بدھ , 6 جولائی 2022

کوہِ سلیمان کے جنگلات قیامت خیز شعلوں کی لپیٹ میں!

تحریر: محمد حسین ہنرمل

کوہِ سلیمان مقامی پشتون قبائل میں ‘قیسا غر’ کے نام سے معروف ہے۔ یہ دراصل کوہِ ہندوکش کے جنوب سے شروع ہونے والا وہ طویل پہاڑی سلسلہ ہے جو خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے نوزائیدہ ضلع شیرانی، ژوب اور موسٰی خیل سے ہوتا ہوا جیکب آباد تک جاتا ہے۔ وہاں سے یہ ایران کے مشرق میں واقع سطح مرتفع پر ختم ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف اس مشہور پہاڑی سلسلے کی کچھ جزوی کڑیاں افغانستان کے علاقوں پکتیا، زابل اور قندہار تک بھی جاتی ہیں۔

قدرتی حُسن سے مالا مال اس شاہکار پہاڑی سلسلے کا جو علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان، شیرانی اور ژوب میں پڑتا ہے وہاں نہ صرف چلغوزے کے قیمتی درختوں کے سب سے بڑے جنگلات موجود ہیں بلکہ یہ سلیمانی مارخور، ہرن، تیندوے اور کئی دیگر نایاب ہوتے جانوروں کا مسکن بھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی ایک سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ ’لگ بھگ 64 ہزار 247 ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ وسیع جنگل ہر سال 705 امریکی ٹن یعنی تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار کلوگرام چلغوزے پیدا کرتا ہے’۔

دل کو بھانے والے یہ خوبصورت جنگلات جہاں ایک طرف ماحول کو صاف رکھنے اور ایکو سسٹم کے لیے مددگار ثابت ہورہے ہیں تو دوسری طرف اس سے ہزاروں افراد کا معاش بھی وابستہ ہے۔‎

ان جنگلات میں وقتاً فوقتاً مارخور (جسے سلیمانی مارخور کہا جاتا ہے) اور تیندوے دیکھے گئے ہیں جن کی نسل اب تقریباً ناپید ہوتی جارہی ہے۔ تخت سلیمان کہلائی جانے والی اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی بھی یہیں پر واقع ہے جس کی بلندی 11 ہزار 440 فٹ بتائی جاتی ہے۔ ناجانے قدرت کے اس شاہکار پہاڑ کو کس کی نظر لگ گئی کہ اس کے دامن میں 15 دنوں سے لگی ہوئی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ سوشل میڈیا پر موجود تصاویر بتارہی ہیں کہ یہاں پر قدرتی حُسن خاکستر ہوگیا ہے اور زیتون کے قیمتی جنگلات کو شاید اب پھر سے لہلہانے کا موقع نہ مل سکے۔

آگ لگنے کی وجہ
درازندہ میں مقیم لکھاری اطلس خان شیرانی کے مطابق ’چلغوزے کے ان جنگلات میں پہلی دفعہ آگ دہانہ سر کے قریب رواں مہینے کی 8 تاریخ کو دیکھی گئی تھی جو آہستہ آہستہ شیرانی کے سرحدی علاقے زمری (موسٰی خیل) کے پہاڑوں تک پہنچنے کے بعد واپس تور غر اور بابوزی غر کی طرف پلٹ گئی۔ یہ آگ بجھی نہیں تھی کہ ایک دوسری آگ ‘قمرہ’ پہاڑی پر نمودار ہوئی جسے مقامی دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجھا دیا۔ تیسری آگ زیہی کی پہاڑی میں لگی جو بعد میں شاہل اور ترکئی تک پھیل کر اس وقت 50 کلومیٹر کے قریب جنگلی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے‘۔

اگرچہ اطلس خان شیرانی نے آگ لگنے کی بنیادی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا تاہم اس بارے میں متضاد دعوے سننے کو مل رہے ہیں۔ صوبائی محکمہ جنگلات کے سیکریٹری دوستین جمالدینی کے مطابق ’آگ لگنے کی بنیادی وجہ آسمانی بجلی تھی جبکہ ضلع شیرانی کے فاریسٹ آفیسر عتیق الرحمن کا دعویٰ ہے کہ بظاہر یہ آگ مقامی لوگوں نے اپنے باہمی تنازعات کے باعث لگائی ہے‘۔

