بدھ , 6 جولائی 2022

درآمدات پر پابندی

تحریر: علی احمد ڈھلوں

قومی معیشت تاریخ کے اس سنگین ترین موڑ پر کھڑی ہے، جہاں سے نجات پانے کے لیے انتہائی اقدامات اُٹھانا ناصرف مجبوری ہے بلکہ اس کے بغیر گزارہ بھی ممکن نہیں ہے۔

حد تو یہ ہے کہ معیشت کو ٹھیک کرنے والوں کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں، اور پھر نہلے پر دہلا یہ کہ ایک سیاسی پارٹی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا، اور حکومت نے اسے بزور طاقت روکنے کا عندیہ دے دیا۔

خدشہ ہے کہ ملک مزید سیاسی و معاشی عدم استحکام کی طرف جائے گا۔ لیکن یہاں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جہاں پہلے ہی غیر یقینی کی صورتحال ہے وہاں جلدی میں… موقع پرستی کی وجہ سے …نیت میں کھوٹ کی وجہ سے …مافیاؤں کے ساتھ میل ملاپ کرکے … مخالفین کو دبانے کے لیے یا سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے ایسے فیصلے کر دیے جاتے ہیں جو انتہائی غیر مناسب ہوتے ہیںاور ملک کو مزید تباہی کی جانب لے جاتے ہیں۔
جیسے حال ہی میں حکومت نے مختلف 41 قسم کی ’’لگژری ‘‘ آئٹمز کی درآمدات پر فوری پابندی لگا دی۔ ان آئٹمز میں کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں ،موبائل فون کے علاوہ جیم اور جیولری، لیدر، چاکلیٹ اور جوسز، سگریٹ کی درآمد پر پابندی کے ساتھ ساتھ ہی امپورٹڈ کنفیکشنری، کراکری کی امپورٹ فرنیچر، فش اور فروزن فوڈ کی امپورٹ، ڈرائی فروٹ، میک اپ ، ٹشو پیپرز اور دیگرز کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اب یہ فیصلہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی اسٹیک ہولڈر کو شامل کے کیا گیا ہے، جسے عام اصطلاح میں ہم ’’فوری‘‘ فیصلہ بھی کہتے ہیں! لہٰذا اس کے اثرات ملاحظہ فرمائیں کہ جب ’’فوری‘‘ پابندی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔

مثلاََ اب امپورٹڈ میک اپ پر پابندی لگی ہے تو آپ کسی بھی میک اپ آرٹسٹ سے بات کرکے دیکھیں۔جو میک اپ اُنہیں 2000روپے میں مارکیٹ سے آسانی سے دستیاب تھا وہ اُنہیں فوری طور پر ’’بلیک‘‘ میں 3ہزار روپے میں ملے گا۔ یا مقامی طور پر تیار کر دہ ناقص اور غیر معیاری میک اپ اب پابندیاں لگنے کے بعد ’’فوری‘‘ طور پر اُسی قیمت میں چلا جائے گا جس قیمت میں امپورٹڈ دستیاب تھا، اس سے فائدہ کس کو ہوا؟ اُنہی چند خاندانوں کو جن کی سیکڑوں کی تعداد میں کمپنیاں ہیں۔ اور جو ملک کو پہلے ہی چلا رہے ہیں۔

پھر آپ گاڑیوں کی مثال لے لیں، جو گاڑیاں 10لاکھ روپے اون پر تھیں، پابندی لگنے سے ’’فوری‘‘ طور پر 15لاکھ روپے اون پر چلی گئیں۔ اور جو گاڑیاں مقامی طور پر اسمبل کی جاتی ہیں اُن کی قیمتیں بھی ’’آٹو میٹکلی‘‘اوپر چلی گئیں۔ مطلب جب آپ ’’لگژری آئیٹمز‘‘ پر پابندی لگاتے ہیں تو پاکستانی پراڈکٹ پھر اُس قیمت پر چلی جاتی ہے، اور پھر فائدہ عوام کو ہونے کے بجائے چند خاندان اُٹھالیتے ہیں… کیسے؟ اس سلسلے میں میری ایک دوست تاجر سے بات ہوئی۔

اُس نے کہا کہ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ریاست جب سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتی ہے تو پھر’’ تھرڈ پارٹی‘‘ فائدہ اُٹھاتی ہے، وہ کیسے؟ وہ اس طرح کہ وہ حکومت کو جلدبازی میں ایسے سبز باغ دکھاتی ہے کہ جس سے حکومتی عہدیداروں کا ذاتی فائدہ بھی ہوتا ہے اور عوام کا بھی آٹے میں نمک کے برابر فائدہ نظر آتا ہے۔ جیسے موجودہ حکومت کے سابقہ ادوار میں کئی مرتبہ امپورٹڈ گاڑیوں پر سے ڈیوٹی فیس ہٹا دی گئی۔

حکومتی عہدیداروں اور چند خاندانوں نے ہزاروں گاڑیاں ’’حسب ضرورت‘‘ باہر سے منگوا لیں۔ جب یہ گاڑیاں کراچی پورٹ سے کلیئر ہوئیں تو ’’فوری‘‘ طور پر دوبارہ ڈیوٹی فیس لگا دی گئی۔ مطلب ہمارے ہاں ’’فوری‘‘ فیصلے ملک کو ڈبونے کے لیے کافی ہیں۔ اور یہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا ہے، آپ 1993سے لے کر 2022 تک کے ان کے ادوار نکال لیں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ مطلب بغیر سوچے سمجھے فیصلے ہمیشہ ان سیاسی خاندانوں کی حکومت میں آپکو نمایاں نظر آئیں گے، جس میں ملکی فائدہ کم اور ذاتی پھرتیاں زیادہ نظر آئیں گی۔

اور پھر ان لوگوں کواس قسم کے فیصلے لیتے ہوئے تاجر برادری سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کیا سوچیں گے؟ کیا کریں گے؟ اُنہوں نے جو آرڈر لے رکھے ہیںاُن کا کیا ہوگا؟ اور پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ جن اشیاکی درآمد پر پاپندی لگائی گئی ہے وہ مجموعی درآمدات کا صرف %1.5 حصہ ہیں۔ مطلب 98.5فیصد درآمدات ابھی بھی پاکستان میں ہورہی ہیں۔ ایسے مصنوعی اقدامات سے معیشت نہیں سنبھلتی بلکہ منڈیوں میں بحران آجاتا ہے۔

حالانکہ ہماری 50 فیصد سے زائد درآمدات تو تیل و گیس کی صورت میں ہے جس پر نہ تو کنٹرول کرنے کی بات ہوتی ہے اور نہ ہی گیس سے بجلی پیداکرنے والے بڑے بڑے پلانٹس کو بند کرنے کی بات ہوتی ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …