اتوار , 25 ستمبر 2022

عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سامنے آ گئی

غیر ملکی میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی مہنگائی کا ایک اور طوفان آنے کو ہے، سمندری راستوں پر روسی قبضے کے باعث یوکرین کی زرعی اجناس عالمی مارکیٹ تک نہیں پہنچ پائی جس کے باعث کئی ممالک کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوکرین اپنی زرعی اجناس عالمی منڈی تک پہنچانے سے قاصر ہے، مہنگائی کا نیا طوفان کئی ممالک کے دروازے پر دستک دینے لگا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق یوکرین کے پاس 2 کروڑ ٹن اجناس کا ذخیرہ ہے، لبنان اپنی گندم کا 80 فیصد یوکرین سے درآمد کرتا ہے، ہندوستان خوردنی تیل کا 76 فیصد اور پاکستان گندم کا اڑتالیس فیصد یوکرین سے درآمد کرتا ہے، ایتھوپیا، یمن اور افغانستان کو خوراک مہیا کرنے کے لیے اقوام متحدہ 40 فیصد گندم یوکرین سے لیتا ہے، لیکن روسی حملے کے بعد یہ سب تعطل کا شکار ہو گیا۔

ڈبلیو ایف پی کے سربراہ نے عالمی برادری سے یوکرین کی ناکہ بندی توڑنے کا مطالبہ کردیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے اور سمندری راستے کو دوبارہ محفوظ بنانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی میں امریکہ براہ راست ملوث ہے اس لئے کہ امریکہ کے کہنے پر ہی یوکرین نے روس کو مشتعل کیا اور دنیا کو ایک اقتصادی بحران سے دوچار کردیا۔

یہ بھی دیکھیں

دشمن نیویارک میں ایرانی قوم کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا:ایرانی صدر

تہران:ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ دشمنوں نے سرتوڑ کوشش کی …