جمعہ , 7 اکتوبر 2022

عمران خان نے سیاستدانوں کے مقدمات کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ جج کی تقرری کا مطالبہ کردیا

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرائم منسٹر فرینڈلی پراسیکیوشن کے ذریعے ریکارڈ میں ردوبدل کرکے اپنے اور اپنےاہلِ خانہ کی منی لانڈرنگ کے مقدمات میں مداخلت کی کوششیں کررہے ہیں۔

ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے مقدمے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی غرض سے ضمنی ریفرنس داخل کرنے کی آڑ میں کرائم منسٹر کی ایماء پر مقدمے کا چالان واپس لے چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے یہ کہہ کر کہ مقدمے کے اسپیشل پراسیکیوٹرز کو عدم حاضری کی بنیاد پر فارغ کیا گیا، عدالتِ عظمیٰ کے روبرو پوری ڈھٹائی سے سفید جھوٹ بولا گیا حالانکہ اسپیشل پراسیکیوٹرز ایف آئی اے عدالت میں مقدمے کی تمام تاریخوں پر موجود تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ معاملے کا ازخود نوٹس لے اور سیاستدانوں کے تمام بڑے مقدمات کی نگرانی کیلئے ایک مانیٹرنگ جج کی تقرری کے ذریعے مقدمات پر شفاف کارروائی یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ 5 ماہ گزر جانے کے باوجود بھی اب تک ایف آئی اے عدالت چارجز فریم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ کیفیت ظاہر کرتی ہےکہ بڑےچور کیسے نظام سےکھیلتے اور اس سے فائدہ اٹھاتےہیں۔

منی لانڈرنگ کیس: عدالت نے شہباز شریف کی حاضری سے معافی کی درخواست منظور کرلی

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیب ترمیمی قانون دراصل ایک این آر او ہے جو مستقبل میں پاکستان میں بدعنوانی کے انسداد کی مہم کو تباہ کر کے رکھ دے گا جبکہ نواز،شہباز اور زرداری کیخلاف تمام مقدمات ختم کردیے جائیں گے اور بڑی لوٹ مار کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوگا

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں غربت کی شرح میں 2.5 فیصد سے 4 فیصد اضافے کا خدشہ،رپورٹ

لندن:عالمی بینک نے سیلاب سے پاکستانی معیشت کو 40 ارب ڈالر تک نقصانات کا تخمینہ …