بدھ , 28 ستمبر 2022

روس نے غذائی بحران کو ایک اسلحے کے طور پر استعمال کرنے پر مبنی مغربی الزام کو مستردکردیا

روس نے غذائی بحران کو ایک اسلحے کے طور پر استعمال کرنے پر مبنی مغربی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خود مغربی ممالک کی اقتصادی پالیسیاں اور روس کے خلاف انکی عائد کردہ پابندیاں دنیا میں غذائی بحران اور اشیائے خور و نوش میں اضافےکا سبب بنی ہیں۔

مغربی ممالک نے ایسے عالم میں روس کو غذائی بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر اولاف چولتس سے ٹیلیفونی گفتگو میں یہ اعلان کیا تھا کہ ماسکو بغیر کسی رکاوٹ کے غلے مخصوصاً یوکرینی غلے کی برآمدات میں مدد کے لئے آمادہ ہے۔

پوتین کے اس موقف کے بعد ماہرین کا کہنا ہے یہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ کو لے کر عالمی سطح پر موجود کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ ماسکو اگر کھاد اور اپنی زرعی پیداوار کی برآمدات کو بڑھا دے تو اس سے زراعت کی بین الاقوامی منڈی میں جاری کشیدگی میں کمی آسکتی ہے تاہم اسکے لئے ماسکو کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روس یوکرینی غلات کی برآمدات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یوکرین دنیا میں غلات برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک سمجھا جاتا ہے

یہ بھی دیکھیں

بی بی سی کی کارستانیاں

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) ملکہ برطانیہ کی موت کے بعد ہم نے میڈیا اور …