بدھ , 6 جولائی 2022

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، دہشت گرد گروہوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی نئی پابندیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی سرکاری اور قانونی مسلح افواج بالخصوص پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس خطے میں دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کے لیے ہمیشہ ایک ڈراؤنا خواب رہی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ امریکی انتظامیہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے طور پر ان گروہوں کی حمایت اور تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے کئی سال پہلے سے ایرانی عوام اور سپاہ پاسداران کے خلاف غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور شہید جنرل قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کے دور صدارت میں شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اپنے ابتدائی فریب پر مبنی تبصروں کے باوجود انتہائی ناکام پالیسی کو برقرار رکھا ہے، حالیہ اقدام امریکی حکومت کی ایرانی عوام کے تئیں بیمار ذہنیت کی خواہش اور انتہائی زیادہ دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھنے کی جانب ایک اور اشارہ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے،اور ان کا مقصد ایرانی عوام کو تکلیف پہنچانے اور خطے میں افراتفری پھیلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

سعید خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا ایرانی عوام اور حکومت کے اپنے بلند اہداف بشمول خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کے مطابق اس طرح کے اقدام کا مناسب مقابلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ اس نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورسز کی قیادت میں (بقول خود کے) تیل کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے قدس بریگیڈ اور حزب اللہِ لبنان کو لاکھوں ڈالر کے ایرانی تیل کی فروخت سے وسائل فراہم کیے تھے اور اُس نے ایرانی تیل کے وسائل کی فروخت میں ایک کلیدی عنصر کے طور پر کام کیا ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے ویانا مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تو ایران کیخلاف امریکہ کی نئی پابندیاں؛ ایک مخاصمانہ اقدام ہے جو ویانا مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت کی تاریخ مقرر

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت کے لیے 21 جولائی کی تاریخ …