بدھ , 28 ستمبر 2022

تیل کے بحران کے بارے میں عالمی ایجنسی کا انتباہ

سن انیس سو تہتر کے بحران میں اوپک کے عرب رکن ملکوں نے جنگ رمضان میں اسرائیل کے حامی ملکوں کے خلاف تادیبی کاروائی کے طور پر ان ممالک کو تیل کی برآمدات روک دی تھی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ایگزکٹیو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مختلف وجوہات کی بناء پر یورپ کو تیل کی فراہمی اور اس کی بڑھتی قیمتوں کے تعلق سے سن ستر کے عشرے سے کہیں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپ و امریکہ میں موسم گرما کے آغاز اور بجلی کا استعمال بڑھنے کی بنا پر ایندھن کی ضرورت بڑھ جائے گی جس کی بنا پر اس ضرورت کو پورا کرنے میں یورپ و امریکہ کو بہت بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسم گرما میں تیل کی منڈیوں کی صورت حال کشیدہ بنی رہے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تیل سے یورپ کی وابستگی ان کے مسائل و مشکلات میں اضافے کی ایک وجہ شمار ہوتی ہے

یہ بھی دیکھیں

بی بی سی کی کارستانیاں

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) ملکہ برطانیہ کی موت کے بعد ہم نے میڈیا اور …