آگ کی شدت اور بلند ہوتے شعلوں کے بارے میں جب بھی وہاں کے مقامی لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کی زبان سے ابتدائی الفاظ ‘الامان الحفیظ’ ادا ہوتے ہیں۔ ان عینی شاہدوں میں 60، 70 سال کی عمر کے افراد بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں زندگی میں پہلی مرتبہ ایسی ہولناک آگ دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ لوگ آگ کی شدت کی بنیادی وجہ چلغوزے کے درخت کی منفرد خاصیت یعنی تیل نما چکناہٹ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے سالہا سال سے پڑے خشک درختوں کی بہتات بھی آگ کو اپنی طرف دعوت دے رہی ہے جبکہ وہاں پر چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو بھڑکا رہی ہیں۔

حکومتی سردمہری
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کوہِ سلیمان کے ان قیمتی جنگلات میں بپا ہونے والے قیامت خیز حادثے کو بڑی آسانی سے ٹالا جاسکتا تھا اگر جنگلات کا متعلقہ ادارہ یا صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بروقت اپنے اپنے حصے کا کام کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے قدرتی آفات سے نمٹنے کا مذکورہ ادارہ اس وقت متحرک ہوا جب پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔

مقامی لوگوں اور سماجی تحریکوں سے وابستہ نوجوانوں کی دیوانہ وار فریاد اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے کی برکت سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے تقریباً 8 روز بعد حادثے کا نوٹس تو لے لیا لیکن آگ بجھانے کے وسائل پھر بھی فراہم نہیں کیے گئے۔ بعد میں جب کور کمانڈر بلوچستان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے متعلقہ اداروں کو 2، 3 فائرفائٹر ہیلی کاپٹر فراہم کرکے آگ بجھانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔

آگ کی شدت کا ہم نے پہلے بھی ذکر کیا اور اس شدت کی وجہ سے ہی فضا سے پانی چھڑکنے کے باوجود ان ہولناک شعلوں میں کمی نہیں آئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مذکورہ آگ (جو تادمِ تحریر بڑھتی ہی جارہی ہے) نے تقریباً 40 کلومیٹر سے زیادہ جنگلی علاقے کو راکھ کردیا ہے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ حکومتی سرمہری کو بھانپ کر وہاں کے مقامی لوگ بھی روایتی طریقوں سے آگ کو قابو کرنے کے لیے آگے بڑھے اور ان میں سے جن میں 3 افراد بُری طرح جھلس کر اپنی جانیں کھو بیٹھے جبکہ 3 دیگر افراد کو زخمی حالت میں ریسکیو کرکے اسپتال پہنچایا گیا۔

جب بات آگے بڑھی تو وزیرِاعظم میاں شہباز شریف نے حادثے کا نوٹس لے لیا اور بلوچستان سے وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات مولانا عبدالواسع کو فوکل پرسن مقرر کردیا جنہوں نے ہفتے کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس، چیف سیکریٹری بلوچستان اور اعلیٰ فوجی حکام کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا فضائی دورہ کیا۔ اس حادثے سے متعلق وزیرِاعظم کی صدارت اتوار کو ویڈیو لنک کے ذریعے فوکل پرسن، وزیرِاعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر کے ساتھ ایک اجلاس کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں طے پایا کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر ہمسایہ ملک ایران آگ بجھانے کے لیے جہاز فراہم کرے گا جو اتوار سے آپریشن شروع کرے گا۔

جنگلات کے تحفظ کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی
یہ بات اب ٹھوس حقیقت بن چکی ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مہلک خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ان خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے موجودہ جنگلات کا تحفظ اور مزید درخت لگانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی یہ در آئی ہے کہ نہ تو ریاستی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں ہورہی ہیں اور نہ ہی عوام میں ماحول کو شفاف بنانے کے لیے شعور و آگہی پھیلانے کی زحمت کی جاتی ہے۔

حال ہی میں جرمن واچ کے گلوبل کلائمیٹ انڈیکس میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ملکوں کی فہرست میں 8ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ موسمیاتی تغیرات نہ صرف غیر مرئی نقصانات مثلاً کاربن کے اخراج اور حدت میں اضافے اور آکسیجن میں بدستور کمی کا باعث بن رہے ہیں جس سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں بلکہ ان تغیرات کے باعث پہلے ہی سے وینٹی لیٹر پر پڑے ہمارے جی ڈی پی کو سیلابوں اور مون سون بارشوں کی شدت کی صورت میں متاثر کررہا ہے۔ ان تمام خطرات سے نمٹنے کا واحد حل یہی ہے کہ حکومت موجودہ جنگلات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور ملک میں ہنگامی بنیادوں پر اربوں درخت لگانے کے لیے کام کا آغاز کرے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …