیے یہ لڑائی انھیں اپنے زور بازو پر ہی لڑنی ہے۔ جو اس سے زیادہ نہیں لڑی جا سکتی تھی۔

ریڈ زون میں فوج کی تعیناتی بھی عمران خان کے لیے پیغام تھا کہ اگر وہ ڈی چوک بیٹھ بھی جاتے ہیں تو اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آگے فوج ہوگی اور پیچھے پولیس ہوگی۔ اگر پولیس شیلنگ کرے گی ،ان کے لوگ گرفتار کرے گی تب بھی وہ آگے نہیں جا سکیں گے کیونکہ آگے فوج ہے۔ اس بار انھیں پارلیمنٹ کا دروازہ بند کرنے اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ وزیر اعظم کے گھر تک بھی نہیں جا سکیں گے۔

بلکہ وہ ڈی چوک میں پولیس اور فوج کے حصار میں پھنس جائیں گے۔ ایسے میں ایک لمبے عرصے تک لوگوں کو وہاں بٹھائے رکھنے کی طاقت اب عمران خان میں نہیں تھی۔ اب وہاں وہ سب سہولیات ملنا ممکن نہیں تھا جو 2014میں مل گئی تھیں۔ نہ باتھ روم بن سکتے تھے ۔ نہ ٹینٹ لگ سکتے تھے۔ نہ دیگر سہولیات مل سکتی تھیں۔ اس لیے لوگوں کو دھرنے میں بٹھا بھی لیا جاتا تو لوگ زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ ان کو بھی انھیں مسائل کا سامنا تھا جو ان کے مخالفین کو ان کے دور میں رہتا تھا۔

اس بار عمران خان کے لیے لوگوں کی تعداد بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ میں یہ نہیں کہ رہا کہ لوگ نہیں تھے لیکن لوگ لاکھوں اور ہزاروں میں نہیں تھے۔ جتنے لوگ ساتھ چلے تھے زیادہ تعداد مزاحمت دیکھتے ہوئے واپس بھی چلی گئی۔ پنجاب سے بھی لوگوں کو نہیں آنے دیا گیا۔

ایک مزاحتمی ماحول میں جب آنسو گیس اور شیلنگ جاری ہو،گرفتاریاں بھی ہو رہی ہوں۔ مزید لوگوں کے لیے باہر آنا بھی آسان نہیں تھا۔ اس لیے عمران خان اگر دھرنا دیتے اور لوگوں کی تعداد کم ہوتی تو رہا سہا بھرم بھی ختم ہوجاتا۔اس بار انھیں وہ سہولت بھی حاصل نہیں تھی کہ خالی کرسیاں چینلز پر نہ دکھائی جائیں۔ اس بار کیمروں کو عوا م کی تعداد دکھانے کی مکمل آزادی تھی۔ اس لیے گھر جانے میں ہی عافیت تھی۔

ڈی چوک سے گھر جانے کا اعلان عمران خان کی سیاسی شکست ہے۔ دوبارہ اتنی بڑی ایکسرسائز کرنا ان کے لیے مشکل ہوگا۔ اس ناکامی نے ان کے ووٹر اور سپورٹر کو نا امید بھی کیا ہے۔ لوگوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ اس طرح حکومت نہیں گرائی جاسکتی بلکہ مار بہت پڑتی ہے۔ وہ کتنی بار اپنے سپورٹر اور ورکر کو اس امتحان میں ڈال سکتے ہیں۔ لوگوں کے لیے بھی بار بار مار کھانا ممکن نہیں ہوتا۔ دوبارہ یہ سب کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے یہ شکست ہے۔

عمران خان کے حامیوں سے جب پوچھا گیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ محمود غزنوی نے بھی سومنات کے مندر پر سترہ حملہ کیے تھے۔ عمران خان بھی اسلام آباد پر سترہ حملے کریں گے۔ لیکن محمود غزنوی نے سارے حملے سومنات پر نہیں کیے تھے، پہلا حملہ پشاور پر کیا تھا، اور پھر کسی کو پتہ ہے کہ محمود غزنوی کے لشکر پر رات کے وقت خطہ پوٹھوہار میں شب خون مار مقامی قبائل نے سارا مال غنیمت لوٹ لیا تھا اور وہ متعدد فوجی مروا کر خالی ہاتھ غزنی پہنچا تھا اور یہی کچھ ابدالی کے لشکر کے ساتھ ہوا تھا۔

کیا عمران خان کے لیے ہر ایک ناکامی کے بعد بار بار اسلام آباد پر حملہ کرنا ممکن ہوگا۔ کیا انھیں ہر دفعہ تازہ دم فورس دستیاب ہوگی۔ کہاں سے لائیں گے وہ نئے تازہ دم لوگ۔ جو لوگ گرفتار ہو ئے ہیں، انھیں رہا ہوتے کئی دن لگ جائیں گے۔

جو شیلنگ کا شکار ہوئے ہیں، انھیں بھی صحتیاب ہوتے چھ دن لگ جائیں گے۔ جن کی گاڑیاں ٹوٹی ہیں، ان کے لیے بھی انھیں ٹھیک کرانے میں چھ دن سے زیادہ لگ جائیں گے۔ جن کو چوٹ لگی ہے انھیں بھی تندرست ہوتے کئی دن لگ جائیں گے۔ اس لیے چھ دن بعد دوبارہ ممکن نہیں ہے۔ محمود غزنوی کے سترہ حملوں کی یکطرفہ تاریخ کو ذرا غور سے پڑھ لیں ، پھر کوئی فیصلہ کریں۔ وہ شاید اس بار بھی غلطی کر گئے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے یک دم مارچ ختم کرنے سے حکومت سیاسی طور مضبوط ہوئی ہے۔ حکومت کی رٹ ثابت ہوئی ہے۔ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حکومت کی نظام حکومت پر مکمل رٹ مضبوط ہے۔ پولیس بیوروکریسی حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

ورنہ 2014 میں تو پولیس ان کی بات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھی۔ پولیس عمران خان کو ریڈ زون میں روکنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ عمران خان کے مقابلے میں حکومے مفلوج اور لاغر نظر آرہی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ تا ہم اس بار تو ایسا نہیں تھا پھر حکومت کیسے گر سکتی ہے۔ اس لیے بہر حال حکومت کو اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خاص طور پر اس کا فائدہ ہوا ہے۔ اگر عمران خان کی شکست ہے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی فتح ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ اب عمران خان کیا کریں گے۔ ان کے پاس واحد آپشن ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں وپی کے راستے تلاش کریں۔ لیکن یہ بھی ان کے لیے ایک زہر کا پیالہ ہی ہوگا۔ اس مارچ کی ناکامی کے بعد وہ بھی ایکا ور شکست ہی ہوگی۔

اس بار انھیں وہ سہولت بھی میسر نہیں کہ دھرنے کے ناکامی کے بعد ان کی پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے سہولت کاری کی جائے اور راہ ہموار کی جائے۔ اگر انھیں نے یہ فیصلہ بھی کرنا ہے تو جیسے خود ہی مارچ کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔ ایسے خود ہی پارلیمنٹ میں واپسی کا اعلان بھی کرنا ہوگا۔ اس کی سیاسی قیمت بھی چکانی ہوگی ۔

ہم کہ سکتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عمران خان کے درمیان پہلا راؤنڈ ن لیگ جیت گئی ہے۔ یہ جیت انھیں حکومت کرنے کا حوصلہ دے گی۔ ویسے تو مارچ کے اعلان نے ہی انھیں مدت پوری کرنے کا حوصلہ دیا۔ کہ اب نہیں جانا۔ لیکن مارچ کی ناکامی مزید حوصلہ دے گی۔ ناامیدیاں ختم ہونگی۔ عمران خان کی جانب سے ڈیڈ لائن کا کھیل اس حکومت کو کھڑا رہنے میں مدد دے گا۔ وہ ہر ڈیڈ لائن کے ساتھ قائم رہنے کا عزم کرے گی۔

اس ئے جہاں مارچ کا خاتمہ ایک شکست ہے وہاں دوبارہ ڈیڈ لائن دینا بھی ایکا ور شکست کی تیاری ہے۔ اب اگر شھی بعد الیکشن کا اعلان نہ ہوا تو کیا ہوگا۔ عمران خان کے پاس دن بدن آپشن محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن انھیں کون سمجھائے گا کہ یہ 2014نہیں ہے۔ شاید کچھ سمجھ آگئی ہوگی باقی آجائے گی۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …